سرینگر/۶؍اکتوبر
جموں و کشمیر سے الگ ہونے کے بعد یونین ٹیریٹری لداخ میں انتظامیہ نے پیر کو دعویٰ کیا کہ خطہ مکمل طور پر پْرامن ہے اور اسکول، دفاتر اور بازار کھل چکے ہیں، تاہم لیہ اپیکس باڈی (ایل اے بی) نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حالات ہرگز معمول پر نہیں آئے اور عوام کے اعتماد کی بحالی کے لیے تمام پابندیاں ہٹا کر گرفتار افراد کو فوراً رہا کیا جائے۔
ایل اے بی کے شریک چیئرمین چیَرِنگ دورجے نے پریس کانفرنس میں کہا، ’’دباؤ ڈال کر معمول کی حالت پیدا نہیں کی جا سکتی… جو کچھ ظاہری طور پر معمول دکھائی دے رہا ہے، وہ محض ایک فریب ہے۔‘‘انہوں نے الزام لگایا کہ ’’اجتماعی گرفتاریوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔‘‘
لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر کویندر گپتا نے پیر کو یونین ٹیریٹری کی سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا۔
خیال رہے کہ۲۴ ستمبر کو لہیہ میں ریاستی درجہ اور آئین کے چھٹے شیڈول کے تحت تحفظات کے مطالبے پر ایل اے بی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس (کے ڈی اے) کی قیادت میں ہونے والے احتجاج کے دوران تشدد بھڑک اٹھا تھا، جس میں چار افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔ اس کے بعد کرفیو نافذ کر کے موبائل انٹرنیٹ خدمات معطل کر دی گئی تھیں۔
یکم اکتوبر سے کرفیو میں بتدریج نرمی دی گئی اور ۳؍ اکتوبر سے آٹھویں جماعت تک کے اسکول دوبارہ کھول دیے گئے، تاہم پانچ یا زیادہ افراد کے اجتماع پر پابندی بدستور عائد ہے، انٹرنیٹ بند ہے اور دیگر تعلیمی اداروں میں تدریسی سرگرمیاں معطل ہیں۔
ایل جی دفتر نے ایکس پر لکھا، ’’لیفٹیننٹ گورنر نے آج لداخ کی سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔ یونین ٹیریٹری پْرامن ہے، اسکول، دفاتر اور بازار کھل چکے ہیں۔‘‘
گپتا جویٔ, ستمبر کے تشدد کے بعد سے روزانہ سکیورٹی میٹنگز کی صدارت کر رہے ہیں، نے حکام کو ہدایت دی کہ وہ چوکنا رہیں اور امن و ترقی پر توجہ مرکوز رکھیں۔
دوسری طرف، پریس کانفرنس میں چیَرِنگ دورجے نے کہا کہ متاثرہ قصبے میں حالات معمول پر نہیں آئے۔انہوں نے کہا، ’’کچھ بھی معمول پر نہیں، انٹرنیٹ بند ہے اور اجتماعی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔‘‘
دورجے نے مطالبہ کیا کہ حکومت تمام پابندیاں فوری ہٹائے، گرفتار شدگان کو رہا کرے اور موبائل انٹرنیٹ بحال کرے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو۔ ’’ایسی کارروائیاں لداخ میں حقیقی امن کی بحالی کے لیے ضروری ہیں۔‘‘
انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نمبر داروں (گاؤں کے سربراہان) کو ہراساں کر رہی ہے جنہوں نے۱۰ سے ۲۴ ستمبر تک ایل اے بی کی قیادت میں دیے گئے بھوک ہڑتال کے اعلان سے عوام کو آگاہ کیا تھا۔
دورجے نے کہا، ’’یہ (نمبر دار) ہماری ثقافت کا اہم حصہ ہیں اور انہیں بلاجواز نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ہم اس اقدام کی مذمت کرتے ہیں اور اسے اپنی ثقافت پر حملہ سمجھتے ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ کمیونٹی لیڈروں کی حراست سے امن بحال نہیں ہو سکتا۔ ’’دباؤ ڈال کر معمول بحال نہیں کیا جا سکتا۔ نمبر داروں سے پوچھ گچھ ناحق ہے۔ انہوں نے کسی احتجاج کو بھڑکایا نہیں بلکہ محض اپنی ذمہ داری ادا کی۔‘‘
ایل اے بی نے اپنے مطالبات کے حق میں جاری پْرامن جدوجہد کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
اتوار کو لیفٹیننٹ گورنر نے کہا تھا کہ ان کی انتظامیہ مکمل طور پر معمول کی بحالی اور عوامی سہولتوں میں بہتری کے لیے پرعزم ہے۔
۲۴ ستمبر کے تشدد کے سلسلے میں بعض مفاد پرست عناصرکو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے لداخ کے چیف سکریٹری پون کوٹوال نے ہفتے کو کہا تھا کہ حکومت عوام کی امنگوں کو پورا کرنے کے لیے پرعزم ہے اور جلد ہی مذاکراتی عمل شروع کرنے کی خواہاں ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت ہمیشہ کھلے اور تعمیری مکالمے کی حامی رہی ہے اور عوام کی خواہشات پوری کرنے کے لیے تیار ہے۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ایل اے بی اور کے ڈی اے نے اعلان کیا کہ وہ ۶؍اکتوبر کو مرکز کے ساتھ طے شدہ ملاقات سے الگ رہیں گے جب تک ۲۴ ستمبر کے تشدد میں چار افراد کی ہلاکت کی عدالتی تحقیقات کا حکم نہیں دیا جاتا اور تمام گرفتار افراد بشمول ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کو رہا نہیں کیا جاتا۔
چیف سکریٹری نے بتایا کہ ۲۴ستمبر کے تشدد کے بعد حراست میں لیے گئے ۷۰ نوجوانوں میں سے۳۰کو رہا کر دیا گیا ہے جبکہ باقی عدالتی تحویل میں ہیں اور عدالتی احکامات کے مطابق رہا کیے جائیں گے۔انہوں نے زور دیا، ’’ہم یہ یقینی بنائیں گے کہ نوجوانوں کو کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچے اور کسی معصوم یا گمراہ شخص کو بلاوجہ ملوث نہ کیا جائے۔
(ویب ڈیسک)‘‘










