سرینگر/۳۰ستمبر
پاکستانی زیرِ قبضہ کشمیر (پی او کے) میں حکومتِ پاکستان کے خلاف عوامی احتجاج دوسرے روز بھی شدت اختیار کر گیا۔ مظاہرین نے آج بڑے بڑے کنٹینرز، جو پاکستانی فورسز نے راستہ روکنے کے لیے نصب کیے تھے، ایک پل سے نیچے دریا میں پھینک دیے۔ یہ اقدامات ایک روز بعد سامنے آئے جب پرتشدد جھڑپوں میں دو افراد ہلاک اور لگ بھگ دو درجن زخمی ہوئے تھے۔
عوامی ایکشن کمیٹی (اے اے سی ) کی قیادت میں جاری ان مظاہروں کے دوران تمام بازار، دکانیں اور کاروباری مراکز بند رہے، جبکہ ٹرانسپورٹ سروسز بھی معطل ہو گئیں۔
آج دوبارہ شروع ہونے والے احتجاج میں مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور انہیں پسپائی پر مجبور کر دیا۔ کئی مظاہرین ہاتھوں میں لاٹھیاں لیے نعرے بازی کرتے بھی نظر آئے۔
مظاہرین نے اپنی۳۸نکاتی فہرست میں مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان میں مقیم کشمیری پناہ گزینوں کے لیے مختص۱۲ نشستیں ختم کی جائیں، کیونکہ مقامی آبادی کے مطابق یہ کوٹہ نمائندہ حکمرانی کو نقصان پہنچاتا ہے۔
عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما شوکت نواز میر نے کہا’’ہماری مہم ان بنیادی حقوق کے لیے ہے جو ہمارے لوگوں کو پچھلے ۷۰برسوں سے محروم رکھے گئے ہیں۔ یا تو حقوق دو، یا عوامی غصے کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہو‘‘۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر حکومتِ پاکستان نے مطالبات نہ مانے تو وزیراعظم شہباز شریف کو مزید سخت احتجاجی لائحہ عمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ادھر اسلام آباد نے طاقت کے مظاہرے کے طور پر مزید سو فوجی تعینات کر دیے اور انٹرنیٹ پر پابندیاں بھی نافذ کر دی گئیں۔
مقامی میڈیا نے کل ایسے مناظر نشر کیے جن میں سڑکوں پر مکمل افراتفری دیکھی گئی، حتیٰ کہ بعض افراد کو ہوا میں فائرنگ کرتے بھی دکھایا گیا۔ عوامی ایکشن کمیٹی نے الزام لگایا کہ مسلم کانفرنس کے افراد نے فوج اور اسٹیبلشمنٹ کے اشارے پر مظاہرین پر فائرنگ کی۔
احتجاج کرنے والے عوام نے پاکستانی سیاستدانوں کے رویے کو اشرافیائی قرار دیتے ہوئے بدعنوانی کے الزامات بھی عائد کیے ہیں۔
یہ احتجاج صرف مظفرآباد یا پی او کے تک محدود نہیں رہے۔ برطانیہ میں بھی کشمیری تارکینِ وطن نے لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن اور بریڈفورڈ میں قونصل خانے کے باہر مظاہرے کیے۔
مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ حکومتِ پاکستان مہنگائی اور اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے پر قابو پانے سمیت ان کے تمام۳۸ مطالبات تسلیم کرے، ورنہ عوامی مزاحمت مزید سخت ہو گی۔
اس خطے پر گہری نظر رکھنے والوں کاکہنا ہے کہ پاکستانی زیرِ قبضہ کشمیر میں یہ ابھرتی ہوئی عوامی تحریک دراصل برسوں کی محرومیوں اور استحصال کے خلاف ایک بغاوت ہے۔ اگر اسلام آباد نے اسے سنجیدگی سے نہ لیا اور عوامی مطالبات پر مثبت اقدامات نہ کیے تو یہ احتجاج ایک بڑی سیاسی تحریک کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔
ان کاکہنا ہے کہ یہ وقت ہے کہ حکومتِ پاکستان طاقت اور جبر کی بجائے شفاف مکالمے اور عملی اقدامات سے عوامی مطالبات کو تسلیم کرے۔ بصورت دیگر، پی او کے، کے عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جائے گا اور وہ جدوجہد کسی بڑے سیاسی بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہے، جس کا بوجھ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کو برداشت کرنا پڑے گا۔(ندائے مشرق ویب ڈیسک )










