سرینگر/۲۴ ستمبر
وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ نے بدھ کو کہا کہ لیہ شہر میں پیدا ہونے والی صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ جموں و کشمیر کے لوگ ریاستی حیثیت کی منسوخی پر کیسا محسوس کرتے ہیں، حالانکہ لداخ کو ریاستی حیثیت کا وعدہ بھی نہیں کیا گیا تھا۔
وزیر اعلیٰ کا یہ بیان تب سامنے آیا جب لداخ میں ریاستی حیثیت کے لیے تحریک پرتشدد، آگ زنی اور سڑکوں پر جھڑپوں کی شکل اختیار کر گئی، جس میں چار افراد ہلاک اور کم از کم۴۵زخمی ہوئے، جن میں ۲۲پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
عبد اللہ نے اپنے ایکس ہینڈل پر لکھا’’لداخ کو ریاستی حیثیت کا وعدہ بھی نہیں کیا گیا تھا۔انہوں نے ۲۰۱۹ میں یو ٹی کی حیثیت پر خوشی منائی اور وہ دھوکہ شدہ اور غصے میں ہیں‘‘۔
عمرعبداللہ نے مزید کہا’’اب تصور کریں کہ ہم جموں و کشمیر میں کس قدر دھوکہ شدہ اور مایوس ہیں، جب ریاستی حیثیت کا وعدہ ابھی تک پورا نہیں ہوا، حالانکہ ہم نے جمہوری، پرامن اور ذمہ دارانہ انداز میں اسے مانگا ہے‘‘۔
اس سے پہلے وزیر اعلیٰ نے ریاستی درجے کی تاخیر میں بی جے پی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کی بدقسمتی ہے کہ وہ جیت نہیں پائی لیکن اس کی سزا جموں وکشمیر کے لوگوں کو نہیں دی جاسکتی ہے ۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ جموں وکشمیر کے لوگوں نے بی جے پی کو حکومت نہیں دی لہذا ان کو ریاستی درجہ واپس نہیں دیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا’’یہ جموں وکشمیر کے لوگوں کے ساتھ زیادتی ہے ایسا کہیں نہیں کہا گیا تھا کہ بی جے پی کی حکومت آئے گی تب ریاستی درجہ حال ہوگا‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے ان باتوں کا اظہار بدھ کو یہاں نامہ نگاروں کے ساتھ بات کرنے کے دوران کیا۔
عمرعبداللہ نے کہا’’جموںکشمیر کو سب سے بڑا چیلنج ریاستی درجے کی بحالی کا ہے ، اس کا وعدہ بھی کیا گیا تھا اور عدالت عظمیٰ کی ہدایت کے مطابق حد بندی بھی ہوئی، الیکشن بھی ہوئے لیکن ریاستی درجہ بحال نہیں ہو رہا ہے‘‘۔
ان کا کہنا تھا’’بی جے پی کی بدقسمتی ہے کہ وہ جیت نہیں پائی لیکن اس کی سزا جموں وکشمیر کے لوگوں کو نہیں دی جاسکتی ہے ‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ جموں وکشمیر کے لوگوں نے بی جے پی کو حکومت نہیں دی لہذا ان کو ریاستی درجہ واپس نہیں دیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا’’یہ جموں وکشمیر کے لوگوں کے ساتھ زیادتی ہے ایسا کہیں نہیں کہا گیا کہ بی جے پی کی حکومت آئے گی تب ریاستی درجہ بحال ہوگا‘‘۔
شعبہ سیاحت کے بارے میں بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا’’ہماری لگاتار کوشش رہی کی شعبہ سیاحت واپس پٹری پر آجائے امید تھی کہ اب ملک کے مختلف حصوں سے سیاح آئیں گے سیاح آتے ہیں لیکن جس تعداد میں ہم ان کے آنے کی امید کرتے تھے اس تعداد میں نہیں آ رہے ہیں‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے کہا تاہم اس شعبے کو بحال کرنے کیلئے ہماری کوششیں جاری رہیں گی۔
’آئی لو محمد‘ کے بارے میں پوچھے جانے پر ان کا کہنا تھا’’یہ تین الفاظ لکھنے میں کس کو اعتراض ہوسکتا ہے ، اس میں گرفتاری کی وجہ کیا ہوسکتی ہے میری عدالت سے گذارش ہے کہ وہ اس چیز کو درست کریں اگر اس کو مذہب کے ساتھ بھی جوڑا جائے تب بھی یہ غیر قانونی نہیں ہے ‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’ہمارے سکھ بھائی اپنے گرو کا نام لکھتے ہیں ہندو بھائی بھگوان کا نام لکھتے ہیں۔‘‘










