سرینگر/۳۰ ستمبر
قائد حزبِ اختلاف سنیل شرما نے منگل کو کہا کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی اینٹی بی جے پی تقاریر دراصل انتخابی حربہ ہیں جن کا مقصد کشمیری عوام کو گمراہ کرنا ہے۔
شرما نے کہا کہ آج عمر عبداللہ کے بیانات محض ایک انتخابی ڈرامہ ہیں جن سے کشمیری عوام کو دھوکہ دیا جا رہا ہے۔
بی جے پی لیڈر نے کہا’’۲۰۲۴ کے اسمبلی انتخابات میں عمر عبداللہ نے خود کو اینٹی بی جے پی ہیرو کے طور پر پیش کیا، لیکن انتخابات کے بعد وہ ہمارے لیڈروں کی تعریفوں کے پل باندھنے لگے‘‘۔
قبل ازیں جنوبی کشمیر میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے ریاستی حیثیت کی بحالی کے لیے بی جے پی سے کسی بھی طرح کے سیاسی اتحاد کو یکسر مسترد کیا۔
عمر نے کہا کہ پچھلے اسمبلی انتخابات کے بعد ان کے پاس بھی بی جے پی کے ساتھ حکومت بنانے کا آپشن تھا۔ ’’جیسے مفتی محمد سعید اور محبوبہ مفتی نے ۲۰۱۵؍ اور۲۰۱۶ میں بی جے پی کے ساتھ اتحاد کیا، میں بھی ایسا کر سکتا تھا۔ شاید بی جے پی کے ساتھ حکومت بناتے تو ریاستی حیثیت کی بحالی جلد ہو جاتی۔ لیکن میں نے دوسرا راستہ چنا تاکہ بی جے پی کو جموں و کشمیر کی سیاست سے دور رکھا جائے۔ ہمیں شاید زیادہ انتظار کرنا پڑے، مگر میں انہیں ہمارے ذریعے حکومت میں داخل نہیں ہونے دوں گا‘‘۔
شرما نے کہا کہ عمر عبداللہ آنے والے دنوں میں اس قسم کی تقاریر مزید تیز کریں گے تاکہ ضمنی انتخابات، بالخصوص بڈگام نشست پر عوام کو گمراہ کیا جا سکے۔
بی جے پی لیڈر نے کہا ’’عمر عبداللہ اور ان کی حکومت گذشتہ ۱۱ ماہ میں ہر محاذ پر ناکام رہی ہے۔ وہ مفت بجلی‘۱۲گیس سلنڈرز اور ایک لاکھ نوکریوں جیسے قبل از انتخابات وعدے پورے کرنے میں بری طرح ناکام ہوئے ہیں۔‘‘
وزیر اعلیٰ پر سخت تنقید کرتے ہوئے شرما نے کہا کہ عمر عبداللہ نے دفعہ ۳۷۰ کے نام پر بھی عوام کو دھوکہ دیا۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی اقتدار کے لیے بے چین نہیں ہے، ان لوگوں کے برعکس جو ۲۰۱۴ میں پارٹی کے ساتھ اتحاد کے لیے بے تاب تھے۔ ’’سب جانتے ہیں کہ ۲۰۱۴ کے انتخابات میں کشمیری عوام کے مسترد کرنے کے بعد کون بی جے پی کے ساتھ حکومت بنانے کے لیے بے چین تھا‘‘۔
شرما نے مزید کہا کہ خود عمر عبداللہ نے اٹل بہاری واجپائی کی حکومت میں بطور وزیر خدمات انجام دی ہیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کی ہر سیاسی جماعت نے ماضی میں کسی نہ کسی وقت بی جے پی سے اتحاد کیا ہے۔
آخر میں شرما نے کہا کہ بی جے پی ایک تعمیری اپوزیشن کا کردار ادا کرتی رہے گی اور این سی کی سربراہی والی حکومت کی ناکامیوں اور بداعمالیوں کو اجاگر کرتی رہے گی۔
ویب ڈیسک










