اجی صاحب ہم میں اتنی صلاحیت کہاں جو ہم عالمی سیاست کی باریکیوں ‘ ان کی پیچیدگیوں ‘ ان کی سازشوں کو سمجھ سکیں … یقینا ہم میں اتنی صلاحیت نہیں ہے… اور ہاں ذہانت بھی نہیں ۔ اس لئے ہمارے لئے یہ سمجھنا مشکل ہے کہ ٹرمپ صاحب نے غزہ کیلئے جس ۲۰ نکاتی امن منصوبے کو سامنے لایا ہے‘ اسے پیش کیا ہے… اس میںکیا ہے اور کیا نہیں… ہمارا مطلب ہے کہ اس میں فلسطینیوں کیلئے کیا ہے اور کیا نہیں… یہ بھی ممکن ہے کہ اس میں فلسطینیوں کیلئے کچھ بھی نہیں ہو اور… اور اگر اس میں واقعی میں کچھ ہے تو… تو وہ نیتن یاہو اور ان کے ملک کیلئے ہو …صاحب کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم اس ۲۰ نکاتی امن منصوبے کو سمجھنے سے قاصر ہیں… وہ ۲۰ نکاتی منصوبہ جسے ٹرمپ صاحب نے قبول کرنے کیلئے حماس کو تین چار دنوں کی مہلت دی ہے… مہلت کیا الٹی میٹم دیا ہے اور… اور مہلت ختم ہونے پر ‘ اس منصوبے کو تسلیم نہ کرنے کی صورت میں نیتن یاہو کو حماس کو ختم کرنے کی کھلی چھوٹ اور لائسنس دینے کی بھی بات کی ہے… ایک ایسی بات جس کو کہنے کی کوئی ضرورت نہ تھی… اور اس لئے نہیں تھی کہ نیتن یاہو کو کسی لائسنس کی ضرورت نہیں ہے … امریکی صدر کی بھی نہیں کہ… کہ دنیا نے دیکھ لیا ہے… دو سال سے دنیا دیکھ رہی ہے کہ کیسے نیتن یاہو حماس کو ختم کرنے ‘ اس کا صفایا کرنے کے نام پر غزہ کے لوگوں کا صفایا کررہا ہے… ان کی نسل کشی کررہا ہے … ہم نہیں جانتے ہیں اور… اور بالکل بھی نہیں جانتے ہیں کہ حماس کا ردعمل کیا ہو گا… تین چار دنوں کے بعد ‘ مہلت ختم ہونے کے بعد وہ کیا فیصلہ سنائیگی … ہم نہیں جانتے ہیں… کہ اگر ہم کچھ جانتے ہیں تو… تو یہ ایک بات جانتے ہیں کہ ٹرمپ صاحب حماس کو دی گئی مہلت سے پہلے ہی خود نہ اس منصوبے سے پیچھے ہٹ جائیں اور… اور اس کو ’ڈِس اوون‘ کریں اور… اور اس لئے کریں کہ ٹرمپ صاحب کب کیا کریں ‘ کیا کہیں اور کیا نہیں کہیں … یہ کوئی نہیں جانتا ہے… بالکل بھی نہیں جانتا ہے… اور یہ بات ہمارے وزیر اعظم مودی جی سے بہتر کوئی نہیں جان سکتا ہے… یہ نہیں جان سکتا ہے کہ ٹرمپ آخر کیا بلا ہیں۔ ہے نا؟




