نیویارک، 24 ستمبر (یو این آئی) امریکی ایلچی برائے شام نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل اور شام آپس میں کشیدگی میں کمی کیلیے ابتدائی معاہدے کے قریب پہنچ گئے ۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق امریکی ایلچی نے بتایا کہ اسرائیل اور شام ایک ابتدائی ڈی ایسکلیشن سمجھوتے (کشیدگی میں کمی کے معاہدے ) کے قریب ہیں جو مستقبل میں ایک سکیورٹی معاہدے کی بنیاد بنے گا۔
اسرائیل شام کے جنوب مشرقی علاقوں میں کئی فضائی حملے کر چکا ہے ۔ اس نے گزشتہ سال دسمبر میں سابق صدر بشار الاسد کے اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد سے سرحد کے قریب بار بار کارروائیاں کیں۔
امریکی ایلچی ٹام بیرک کئی مہینوں سے اس معاملے پر کام کر رہے ہیں۔ نیویارک شہر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں ہر کوئی اسے نیک نیتی کے ساتھ دیکھ رہا ہے ۔
چند روز قبل شامی صدر احمد الشرع نے اسرائیل کو ناقابل اعتبار ملک قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس پر اعتماد نہیں کرتے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ شام اب دہشت گردی برآمد کرنے والا ملک نہیں رہا۔
احمد الشرع نے ترک میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ امریکی ثالثی میں معاہدہ جلد طے پانے والا ہے لیکن یہ نیا معاہدہ 1974 کے معاہدے جیسا ہوگا اور تعلقات معمول پر نہیں آئیں گے ۔
انہوں نے واضح کیا تھا کہ شام لڑنا جانتا ہے لیکن اب جنگ نہیں چاہتا، السویدہ میں حالیہ بدامنی مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی سازش تھی، اسرائیل کے ساتھ اگر اعتماد کی بات ہو تو میرا جواب ہے میں اس پر اعتماد نہیں کرتا۔
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حملے میں صدارتی محل اور وزارت دفاع کو نشانہ بنایا گیا یہ حملہ دراصل اعلان جنگ کے مترادف ہے ، اسرائیل کے ساتھ سکیورٹی معاہدہ ناگزیر ہے مگر اسرائیل کی جانب سے اس معاہدے کی پاسداری پھر بھی مشکوک ہے ۔







