سرینگر/۲۴ستمبر
پی ڈی پی کی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ کسی بھی اسمبلی یا سیشن کی پہلی ترجیح واضح مقصد کے ساتھ معاملات پر بحث کرنا اور نتائج تک پہنچنا ہونا چاہیے ۔
محبوبہ نے ساتھ ہی کہا کہ اہم مسائل کو حل کیے بغیر اسمبلیوں کو جاری نہیں رکھنا چاہیے ۔
سابق وزیر اعلیٰ نے ان باتوں کا اظہار بدھ کو یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔
پی ڈی پی صدر نے کہا’’کسی بھی اسمبلی سیشن کا کوئی مقصد ہونا چاہئے اور اس کو کسی نتیجے پر پہنچنا چاہئے ‘‘۔
ان کا کہنا تھا’’سڑکیں کئی دنوں تک بند رہنے سے میوہ صنعت کو نقصان پہنچا‘۲۰دنوں کے بعد ہی وزیر اعلیٰ نے مرکزی وزیر نتن گڈکری سے رابطہ کیا، جس سے امدادی اقدامات میں تاخیر ہو سکتی ہے ، پہلے ہی ایسا کیوں نہیں کیا گیا‘‘۔
محبوبہ نے کہا’’بحث یہ ہونی چاہئے کہ نقصانات کا ازالہ کیسے کیا جائے گا، کیا کسانوں کے قرضے معاف کیے جائیں گے ، اور کیا میوہ کی نقل و حمل کے لیے مدد فراہم کی جائے گی‘‘۔
سابق وزیر اعلیٰ نے پہلگام حملے کے بعد شعبہ سیاحت کو ہونے والے نقصان پر تشویش کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا’’ہوٹلرز، ٹرانسپورٹرز، اور ہاؤس بوٹ آپریٹرز نقصانات کا سامنا کر رہے ہیں، انہوں نے بینک قرضے لئے ہیں جن کی ادائیگی کیلئے اب وہ جدوجہد کر رہے ہیں‘‘۔
ان کا کہنا تھا’’میں خود ایک ہائوس بوٹ میں گئی ان کی حالت بہت خراب ہے ان کو مدد فراہم کرنے کی ضرورت ہے ‘‘۔
پی ڈی پی صدر نے باہر جیلوں میں بند قیدیوں کے بارے میں کہا’’عمر صاحب نے معراج ملک کو قانونی مدد فراہم کرنے کی بات کی ہے لیکن باہر جیلوں میں لوگ بند ہیں جن کو اس مدد کی ضرورت ہے اگر ایسا نہیں کیا جا سکتا ہے کم سے کم ان کو یہاں منتقل کرانے کیلئے اقدام کرنے کی ضرورت ہے ‘‘۔
پی ڈی پی صدر نے کہا کہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ پی ایس اے کے تحت بند ہیں اس پر بحث ہونی چاہئے ۔ان کا کہنا تھا کہ عارضی ملازموں کی نوکری کی مستقلی جیسے کئی اہم معاملے ہیں جن پر بات کی جانی چاہئے ۔










