بدھ, جولائی 22, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اہم ترین

کشمیر کا قدیم ہنروِلو کرافٹ آج بھی مقامی و غیر مقامی لوگوں میں معروف و مقبول ہے

’اگر سے عالمی مارکیٹ تک رسائی دی جائے تو یہ آنے والے برسوں میں وادی کی معیشت کا ایک مضبوط ستون بن سکتا ہے‘

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2025-09-28
in اہم ترین, کاروبار
A A
کشمیر کا قدیم ہنروِلو کرافٹ آج بھی مقامی و غیر مقامی لوگوں میں معروف و مقبول ہے
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

تیل کی قیمتیں ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

 ریاستی درجے کی بحالی‘این سی کادہلی میں احتجاج

سرینگر/۲۷ستمبر
وادی کشمیر کے قدیم فنون میں ایک انمول ہنر ’وِلو کرافٹ‘بھی ہے جسے عام زبان میں ٹوکری سازی کہا جاتا ہے ۔ یہ فن نہ صرف کشمیر کی صدیوں پرانی تہذیبی وراثت کا حصہ ہے بلکہ ہزاروں خاندانوں کی روزی روٹی کا ذریعہ بھی ہے ۔
سرینگر سے لے کر بانڈی پورہ، بارہمولہ اور گاندربل تک، اس صنعت سے جڑے کاریگر آج بھی اپنی محنت اور لگن سے ایسی شاہکار چیزیں تیار کرتے ہیں جنہیں دیکھ کر مقامی اور غیر ملکی خریدار حیران رہ جاتے ہیں۔
وِلو کرافٹ کا فن کشمیر میں کئی صدیوں سے رائج ہے ۔ مورخین کا ماننا ہے کہ یہ ہنر وسطی ایشیا اور ایران کے راستے وادی میں آیا۔ چونکہ کشمیر کی زمین اور موسم وِلو یعنی بید درختوں کی کاشت کے لیے نہایت موزوں ہیں، اس لیے یہاں کے کسانوں نے اسے بڑے پیمانے پر اگانا شروع کیا۔ رفتہ رفتہ مقامی کاریگروں نے اس لکڑی کی لچک اور پائیداری کو استعمال میں لاتے ہوئے ٹوکریاں، کرسیوں، کرکٹ بیٹس کے کور، اور روزمرہ استعمال کی دیگر اشیاء بنانی شروع کیں۔
وِلو کرافٹ کی سب سے بڑی خوبی اس کا قدرتی اور ماحول دوست ہونا ہے ۔ یہ فن پلاسٹک اور دھات کے مقابلے میں پائیدار اور خوبصورت متبادل فراہم کرتا ہے ۔ اس سے تیار شدہ ٹوکریاں، کور اور دیگر مصنوعات نہ صرف مضبوط ہوتی ہیں بلکہ ان میں ایک قدرتی کشش اور کشمیری تہذیب کی خوشبو بھی جھلکتی ہے ۔ مقامی ماہرین کا کہنا ہے کہ وِلو لکڑی کی خاصیت یہ ہے کہ یہ آسانی سے شکل اختیار کر لیتی ہے ، اس لیے اس سے بنائی گئی چیزیں ہلکی پھلکی ہونے کے باوجود دیرپا ثابت ہوتی ہیں۔
اس ہنر کے ایک سینئر کاریگر غلام نبی نے یو این آئی کو بتایا کہ چند برس قبل تک یہ کاروبار خوش اسلوبی سے چل رہا تھا اور ملکی و غیر ملکی سیاح بڑی تعداد میں ہاتھ کی بنی اشیاء خریدتے تھے ۔ تاہم، پہلگام میں حالیہ دہشت گردانہ حملے کے بعد سیاحوں کی آمد میں نمایاں کمی آئی ہے جس نے اس کاروبار کو بری طرح متاثر کیا ہے ۔
نبی نے کہا’’یہ حقیقت ہے کہ مقامی سطح پر لوگ ویلو کرافٹ کی اشیاء کم ہی خریدتے ہیں۔ ہماری اصل کمائی سیاحوں پر منحصر ہے ، کیونکہ وہ یہ دستکاریاں بڑی دلچسپی سے خریدتے ہیں۔ لیکن اس سال حملے کے بعد سیاحوں کی تعداد میں جو کمی آئی ہے ، اس نے ہمارے گھروں کے چولہے بجھنے کے دہانے پر پہنچا دیے ہیں‘‘۔
ان کا کہنا تھا’’حکومت کی جانب سے اس صنعت کو سہارا دینے کے لیے قرضے اور دیگر اسکیمیں موجود ہیں، لیکن زمینی سطح پر صورتحال مختلف ہے قرضے کی سہولت تو دی جا رہی ہے مگر جب خریدار ہی نہیں آئیں گے تو ہم اس سرمایہ کاری کو واپس کیسے کریں گے ، اس وقت ہماری سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ سیاحت کو بحال کرنے کے لیے ٹھوس اور سنجیدہ اقدامات کیے جائیں‘‘۔
نبی نے مزید کہا کہ سیاحتی شعبے کے استحکام کے بغیر ویلو کرافٹ سمیت دیگر دستکاری صنعتیں بھی زوال کا شکار ہو جائیں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ عالمی سطح پر وادی کو ایک محفوظ سیاحتی مقام کے طور پر اجاگر کرے ، تاکہ لوگ بلا خوف و خطر یہاں کا رخ کریں۔ سیاح آئیں گے تو ہی ہماری روزی روٹی چلے گی۔
پہلگام واقعے کے بعد جو خلا پیدا ہوا ہے ، اس نے نہ صرف ویلو کرافٹ بلکہ قالین بافی، پیپر ماشی اور دیگر صنعتوں کو بھی نقصان پہنچایا ہے ۔ کاریگر برادری کا ماننا ہے کہ اگر سیاحتی ماحول کو بحال کرنے میں تاخیر ہوئی تو یہ صدیوں پرانا ہنر زوال پذیر ہو سکتا ہے ۔
غلام رسول میر نامی ایک کاریگر، جو گزشتہ پچیس برس سے اس فن سے جڑے ہیں، کا کہنا ہے’’یہ ہنر ہمارے بزرگوں سے ہمیں ورثے میں ملا ہے ۔ آج بھی لوگ ہمارے ہاتھ کی بنی ٹوکریوں اور کرسیوں کو پسند کرتے ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس کام میں محنت زیادہ اور کمائی کم ہے ۔ اگر حکومت ہماری مدد کرے اور مارکیٹ کے مواقع بڑھائے تو یہ صنعت پھل پھول سکتی ہے ‘‘۔
ماہرین کے مطابق اگر اس ہنر کو جدید ڈیزائن اور مارکیٹ سے جوڑا جائے تو یہ عالمی سطح پر بھی مقبول ہو سکتا ہے ۔
ان کا ماننا ہے کہ وِلو کرافٹ کی عالمی سطح پر مانگ ہے ، خاص طور پر یورپ اور خلیجی ممالک میں۔ اگر کاریگروں کو جدید ڈیزائن اور برانڈنگ کی تربیت دی جائے ‘ای کامرس سے جوڑا جائے اور ایکسپورٹ کو فروغ دیا جائے تو یہ صنعت نہ صرف کشمیری معیشت کو مضبوط کر سکتی ہے بلکہ ہزاروں نوجوانوں کے لیے روزگار بھی فراہم کر سکتی ہے ۔
سرینگر کے تاریخی درگاہ حضرت بل میں خریداری کے لیے آئی ایک سیاح پریتی شرما کا کہنا تھا’’میں نے یہاں سے ہاتھ کی بنی ٹوکری اور کرسی خریدی ہے ۔ یہ نہ صرف خوبصورت ہے بلکہ ماحول دوست بھی۔ مجھے لگتا ہے کہ ایسے فنون کو عالمی سطح پر مزید پہچان ملنی چاہیے ‘‘۔
ماہرین کے مطابق، اگر اس صنعت کو حکومتی سرپرستی، جدید تربیت، اور عالمی مارکیٹ تک رسائی دی جائے تو یہ آنے والے برسوں میں وادی کی معیشت کا ایک مضبوط ستون بن سکتی ہے ۔ نہ صرف یہ کہ اس سے ہزاروں خاندانوں کو روزگار ملے گا بلکہ کشمیر کی صدیوں پرانی تہذیبی وراثت بھی زندہ رہے گی۔
(یو این آئی)

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

شہباز شریف کی درخواست !

Next Post

’ایل او سی کے اُس پار دہشت گرد دراندازی کے منتظر ‘

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں مستحکم، خام تیل 113 ڈالر فی بیرل سے تجاوز
عالمی خبریں

تیل کی قیمتیں ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

2026-07-21
 ریاستی درجے کی بحالی‘این سی کادہلی میں احتجاج
اہم ترین

 ریاستی درجے کی بحالی‘این سی کادہلی میں احتجاج

2026-07-21
جموں خطے میں بارش اور لینڈ سلائیڈنگ کی تباہ کاریاں جاری
اہم ترین

جموں خطے میں بارش اور لینڈ سلائیڈنگ کی تباہ کاریاں جاری

2026-07-21
 بارش سے سرینگر کے کئی علاقے زیرِ آب‘ نکا س آب کا ناقص نظام پھر بے نقاب
اہم ترین

 بارش سے سرینگر کے کئی علاقے زیرِ آب‘ نکا س آب کا ناقص نظام پھر بے نقاب

2026-07-21
جموں کشمیر میں منشیات فروشوں کے خلاف بڑی کارروائی
اہم ترین

جموں کشمیر میں منشیات فروشوں کے خلاف بڑی کارروائی

2026-07-21
 دہلی میں ریاستی درجے کی بحالی کا این سی احتجاج سی جے پی مظاہرے کی نذر
اہم ترین

 دہلی میں ریاستی درجے کی بحالی کا این سی احتجاج سی جے پی مظاہرے کی نذر

2026-07-21
 موجودہ شکل میں سندھ   طاس معاہدہ دوبارہ نافذ   نہیں ہوگا:حکومتی ذرائع
اہم ترین

 موجودہ شکل میں سندھ  طاس معاہدہ دوبارہ نافذ  نہیں ہوگا:حکومتی ذرائع

2026-07-21
چنار بک فیسٹیول میں شبھانشو شکلا  نے خلائی سفر کے دلچسپ قصے سنائے
اہم ترین

چنار بک فیسٹیول میں شبھانشو شکلا نے خلائی سفر کے دلچسپ قصے سنائے

2026-07-21
Next Post
’ایل او سی کے اُس پار دہشت گرد دراندازی کے منتظر ‘

’ایل او سی کے اُس پار دہشت گرد دراندازی کے منتظر ‘

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.