صہیونی فورسز کا جنون کم نہ ہو سکا، اسرائیل کے نہتے فلسطینیوں پر حملے جاری ہیں، بمباری سے مزید 63 فلسطینی ہلاک اور 156 زخمی ہو گئے ۔
ٹرمپ کے سیز فائر اعلان کے باوجود دہشت گرد اسرائیل نے اپنے وحشیانہ حملے جاری رکھے ہیں، غزہ حکام نے گزشتہ 48 گھنٹوں میں 131 اسرائیلی حملوں کی اطلاع دی ہے ، غزہ کے سرکاری میڈیا آفس کے مطابق ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل سے بمباری کی مہم بند کرنے کے مطالبے کے باوجود اسرائیلی فوج نے گزشتہ 2 دنوں کے دوران پٹی میں کم از کم 94 فلسطینیوں کو جانوں سے محروم کر دیا ہے ۔
ہفتے کی صبح سے اتوار کے دن کے اختتام تک کم از کم 131 اسرائیلی فضائی اور توپ خانے کے حملوں میں گنجان آباد شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا اور غزہ شہر میں بے گھر فلسطینیوں سمیت 63 افراد مارے گئے ۔
دوسری طرف غذائی قلت کے باعث مزید ایک فلسطینی جان کی بازی ہار گیا، ادھر اسرائیل نے فلسطینی فٹبال فیڈریشن کے ہیڈ کوارٹرز پر حملہ کیا جس کے باعث متعدد افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
غزہ میں شہدا کی مجموعی تعداد 67 ہزار 139 تک پہنچ گئی، ایک لاکھ 69 ہزار 583 فلسطینی زخمی ہو چکے ہیں۔
واضح رہے کہ دوسری طرف حماس، اسرائیل اور امریکی وفود آج مصر کے شہر شرم الشیخ میں مذاکرات کریں گے ، مذاکرات کا محور صدر ٹرمپ کا 20 نکاتی امن منصوبہ ہوگا، اسرائیلی وفد مذاکرات کے لیے مصر پہنچ گیا ہے ۔ امریکی صدر ٹرمپ کے داماد جیراڈ کشنر اور خصوصی ایلچی اسٹیووٹکوف امریکا کی نمائندگی کریں گے ، بالواسطہ مذاکرات کے لیے حماس کے وفد کی آمد بھی متوقع ہے ۔
اس دوران حماس نے عالمی نگرانی میں غزہ میں ہتھیار ڈالنے کی خبروں کی تردید کردی ہے ۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق حماس نے غیر ملکی میڈیا میں گردش کرنے والی اُن خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ تنظیم نے اپنے ہتھیار ڈالنے پر رضامندی ظاہر کردی ہے ۔
ترجمان حماس محمود مداوی کا کہنا ہے کہ یہ خبریں بے بنیاد اور گمراہ کن ہیں، مزاحمت جاری رہے گی اور حماس اپنی عوام اور سرزمین کے دفاع کے عزم پر قائم ہے ۔
دشمن پروپیگنڈے کے ذریعے حوصلے پست کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن فلسطینی عوام جانتے ہیں کہ آزادی کی جدوجہد ابھی ختم نہیں ہوئی۔
دوسری جانب اسرائیلی آرمی چیف نے کہا ہے کہ جنگ بندی نہیں بلکہ آپریشنل صورتحال میں تبدیلی آئی ہے ۔
آرمی چیف ایال زامیر نے غزہ کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کے لیے بنائے گئے نیٹزارم کوریڈور کے مغربی مقام کے اندر تعینات اسرائیلی زمینی دستوں کا دورہ کیا۔







