کیٹو، 24 ستمبر (یو این آئی) ایکواڈور کی جیل میں ہنگامہ آرائی میں گارڈ سمیت 14 افراد ہلاک اور درجن سے زیادہ زخمی ہو گئے ، کئی پولیس افسران کو اغوا بھی کیا گیا۔
بی بی سی کے مطابق ایکواڈور پولیس کا کہنا ہے کہ مچالا شہر کی ایک جیل میں متحارب گروہوں کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں 13 قیدی اور ایک جیل محافظ ہلاک جب کہ 14 افراد زخمی ہو گئے ہیں، جن میں دو پولیس افسران بھی شامل ہیں۔
رپورٹس کے مطابق جنوب مغربی شہر مچالا میں واقع جیل کے قریب رہنے والے شہریوں نے پیر کی علی الصبح دھماکوں اور گولیوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی۔ پولیس چیف ولیم کالے نے بتایا کہ اس واقعے کے دوران نامعلوم تعداد میں قیدی فرار ہو گئے تھے ، جن میں سے اب تک 13 کو دوبارہ گرفتار کیا جا چکا ہے ۔
دارالحکومت کیٹو کے پولیس چیف کا کہنا ہے کہ قیدیوں نے جیل کا محافظ قتل کرنے کے علاوہ کئی پولیس افسران کو یرغمال بنا لیا ہے ، صورت حال قابو میں لانے کے لیے اضافی سیکیورٹی فورسز طلب کی گئیں، جن کی قیدیوں سے جھڑپیں ہوئیں۔ اس تصادم میں جیل کا ایک حصہ بھی گر گیا۔
واضح رہے کہ ایکواڈور میں جیلوں میں خونی جھڑپیں اورفسادات کوئی غیر معمولی بات نہیں ہیں، جہاں مختلف جرائم پیشہ گروہ ایک دوسرے کے مخالفین کو نشانہ بناتے رہتے ہیں۔ پولیس نے پیر کے روز ہونے والے اس پرتشدد واقعے کا الزام ‘لوس لوبوس باکس’ نامی ایک جرائم پیشہ گروہ پرعائد کیا ہے ۔
حکام کے مطابق سیکیورٹی اہلکاروں کو جیل کی ایک مخصوص بیرک سے الارم کال موصول ہوئی تھی، جس پر وہ فوری طور پر وہاں پہنچے ، لیکن جیسے ہی وہ وہاں پہنچے ، قیدیوں نے انھیں یرغمال بنا لیا اور ایک محافظ کو قتل کر دیا۔ اس کے بعد گروہ کے ارکان اس بیرک میں داخل ہو گئے جہاں ان کے حریف قید تھے ، اور ان پر حملہ کر دیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ کچھ قیدی ایک دھماکا خیز آلے کے ذریعے جیل کی بیرونی دیوار میں بنایا گیا سوراخ استعمال کر کے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ، یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ دھماکا خیز مواد جیل کے اندر کس طرح پہنچایا گیا تھا۔
پولیس چیف کے مطابق 200 پولیس اہلکاروں اور فوجیوں کی تعیناتی کے بعد سیکیورٹی فورسز نے جیل پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے ۔ ایکواڈور کے ٹی وی چینل ‘ایکیواویسا’ کے مطابق مچالا کے رہائشی طویل عرصے سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ شہر کے وسط میں واقع اس جیل کو کہیں اور منتقل کیا جائے ۔






