بروسیلز، 30 ستمبر (یو این آئی) یورپی کمیشن کی صدر اورسولا فان ڈیئرلائن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس امن منصوبے کا خیرمقدم کیا جس کا مقصد غزہ کی پٹی میں تقریباً دو سال سے جاری جنگ کو ختم کرنا ہے ۔
اورسولا فان ڈیئرلائن نے آج منگل کو "ایکس” پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ "دو ریاستی حل اسرائیل اور فلسطینیوں کے لیے منصفانہ اور دائمی امن حاصل کرنے کا واحد عملی راستہ ہے "۔ انھوں نے زور دیا کہ وہ "تمام فریقوں کو اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب دیتی ہیں”۔ اورسولا کے مطابق یورپی یونین اس حوالے سے اپنا حصہ ڈالنے کے لیے تیار ہے ۔
یورپی کمیشن کی صدر نے کہا کہ "فوری طور پر جنگ بندی ہونی چاہیے اور غزہ کے باشندوں کے لیے فوری انسانی امداد فراہم کی جائے اور تمام یرغمالیوں کو فوراً رہا کیا جائے "۔
گزشتہ روز امریکی صدر نے اسرائیلی وزیرِ اعظم کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ نیتن یاہو نے غزہ میں لڑائی روکنے اور قیدیوں کے تبادلے کے لیے ان کے تجویز کردہ امن منصوبے کو منظور کرلیا ہے ۔
اس دوران وائٹ ہاؤس نے اس منصوبے کے 20 نکات شائع کیے ، جن میں سب سے اہم یہ ہے کہ "غزہ کی پٹی کو غیر مسلح کیا جائے گا اور اسے ایک انتظامی کمیٹی کے زیر انتظام رکھا جائے گا، جس میں فلسطینی ٹیکنوکریٹس اور بین الاقوامی ماہرین شامل ہوں گے … اور حماس کا اس میں کوئی کردار نہیں ہو گا”۔
یہ کمیٹی ایک نئی بین الاقوامی عبوری اتھارٹی "کمیٹی برائے امن” کے تحت کام کرے گی جس کی قیادت اور سربراہی ٹرمپ کریں گے ۔ دیگر ارکان اور عالمی رہنماؤں کے ناموں کا اعلان بعد میں کیا جائے گا جن میں برطانیہ کے سابق وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر بھی شامل ہیں۔ جب تک فلسطینی اتھارٹی اپنا اصلاحی پروگرام مکمل نہیں کرتی، مذکورہ عبوری اتھارٹی غزہ کی تعمیر نو کے لیے فنڈنگ کو منظم کرے گی۔ یہ اتھارٹی محفوظ اور مؤثر طریقے سے غزہ پر دوبارہ کنٹرول قائم کرنے کے قابل ہو گی۔
کئی عرب اور اسلامی ممالک کے ساتھ ساتھ فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے بھی ٹرمپ کے منصوبے کا خیر مقدم کیا گیا ہے ۔
دوسری جانب فلسطینی تنظیم حماس نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس منصوبے کا جائزہ لے گی اور اس کا جواب دے گی، تاکہ فلسطینی عوام کے مفاد کو یقینی بنایا جا سکے ۔







