سرینگر/۶۲ستمبر
لداخ کی ریاستی درجے کی تحریک کے رہنما سونم وانگچک، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے اشتعال انگیز بیانات کے ذریعے ہجوم کو بھڑکایا، کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
وانگچک نے جمعرات کو کہا تھا کہ وہ اس مقصد کےلئے’کسی بھی وقت گرفتاری دینے پر خوش ہوں گے‘۔
این ڈی ٹی وی نے حکومتی ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ وانگچک کو سخت گیر نیشنل سکیورٹی ایکٹ (این ایس اے) کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔یہ ایکٹ طویل حراست کی اجازت دیتا ہے اور ضمانت کا کوئی امکان نہیں چھوڑتا۔بعد ازاں انہیں راجستھان کے جودھ پور جیل منتقل کیاگیا۔
حکومت نے گرفتاری کے بعد انٹرنیٹ سروسز بھی معطل کر دیں تاکہ افواہوں کے پھیلاو ¿ کو روکا جا سکے۔
یہ گرفتاری ایک دن بعد عمل میں آئی جب وزارت داخلہ نے وانگچک کے غیر منافع بخش ادارے اسٹوڈنٹس ایجوکیشنل اینڈ کلچرل موومنٹ آف لداخ (سیکمال ) کی غیر ملکی فنڈز وصول کرنے کی ایف سی آر اے رجسٹریشن منسوخ کر دی۔
۸۱۰۲ میں ریمون میگسے سے ایوارڈ یافتہ اس کارکن نے مرکز اور مرکز کے زیر انتظام خطے کی انتظامیہ کے تمام الزامات کو مسترد کیا ہے۔ دو روز قبل ہونے والے تشدد میں چار افراد جاں بحق اور ۰۵ سے زائد، جن میں سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں، زخمی ہوئے تھے۔
وانگچک نے این ڈی ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ ان کا ادارہ غیر ملکی چندے نہیں لیتا بلکہ اقوام متحدہ، سوئٹزر لینڈ اور اٹلی کی تنظیموں کے ساتھ کاروباری لین دین کرتا ہے اور تمام ٹیکس ادا کرتا ہے۔انہوں نے کہا”اسے غیر ملکی چندہ سمجھ لیا گیا۔ میں اسے ان (مرکز) کی غلطی سمجھتا ہوں، اس لیے برا نہیں مناتا۔ لیکن حقیقتاً یہ غیر ملکی چندہ نہیں ہے“۔
لداخ میں ۹۱۰۲ میں دفعہ ۰۷۳ کے خاتمے کے بعد یونین ٹیریٹری بننے پر خوشی منانے سے لے کر آج ریاستی درجے کے مطالبے پر کشیدگی تک کا سفر قیاس آرائیوں کو جنم دے رہا ہے کہ اس بحران کو ہوا دینے میں غیر ملکی ہاتھ یا مقامی مفادات شامل ہو سکتے ہیں۔تاہم، پچھلے کچھ برسوں سے سیاسی خلا کی وجہ سے ناراضگی بڑھ رہی تھی۔ اسی خلا نے لیہہ (بدھ اکثریتی) اور کرگل (مسلم اکثریتی) کی سیاسی و مذہبی جماعتوں کو مشترکہ پلیٹ فارمز پر اکٹھا کر دیا۔
مرکز نے کہا کہ وانگچک نے اپنا روزہ ختم نہیں کیا حالانکہ حکومت ایپکس باڈی لیہہ (اے بی ایل) اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس (کے ڈی اے)کے ساتھ انہی معاملات پر بات چیت میں مصروف تھی۔
وزارت داخلہ کے مطابق ”یہ مکالمہ شاندار نتائج لا رہا تھا، لیکن چند سیاسی طور پر محرک افراد، جو پیش رفت سے خوش نہیں تھے، مکالمے کو سبوتاڑ کرنے کی کوشش کر رہے تھے“۔
وزارت داخلہ نے الزام لگایا کہ وانگچک کے ’اشتعال انگیز بیانات‘نے ہجوم کو بھڑکایا۔ ”دلچسپ بات یہ ہے کہ ان پ ±رتشدد واقعات کے دوران انہوں نے اپنا روزہ توڑ دیا اور ایمبولینس میں گاو ¿ں چلے گئے، مگر حالات کو سنبھالنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی“۔
ریاستی درجے کے مطالبے کے ساتھ وانگچک یہ بھی چاہتے ہیں کہ لداخ کو آئین کی چھٹی شیڈول میں شامل کیا جائے، جو قبائلی علاقوں کو خودمختار نظام کے تحت چلانے کی سہولت دیتا ہے۔
این ڈی ٹی وی کو انٹرویو میں وانگچک نے کہا”میں اس مقصد کے لیے کسی بھی وقت گرفتاری دینے پر خوش ہوں….بلکہ ایک سونم وانگچک جیل میں حکومت کے لیے اتنا ہی نہیں بلکہ زیادہ مسئلہ بن سکتا ہے جتنا ایک آزاد سونم وانگچک، کیونکہ یہ لوگوں کو مزید بیدار کرے گا کہ ملک کیسے چلایا جا رہا ہے“۔
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے گرفتاری کو بدقسمتی قرار دیا اور مرکز پر تنقید کی۔
عمرعبداللہ نے کہا”یہ بدقسمتی ہے کہ انہیں گرفتار کیا گیا۔ بی جے پی کبھی اپنے وعدے پورے نہیں کرے گی۔ ہم تشدد کو درست نہیں ٹھہرا رہے، لیکن سوال یہ ہے کہ بی جے پی نے ایسی صورت حال کیوں پیدا ہونے دی؟“
کانگریس لیڈر غلام احمد میر نے بھی گرفتاری کو غلط قرار دیا۔انہوں نے کہا”انہوں نے کبھی تشدد کو ہوا نہیں دی۔ بی جے پی حکومت اپنی ناکامی چھپانے کے لیے انہیں گرفتار کر رہی ہے، کیونکہ وہ لداخ کے مسائل حل کرنے میں ناکام رہی
ویب ڈیسک
.










