نیویارک، 21 ستمبر (یو این آئی) فرانس اور سعودی عرب آج نیو یارک میں درجنوں عالمی رہنماؤں کو مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کے لیے حمایت حاصل کرنے کے لیے اکٹھا کریں گے ، جن میں سے کئی ممالک کی جانب سے باقاعدہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کرنے کی توقع ہے ، یہ ایک ایسا قدم ہے جو اسرائیل اور امریکہ کے سخت ردعمل کو دعوت دے سکتا ہے ۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی ‘رائٹرز’ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل اور امریکہ اس سربراہی اجلاس کا بائیکاٹ کریں گے ، اسرائیل کے اقوام متحدہ کے سفیر ڈینی ڈینون نے اس تقریب کو ‘تماشہ’ قرار دیا ہے ۔ انہوں نے جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ ‘ہمیں نہیں لگتا کہ یہ مددگار ہے ، ہم سمجھتے ہیں کہ یہ دراصل دہشت گردی کو انعام دینے کے مترادف ہے ‘۔
اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ اسرائیل اس کے جواب میں، مقبوضہ مغربی کنارے کے کچھ حصے کو ضم کرنے اور پیرس کے خلاف مخصوص دو طرفہ اقدامات پر غور کر رہا ہے ۔
امریکی حکومت نے فرانس سمیت ان ملکوں کے لیے ممکنہ نتائج کی وارننگ دی ہے جو اسرائیل کے خلاف اقدامات کریں گے ، فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نیو یارک اجلاس کی میزبانی کر رہے ہیں۔
یہ اجلاس اس ہفتے کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے پہلے ہو رہا ہے ، اسرائیل کے غزہ شہر پر طویل عرصے سے زیر غور زمینی حملے کے آغاز کے بعد بلایا گیا ہے ، اور اس وقت ہو رہا ہے جب جنگ بندی کے امکانات بہت کم ہیں۔
اسرائیل کے غزہ پر شدید حملے اور مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد کے دوران، یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ اب فوری اقدام کیا جائے ورنہ دو ریاستی حل کا تصور ہمیشہ کے لیے ختم ہو سکتا ہے ۔
جنرل اسمبلی نے اس ماہ 7 صفحات پر مشتمل ایک اعلامیہ منظور کیا ہے ، جس میں دو ریاستی حل کی جانب ‘ٹھوس، وقت کے پابند اور ناقابل واپسی اقدامات’ بیان کیے گئے ہیں، ساتھ ہی حماس کی مذمت اور اس سے ہتھیار ڈالنے اور غیر مسلح ہونے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے ۔







