عدن، 27 ستمبر (یو این آئی) یمن کے جنوبی بندرگاہی شہر عدن میں نامعلوم مسلح افراد نے جمعہ کو ایک سرکردہ قبائلی لیڈر کو گولی مار کر ہلاک کر دیا، یہ بات ایک سکیورٹی اہلکار نے ہفتے کے روز بتائی۔
ایک مقامی سکیورٹی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایک سرکردہ قبائلی لیڈر اور کمیونٹی کی شخصیت شیخ مہدی عقربی کو بیر احمد کے علاقے میں اس وقت گولی مار دی گئی جب وہ نماز جمعہ کے لیے قریبی مسجد میں جا رہے تھے ۔
اہلکار کے مطابق عقربی بغیر کسی سکیورٹی اہلکار کے اکیلے چل رہے تھے کہ حملہ آوروں نے فائرنگ کر دی جس سے وہ شدید زخمی ہو گئے ۔ انہیں عدن کے ایک اسپتال لے جایا گیا لیکن بعد میں وہ انتقال کر گئے ۔
سکیورٹی فورسز نے فوری طور پر علاقے کو محاصرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔ کسی گروپ نے واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے ۔
رہائشیوں نے بتایا کہ قتل کے بعد عقربی کے وفادار درجنوں مسلح قبائلی عدن کے مختلف حصوں میں تعینات ہوگئے ، انہوں چوکیاں قائم کیں اور شہر میں کشیدگی میں اضافہ ہوگیا۔
یمن 2014 سے حوثی فورسز کے دارالحکومت صنعا اور ملک کے شمالی حصے پر قبضہ کرنے کے بعد سے تنازعات کا شکار ہے ۔ سعودی زیرقیادت اتحاد نے 2015 میں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں مداخلت کی۔
اس تنازعہ نے دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں سے ایک کو جنم دیا ہے ، لاکھوں یمنیوں کو خوراک کی عدم تحفظ کا سامنا ہے اور انہیں بنیادی خدمات تک رسائی حاصل نہیں ہے ۔ امن مذاکرات کے کئی دور سیاسی حل نکالنے میں ناکام رہے ہیں۔






