سرینگر/۲۳ستمبر
جموںکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے مہاراجہ ہری سنگھ کو ان کے یوم پیدائش پر شاندار خراج عقیدت پیش کیا۔
سنہا نے کہا کہ وہ ایک عظیم مدبر اور تبدیلی کے پیامبر تھے جنہوں نے عام انسان کی فلاح و بہبود کیلئے انقلابی اصلاحات متعارف کرائیں۔
واضح رہے کہ مہاراجہ ہری سنگھ جموں و کشمیر کے آخری حکمران مہاراجہ تھے جن کی پیدائش۲۳ستمبر۱۸۹۵کو جموں میں ہوئی تھی۔
جموں و کشمیر حکومت نے سال۲۰۲۲میں ان کے یوم پیدائش پر سرکاری تعطیل کا اعلان کیا۔
منوج سنہا نے منگل کے روز مہاراجہ ہری سنگھ کو جنم دن کے موقع پر خراج عقیدت پیش کیا۔
سنہا نے ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا’’میں مہاراجہ ہری سنگھ جی کو ان کی جنم جینتی پر خراج عقیدت پیش کرتا ہوں‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے پوسٹ میں کہا ’’وہ ایک عظیم مدبر اور تبدیلی کے پیامبر تھے جنہوں نے عام انسان کی فلاح و بہبود کے لئے انقلابی اصلاحات متعارف کرائیں‘‘۔انہوں نے مزید کہا’’ان کی شفاف حکمرانی، ترقی پسند سوچ اور مادر وطن کے لئے گراں قدر خدمات آج بھی ہمارے لئے مصدر تحریک ہیں۔‘‘
اس دوران جموں و کشمیر کے آخری ڈوگرہ حکمران مہاراجہ ہری سنگھ کی۱۳۰ویں برسی منگل کو جموں خطے بھر میں عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی۔ اس موقع پر مختلف رہنماؤں اور سول سوسائٹی گروپوں نے تقریب کو ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو دہرانے کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کیا۔
متعدد تقریبات میں مہاراجہ کی اصلاحات اور جموں و کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق میں ان کے کردار کو یاد کیا گیا۔ تاہم، یہ دن ساتھ ہی ساتھ ان خدشات کے اظہار کا موقع بھی بن گیا جو خطے کی ۲۰۱۹ سے جاری یونین ٹیریٹری حیثیت کے حوالے سے پائے جاتے ہیں۔
۲۰۲۲ میں لیفٹیننٹ گورنر کی قیادت والی انتظامیہ نے جموں کی یوا راجپوت سبھا (وائی آر ایس ) کی طویل جدوجہد کے بعد مہاراجہ کی برسی کو سرکاری تعطیل قرار دیا۔
یوا راجپوت سبھا کے ایک رہنما نے شہر کے تالاب تلو سے شروع ہونے والی عظیم الشان موٹر ریلی کے بعد ٹوی پل کے قریب مہاراجہ کے مجسمے پر مالا چڑھاتے ہوئے کہا:’’ہم نے اپنے مہاراجہ کی برسی پر عام تعطیل حاصل کرلی ہے، اور اب ہم ان کی ریاست کا وقار، عزت اور عظمت بھی واپس لائیں گے‘‘۔
ریلی میں مہاراجہ کے پوتے اور سابق وزیر اجت شترو سنگھ کے علاوہ مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما بھی شامل ہوئے۔ شرکاء نے روایتی لباس پہنے، تلواریں تھامے اور مہاراجہ و ملک کے حق میں نعرے بلند کیے۔
یوا راجپوت سبھا کے رہنما نے مرکز سے ریاستی حیثیت کی فوری بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ مزید تاخیر کی صورت میں بڑے پیمانے پر احتجاج ہوگا۔
یاد رہے کہ ۲۶؍ اکتوبر ۱۹۴۷ کو مہاراجہ ہری سنگھ نے پاکستان کی فوج کی پشت پناہی سے ہونے والے قبائلی حملے کو روکنے کے لیے بھارت کے ساتھ الحاق کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔مہاراجہ گلاب سنگھ کے ۱۸۴۶ میں قائم کردہ دھرمرتھ ٹرسٹ نے بھی برسی کے موقع پر ۱۳۰ کلو وزنی لڈو تقسیم کیا۔
اس کے علاوہ مختلف سماجی تنظیموں، کانگریس اور بی جے پی سمیت متعدد سیاسی جماعتوں نے بھی مہاراجہ کی سالگرہ الگ الگ تقریبات کے ذریعے منائی اور انہیں بھرپور خراج تحسین پیش کیا۔
ریاستی حیثیت کی بحالی کی تحریک کو تیز کرنے کے عزم کے ساتھ جموں و کشمیر کانگریس کے قائم مقام صدر رمن بھلہ نے کہا’’مہاراجہ نے زمین، روزگار اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے انقلابی قوانین بنائے، اس پہاڑی سیاحتی ریاست کے مستقبل کو دیکھتے ہوئے اسٹیٹ سبجیکٹ قوانین نافذ کیے جو ان کی دوراندیشی کی عکاسی کرتے ہیں۔ لیکن بی جے پی حکومت نے ان تمام حفاظتی اقدامات کو ختم کرتے ہوئے ریاست کو توڑا، بانٹا اور کمتر درجے پر لا کھڑا کیا۔ یہ دراصل آخری ڈوگرہ حکمران کی توہین ہے اور بی جے پی کو مہاراجہ اور ریاست کے عوام، خصوصاً ڈوگرہ برادری سے معافی مانگنی چاہئے‘‘۔
بی جے پی نے بھی اپنے ہیڈکوارٹر پر مہاراجہ کی برسی منائی۔ پارٹی کے صدر ستی شرما نے کہا’’ہم مہاراجہ کی بصیرت اور جرات کی بدولت ایک عظیم ہندوستانی قوم کا لازمی اور فخر کا حصہ ہیں۔ندائے مشرق خبر‘‘










