سرینگر/۲۵ستمبر
لداخ کے سرگرم کارکن سونم وانگچک کی غیر منافع بخش تنظیم ، اسٹوڈنٹس ایجوکیشنل اینڈ کلچرل موومنٹ آف لداخ (ایس ای سی ایم او ایل)‘ کے غیر ملکی فنڈنگ لائسنس (ایف سی آر اے رجسٹریشن) کو حکومت ہند نے جمعرات کی شام منسوخ کر دیا ہے۔
مرکزی حکومت نے یہ قدم ان کے خلاف غیر سرکاری تنظیموں کے لیے غیر ملکی فنڈنگ کے قوانین کی ’دہرائی جانے والی خلاف ورزیوں‘ کے بعد اٹھایا۔
یہ کارروائی اس وقت سامنے آئی جب لداخ میں ریاست کا درجہ دینے کے مطالبات کے حوالے سے تشدد آمیز مظاہرے ہوئے، جن میں چار افراد ہلاک ہوئے۔
ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق کچھ گھنٹے پہلے ہی وفاقی حکومت نے سونم وانگچک کے خلاف کارروائی کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا، جنہیں لداخ کے ریاستی حقوق کے مطالبے کا چہرہ سمجھا جاتا ہے۔ وزارت داخلہ نے کہا کہ ان کے ’بھڑکاؤ بھرے بیانات‘ نے بھیڑ کو مقامی بی جے پی دفتر اور لداخ کے انتخابی افسر کے دفتر پر حملے کی ترغیب دی۔
حکومت کی تحقیقات میں ان کی غیر منافع بخش تنظیم کی مالی سرگرمیوں میں ’سنگین مالی بے ضابطگیاں‘ سامنے آئی ہیں، جن میں ایف سی آر اے قوانین کی بار بار خلاف ورزیاں شامل ہیں۔
ایس ای سی ایم او ایل کے خلاف نوٹیفکیشن میں بتایا گیا کہ ۱۰ستمبر کو چار سوالات کے ساتھ شوکاز نوٹس جاری کیا گیاتھا۔سب سے پہلا سوال اس بارے میں تھا کہ وانگچک نے۳۵ء۳ لاکھ روپے ایف سی آر اے اکاؤنٹ میں جمع کرائے، جو قانون کے خلاف تھے۔ایس ای سی ایم او ایل نے جواب دیا کہ یہ رقم ایک پرانے بس کی فروخت سے حاصل ہوئی تھی، لیکن حکومت نے اسے ’قابل قبول وجہ نہیں‘ قرار دیا۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا’’اس رقم کی کریڈٹ اینٹری ایسوسی ایشن کے ایف سی آر اے اکاؤنٹ میں نہیں ملی۔ ایسا لگتا ہے کہ رقم نقد وصول ہوئی، جو ایکٹ کے سیکشن ۱۷ کی خلاف ورزی ہے‘‘۔
حکومت نے سویڈش ڈونر کی جانب سے۹۳ء۴لاکھ روپے عطیہ بھی قومی مفاد کے خلاف قرار دیا، جو نوجوانوں کی آگاہی کے پروگرامز کے لیے دیا گیا تھا۔دو دیگر معاملات میں بھی۱۹ہزار۶۰۰؍ اور۷۹ہزار۲۰۰ روپے کی غلط اینٹریز پر اعتراض کیا گیا۔
سونم وانگچک لداخ کے ریاستی حقوق کی تحریک کے چہرے کے طور پر جانے جاتے ہیں اور ریاست کی حیثیت کے مطالبے کے لیے بھوک ہڑتال پر تھے۔ حکومت کی کارروائی کے خدشے کے پیش نظر انہوں نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ وہ پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتاری کے لیے تیار ہیں۔
وانگچک نے کہا’’میں دیکھ رہا ہوں کہ وہ میرے خلاف کیس بنا رہے ہیں تاکہ مجھے پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت دو سال کے لیے جیل میں ڈال سکیں۔ میں تیار ہوں…لیکن ایک سونم وانگچک جیل میں انہیں آزاد وانگچک سے زیادہ مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔‘‘
اس سے پہلے سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) نے تعلیم دان اور ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کے تحت قائم ادارے کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ کی مبینہ خلاف ورزیوں کی تحقیقات شروع کر دی ہے۔
وانگچک پہلے بھی بھوک ہڑتال پر تھے اور لداخ کے لیے ریاستی حیثیت اور چھٹے شیڈول کی توسیع کے مطالبات کر رہے تھے۔
حکام کے مطابق، سی بی آئی نے دو ماہ قبل ہی ہمالین انسٹیٹیوٹ آف آلٹرنیٹیوز لداخ (ایچ آئی اے ایل) کی فنڈنگ کی تحقیقات شروع کی تھیں۔ اس کے علاوہ، وہ ۶ فروری ۲۰۲۵ کو وانگچک کے پاکستان کے دورے کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔
اگست میں لداخ انتظامیہ نے ایچ آئی اے ایل کے لیے زمین کی الاٹمنٹ منسوخ کر دی تھی، جس سے بڑا تنازعہ پیدا ہوا۔ ریاستی حیثیت اور آئینی تحفظات کے لیے سرگرم لداخی گروپوں نے اس فیصلے کو یونین ٹیریٹری کے خلاف حملہ اور حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والوں کی آواز دبانے کی کوشش قرار دیا۔
تازہ ترین واقعات کے دوران وانگچک پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے ایسے مظاہرین کو بھڑکایا جس نے لداخ کے لیے ریاستی حیثیت کے مطالبے پر ہنگامہ آرائی کی۔ بدھ کو، سیکورٹی فورسز اور لداخ تحریک کے حامیوں کے درمیان جھڑپوں میں چار افراد ہلاک اور کم از کم ۸۰ زخمی ہوئے، جن میں ۴۰ پولیس اہلکار شامل ہیں۔
یہ ہنگامہ اس وقت ہوا جب وانگچک نے اپنے پندرہ روزہ بھوک ہڑتال کو ختم کیا۔ لہیہ اپیکس باڈی کے یوتھ ونگ نے احتجاج کا اعلان کیا تھا، کیونکہ بھوک ہڑتال میں شامل ۱۵؍ افراد میں سے دو کی حالت خراب ہونے پر انہیں اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔
مظاہرین نے بی جے پی کے ہیڈکوارٹرز اور ہِل کونسل کو نذر آتش کیا، گاڑیاں جلائیں، جبکہ پولیس اور پیرا ملٹری فورسز نے پورے شہر میں تعینات ہو کر صورتحال کنٹرول کرنے کے لیے آنسو گیس کے شیل داغے۔
مرکزی حکومت نے الزام لگایا کہ اس ہنگامہ آرائی میں وانگچک کے ’اشتعال انگیز بیانات‘ کی رہنمائی تھی اور کچھ ’سیاسی طور پر متحرک‘ افراد ایچ پی سی کے ذریعے جاری مذاکرات سے خوش نہیں تھے۔
وزارت داخلہ کے بیان کے مطابق،’’وانگچک کی بھوک ہڑتال کے مطالبات ایچ پی سی میں زیر بحث تھے۔ کئی رہنماؤں کے کہنے کے باوجود انہوں نے بھوک ہڑتال جاری رکھی اور عوام کو عرب اسپرنگ طرز احتجاج اور نیپال میں جین زی مظاہروں کے حوالے سے گمراہ کن معلومات فراہم کیں‘‘۔
بیان میں مزید کہا گیا‘‘یہ واضح ہے کہ حکومت بھارت لہیہ ایپکس باڈی(ایل اے بی) اور کرگل ڈیموکرٹک الائنس(کے ڈی اے)کے ساتھ سرگرم مذاکرات میں مصروف رہی ہے۔ ایچ پی سی کے ذیلی کمیٹیوں اور غیر رسمی ملاقاتوں کے ذریعے کئی ملاقاتیں ہوئیں۔ تاہم کچھ سیاسی طور پر متحرک افراد ایچ پی سی کے تحت پیش رفت سے ناخوش تھے اور مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے تھے۔‘‘
اس کے علاوہ، کانگریس رہنما اور کونسلر فنٹسگ سٹانزِن تسیپاگ پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے بھوک ہڑتال کے مقام پر اشتعال انگیز تقریر کی۔
(ندائے مشرق ویب ڈیسک)









