سرینگر/یکم اکتوبر
پولیس کا کہنا ہے کہ علیحدگی پسند اور دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیوں کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے بدھ کے روز شمالی کشمیر کے قصبہ سوپور میں جماعت اسلامی سے وابستہ افراد کے گھروں پر چھاپے مارے گئے ۔
پولیس نے کہا کہ اس دوران پولیس نے قابل اعتراض مواد بر آمد کرکے اس کو ضبط کیا جو کالعدم تنظیم سے متعلق بتایا جا رہا ہے ۔
ایک پولیس ترجمان نے بتایا کہ سوپور پولیس نے بدھ کو سوپور کے زلوڑہ علاقے میں جماعت اسلامی سے وابستہ افراد کے گھروں پر چھاپے مارے اور اس دوران قابل اعتراض مواد کو بر آمد کرکے ضبط کیا گیا۔
ترجمان نے کہا کہ پولیس کی جانب سے محمد مقبول بٹ ولد عبد الرحیم بٹ اور تنویر احمد ڈار ولد عبدالجبار ڈار کے گھروں کی تلاشی لی گئی۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں یو اے پی اے کے تحت درج ایک ایف آئی آر کے سلسلے میں عمل میں لائی گئیں۔
پولیس ترجمان نے بتایا کہ تلاشی کیلئے مجاز عدالت سے قانونی وارنٹ حاصل کئے گئے تھے اور تمام کارروائیاں مجسٹریٹوں اور آزاد گواہوں کی موجودگی میں انجام دی گئیں تاکہ شفافیت اور قانونی تقاضے پورے کئے جا سکیں۔
ترجمان نے کہا کہ دوران تلاشی ایسا مواد بر آمد ہوا ہے جس کا تعلق کالعدم تنظیم سے ہے اور اس کی بنیاد پر مزید تحقیقات جاری ہے۔
ترجمان کے مطابق یہ چھاپے سوپور پولیس کی ان مسلسل کوششوں کا حصہ ہیں جن کا مقصد علاحدگی پسند اور دہشت گرد نیٹ ورکس کو ختم کرنا اور انتہا پسند نظریات کے پھیلائو کو روکنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی خود مختاری اور عوامی امن کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
دریں اثنا جموںکشمیر پولیس نے وسطی ضلع بڈگام کے حیدر پورہ علاقے میں واقع کالعدم تنظیم تحریک حریت کے مرکزی دفتر کو غیر قانونی سر گرمیوں کے روک تھام ایکٹ ( یو اے پی اے ) کے تحت منسلک کر دیا۔
ایک پولیس ترجمان نے بتایا کہ علیحدگی پسند اور دہشت گرد نیٹ روکس کے خلاف ایک بڑی کارروائی میں بڈگام پولیس نے رحمت آباد حیدر پورہ میں واقع کالعدم تنظیم تحریک حریت کے مرکزی دفتر کو غیر قانونی سر گرمیوں کے روک تھام ایکٹ ( یو اے پی اے )۱۹۶۷کی دفعہ ۲۵کے تحت منسلک کر دیا۔
ترجمان نے کہا کہ منسلک کی گئی جائیداد ایک تین منزلہ عمارت پر مشتمل ہے جو ایک کنال ایک مرلہ اراضی زیر (خسرہ نمبر۹۴۶، کھاتہ نمبر ۳۰۶) پرقائم ہے ۔
ان کا کہنا ہے کہ اس جائیداد کو کالعدم تنظیم کے دفتر کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا اور یہ کارروائی پولیس اسٹیشن بڈگام میں درج زیر ایف آئی آر نمبر۲۰۲۴/۸کے تحت انجام دی گئی۔
پولیس ترجمان نے بتایا کہ اکٹھے کئے گئے شواہد اور متعلقہ مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بعد یہ جائیداد قانونی طریقہ کار کے مطابق منسلک کر دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ قدم غیر قانونی اور تخریبی سرگرمیوں کے خلاف جاری تحقیقات میں ایک اہم پیش رفت ہے اور قومی سلامتی کو درپیش خطرات کو ختم کرنے اور خطے میں امن قائم رکھنے کے لئے بڈگام پولیس کے مضبوط عزم کا عکاس ہے ۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ بڈگام پولیس دیگر ایجنسیوں کے تعاون سے ان افراد اور تنظیموں کے خلاف سخت اقدام جاری رکھے گی جو ملکی خود مختاری اور سالمیت کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ندائے مشرق خبر










