لہیہ/۲۷ستمبر
لداخ کے لہیہ ضلع میں ہفتے کی سہ پہر کرفیو میں مرحلہ وار چار گھنٹے کی نرمی دی گئی، جس سے مقامی شہریوں کو قدرے راحت ملی۔
اس دوران دکانیں کھل گئیں اور لوگ ضروری اشیاء کی خریداری اور اے ٹی ایم مراکز پر قطاروں میں نظر آئے ۔ حکام کے مطابق نرمی کے دوران کہیں سے بھی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی اور صورتحال مجموعی طور پر پرامن رہی۔
ڈائریکٹر جنرل آف پولیس لداخ ایس ڈی سنگھ جموال نے بتایا کہ پرانے شہر میں دوپہر ایک بجے سے ۳بجے تک دو گھنٹے کے لیے اور بعد میں نئے علاقوں میں ساڑھے تین سے ساڑھے پانچ بجے تک مزید دو گھنٹے کے لیے کرفیو میں نرمی دی گئی۔
یہ رعایت ایسے وقت میں دی گئی جب۲۴ستمبر کے پرتشدد واقعات میں چار افراد ہلاک اور۹۰سے زائد زخمی ہوئے تھے ۔ یہ تشدد لہیہ اپیکس باڈی کی جانب سے ریاستی درجے اور چھٹے شیڈول کے نفاذ کے مطالبات کے حق میں دیے گئے بند کے دوران پھوٹ پڑا تھا۔
ڈی آئی پی آر لداخ نے اپنے بیان میں کہا کہ وانگچک کی ’اشتعال انگیز تقاریر‘اور’غلط فہمیاں پھیلانے والے ویڈیوز‘نے لہیہ میں تشدد کو ہوا دی۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ اگر وہ حکومت کے ساتھ بات چیت کے عمل کو آگے بڑھنے دیتے تو یہ ناخوشگوار صورتحال پیدا نہ ہوتی۔
ادھر پولیس اور نیم فوجی دستوں نے لہیہ اور دیگر حساس علاقوں میں گشت اور چھاپے مزید سخت کر دیے ہیں تاکہ فرار ملزموں کو گرفتار کیا جا سکے ۔ ۵۰سے زائد افراد کو پہلے ہی حراست میں لیا جا چکا ہے جبکہ کرگل سمیت یونین ٹریٹری کے دیگر قصبوں میں بھی پابندیاں برقرار ہیں۔
حکام نے کہا کہ امن و قانون کو بحال رکھنے کیلئے کرفیو کی جزوی نرمی مرحلہ وار دی جائے گی، تاہم پابندیاں بدستور نافذ رہیں گی۔
دریں اثنالیفٹیننٹ گورنر کویندر گپتا نے ہفتہ کو راج بھون لیہہ میں ایک اعلیٰ سطحی سکیورٹی جائزہ میٹنگ کی صدارت کی، جس میں یونین ٹریٹری لداخ کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اور امن و قانون کے حالات پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔
میٹنگ میں پولیس، فوج، نیم فوجی دستوں اور سول انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیدار موجود تھے ۔
سرکاری ذرائع کے مطابق میٹنگ میں لیہہ اور کرگل کے بعض حصوں میں پیدا شدہ کشیدگی، حالیہ احتجاجات اور تشویشناک حالات پر تفصیلی تبادلۂ خیال ہوا۔ خاص طور پر حساس علاقے کا ذکر کیا گیا جہاں گزشتہ دنوں عوامی مظاہروں نے انتظامیہ کی تشویش میں اضافہ کیا ہے ۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ حساس علاقوں میں اضافی فورسز تعینات کر دی گئی ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کو روکا جا سکے ۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ جمعہ کو شہر کے بعض حصوں میں جھڑپوں کے بعد انتظامیہ نے لیہہ قصبے میں کرفیو نافذ کیا ہے ، جو تاحال جاری ہے ۔ کرفیو کے باعث بازار مکمل طور پر بند رہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر تھا۔ سکیورٹی اہلکاروں نے دن بھر حساس مقامات پر گشت جاری رکھا تاکہ صورتحال پر قابو پایا جا سکے ۔
لیفٹیننٹ گورنر کویندر گپتا نے میٹنگ کے دوران ہدایت دی کہ تمام سکیورٹی ایجنسیاں قریبی تال میل کے ساتھ کام کریں، کسی بھی صورتحال پر سخت نظر رکھی جائے اور مقامی لوگوں کے ساتھ رابطہ برقرار رکھا جائے تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور حالات کو جلد از جلد معمول پر لانے کے لئے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔
انتظامیہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ امن و امان کی بحالی کے لئے تمام اقدامات بروئے کار لائے جا رہے ہیں اور جلد ہی صورتحال میں بہتری آئے گی۔
اس سے پہلے فوج کی شمالی کمان کے جنرل آفیسر کمانڈنگ لیفٹیننٹ جنرل پرتیک شرما نے ہفتہ کو لیفٹیننٹ گورنر کویندر گپتا سے راج بھون میں ملاقات کی۔اس ملاقات کے دوران خطے کی سلامتی کی مجموعی صورتحال اور ابھرتے ہوئے سکیورٹی چیلنجز پر تفصیلی تبادلۂ خیال ہوا۔
سرکاری ترجمان کے مطابق، لیفٹیننٹ جنرل پرتیک شرما نے لیفٹیننٹ گورنر کو سرحد اور دیگر حساس علاقوں کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر سرحدی حفاظتی اقدامات اور عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوج اور دیگر سکیورٹی ایجنسیوں کی مشترکہ حکمت عملی پر بھی روشنی ڈالی گئی۔
لیفٹیننٹ گورنر کویندر گپتا نے شمالی کمان اور فائر اینڈ فیوری کور کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ لداخ میں امن و ترقی کے لیے فوج کی کوششیں انتہائی اہمیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ فوج اور سول انتظامیہ کے درمیان قریبی تال میل سے خطے میں امن قائم رکھنے اور عوامی اعتماد کو مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔
اس ملاقات میں دونوں جانب سے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ خطے میں امن و امان کو ہر قیمت پر قائم رکھا جائے گا اور معصوم شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جائے گی۔










