نئی دہلی، 23 ستمبر (یو این آئی) سپریم کورٹ نے منگل کے روز مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کو ممبئی، بنگلورو، کولکاتہ، موہالی اور پریاگ راج میں رئیل اسٹیٹ پروجیکٹوں میں بینکوں اور ڈویلپرز کے درمیان مبینہ ساز باز کے ذریعے مکان خریداروں سے دھوکہ دہی کے معاملات میں مزید چھ معاملے درج کرنے کی اجازت دے دی۔جسٹس سوریہ کانت، جسٹس اجول بھوئیاں اور جسٹس این کوٹیشور سنگھ کی بنچ نے سی بی آئی کے دلائل سننے کے بعد یہ اجازت دی۔
سی بی آئی کی طرف سے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایشوریا بھاٹی نے عدالت کو بتایا کہ ایجنسی نے سپر ٹیک لمیٹڈ کے علاوہ دہلی-این سی آر سے باہر ممبئی، بنگلورو، کولکاتہ، موہالی اور پریاگ راج میں مختلف بلڈرز کی اسکیموں میں ابتدائی تحقیقات مکمل کر لی ہیں۔
سی بی آئی کا مؤقف ہے کہ ابتدائی جانچ سے سنگین جرم کا معاملہ سامنے آیا ہے ، اس لیے تیز رفتار جانچ کے لیے چھ معاملے درج کرکے تلاشی اور ضبطی کی کارروائی ہونی چاہیے ۔ عدالت نے ان دلائل کو سننے کے بعد سی بی آئی کو قانون کے مطابق کارروائی آگے بڑھانے اور باقاعدہ معاملے درج کرنے کی اجازت دی۔
عدالت نے بھاٹی سے کہا کہ رپورٹ کے کچھ حصے سیل بند لفافے میں نیائے متر راجیو جین کے ساتھ شیئر کیے جائیں۔ سپریم کورٹ نے اس سال 22 جولائی کو سی بی آئی کو این سی آر میں مکان خریداروں سے دھوکہ دہی کے معاملات میں بینکوں اور بلڈرز کے درمیان مبینہ ساز باز پر 22 مقدمے درج کرنے کی اجازت دی تھی۔










