نئی دہلی، 23 ستمبر (یو این آئی) لکھنؤ کی ایک خصوصی سی بی آئی عدالت نے 6.8 کروڑ روپے کے بینک دھوکہ دہی کے معاملے میں بینک آف انڈیا کے ڈپٹی چیف منیجر پنکج کھرے ، راجیش کھنہ اور شمش الحق صدیقی کو تین سال قید اور ایک لاکھ پچیس ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے ۔اس معاملے میں ملزم نجی کمپنی ”انیتا کانٹریکٹر اینڈ کنسٹرکشن پرائیویٹ لمیٹڈ” پر بھی ایک لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے ۔ سی بی آئی نے یہ معاملہ سال 2008 میں لکھنؤ میں بینک آف انڈیا کی حضرت گنج مین برانچ کے اسسٹنٹ جنرل منیجر کی شکایت کی بنیاد پر درج کیا تھا۔ الزام تھا کہ 2004 سے 2006 کے دوران ملزمین نے دیگر افراد کے ساتھ مل کر مجرمانہ سازش رچی تھی۔
تحقیقات کے بعد سی بی آئی نے 2009 میں انیتا کانٹریکٹر اینڈ کنسٹرکشن پرائیویٹ لمیٹڈ کی منیجنگ ڈائریکٹر انیتا جین، محمد اشتیاق خان، پنکج کھرے ، پونم سنہا، پریم پرکاش، راجیش کھنہ، شمش الحق صدیقی، سدھیر کمار جین اور کمپنی (انیتا جین کے ذریعے ) کے خلاف چارج شیٹ داخل کی تھی۔عدالت نے سماعت کے بعد ملزمین کو قصوروار ٹھہرایا اور سزا سنائی۔









