جدہ، یکم اکتوبر (یو این آئی) سعودی عرب نے مغربی کنارے کے کسی بھی حصے کو اسرائیل میں شامل کرنے کی مخالفت کا اعادہ کیا ہے ۔
سعودی ولئ عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں زہ میں تنازع کے خاتمے کے لیے امریکی صدر کے جامع منصوبے کا خیر مقدم کیا گیا۔
سعودی کابینہ نے مغربی کنارے کے کسی بھی حصے کو اسرائیل میں شامل کرنے کی مخالفت کا اعادہ کیا اور امریکہ کے ساتھ تعاون پر آمادگی ظاہر کی، تاکہ غزہ کے معاملے پر جامع معاہدے پر پہنچا جا سکے ۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ غزہ امن منصوبے پر قطر کے وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان نے کہا ہے کہ اس منصوبے کے کئی نکات وضاحت اور مذاکرات کے متقاضی ہیں، انھوں نے کہا پیر کو پیش کیا گیا پلان محض اصولوں کی فہرست ہے ، پلان کی تفصیلات پر بات چیت ہونا ابھی باقی ہے ۔
شیخ محمد نے کہا غزہ سے اسرائیلی افواج کے انخلا کے معاملے پر وضاحت درکار ہے اور اسرائیلی افواج کے انخلا پر مزید بات چیت ہونی چاہیے ، ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں فلسطینی انتظامیہ پر امریکا کے ساتھ بات چیت کی جائے گی، اس کا اسرائیل سے کوئی تعلق نہیں، منصوبے میں جنگ بندی کو ایک واضح شق کے طور پر شامل کیا گیا ہے ۔








