سرینگر/۲۰ ستمبر
وادی کشمیر کی پہاڑی بستیوں میں باغبانی کرنے والے کسانوں کے لیے سیب کے بکسے ڈھلوانوں سے سڑک تک پہنچانا ہمیشہ ایک کٹھن مرحلہ رہا ہے، جو صرف مزدوروں کی محنت و طاقت پر منحصر تھا۔ لیکن جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے تحریبل گلستان محلہ سے تعلق رکھنے والے ۲۶سالہ اویس احمد خان نے اس صدیوں پرانے مسئلے کا انوکھا حل تلاش کیا ہے۔
خان نے اپنے سیب کے باغ لیپرڈ ہل آرچرڈ تک ایک رسی راہ (روپ وے) تعمیر کیا ہے، جو آج ان کے لیے مزدوری کے اخراجات کم کرنے اور وقت بچانے کا بہترین ذریعہ ہے۔
اویس احمد، جن کی تعلیم صرف پانچویں جماعت تک محدود ہے، بچپن سے ہی باغبانی سے شغف رکھتے تھے۔ اسکول کے دنوں میں وہ اکثر اپنے والد کے ساتھ باغ میں کام کرتے تھے۔ ان کے۳۳ کنال پر پھیلے وسیع باغ تک پہنچنا آسان نہ تھا کیونکہ یہ سطح سمندر سے چھ ہزار فٹ بلندی پر اور گھر سے تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر دور واقع ہے۔
خان نے اپنے کارنامے کے بارے میں یو این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا’’کٹائی کے دنوں میں مجھے پانچ مزدور رکھنے پڑتے تھے۔ یہ مزدور دن بھر کی کڑی مشقت کے باوجود بمشکل ۱۰۰بکسے سڑک تک پہنچا پاتے تھے۔ اس پر روزانہ تقریباً پانچ ہزار روپے مزدوری دینی پڑتی تھی۔ یہ مزدوروں کے لیے بھی کٹھن مرحلہ تھا اور ہمارے لیے بھی بھاری خرچ کا مسئلہ‘‘۔
گزشتہ برس اکتوبر میں جب انہوں نے مزدوروں کو کھڑی چڑھائی پر پسینے میں شرابور ہوتے دیکھا تو ان کے ذہن میں رسی راہ بنانے کا خیال آیا۔ تین ماہ تک کوشش کے باوجود ناکامی ہاتھ لگی، تاہم اس برس زیادہ محنت اور لگن کے ساتھ، بغیر کسی انجینئر یا ماہر کی مدد کے، وہ کامیاب ہوئے۔
خان نے بتایا’’میں نے اپنی اختراع کے لیے پرانے وسائل کا سہارا لیا۔ گاڑیوں کے پرزے کباڑ سے خرید کر اس رسی راہ کو ترتیب دیا۔ اس میں وین کا انجن، تیو را کا ایکسل اور ماروتی کی بریک استعمال کی۔ اس روپ وے کو بھی گاڑی کی طرح چابی سے اسٹارٹ کیا جاتا ہے اور یہ اسٹیل کور والی رسی پر چلتا ہے جو کافی مضبوط ہے‘‘۔
یہ رسی راہ تقریباً۵۰۰ میٹر لمبی ہے اور ایک بار میں۶ء۲ کوئنٹل یعنی آٹھ بکسے اور۶۰ کلو تک سامان اٹھا سکتی ہے۔ خان کے مطابق ایک مزدور کو ایک بکسہ سڑک تک پہنچانے میں ۴۵ منٹ لگتے تھے، جبکہ مشین چند لمحوں میں بوجھ کو سڑک کے کنارے چھوڑ دیتی ہے، جہاں سے ٹرک یا چھوٹی گاڑی کے ذریعے اسے بازار تک پہنچانا آسان ہو جاتا ہے۔ ’’یہاں تک کہ گھوڑے بھی یہ ڈھلوان نہیں چڑھ سکتے تھے، لیکن یہ مشین بخوبی کام کر رہی ہے‘‘۔
نوجوان کے مطابق یہ رسی راہ صرف سیب کے بکسے ہی نہیں بلکہ گھاس، مزدوروں کا کھانا اور دیگر سامان بھی ڈھوتی ہے۔ اس کا انجن ۸۰۰ سی سی اومنی وین کا ہے اور ایندھن کی کھپت بھی انتہائی کم ہے۔۲۰۰ بکسوں کے لیے صرف آدھا لیٹر پٹرول خرچ ہوتا ہے۔ نیچے اترتے وقت یہ زیادہ تر نیوٹرل میں چلتی ہے اور صرف بریک لگانا پڑتا ہے۔انہوں نے مزید کہا’’پرزوں کو جوڑنے میں کئی بار رکاوٹیں آئیں۔ انجن ٹھیک سے فٹ نہیں ہو رہا تھا، رسی کا تناسب بیٹھ نہیں رہا تھا۔ یہ واقعی مشکل تھا لیکن میں نے ہمت نہیں ہاری۔ آخرکار یہ رسی راہ کامیابی سے چلنے لگی‘‘۔
خان نے بتایا کہ اس رسی راہ (روپ وے) کی تیاری پر ساڑھے چار لاکھ روپے کی لاگت آئی اور اسے مکمل کرنے میں تین ماہ لگے۔ ان کے مطابق مشین چلانے پر روزانہ محض دو سو روپے کا پٹرول خرچ آتا ہے، جبکہ یہی کام مزدوروں سے کروایا جائے تو تقریباً تیس ہزار روپے یومیہ لگتے ہیں۔
سیب کے باغ پر ہونے والے اخراجات کے بارے میں انہوں نے کہا’’اب تک لاکھوں روپے خرچ ہو چکے ہیں تب جا کر یہ باغ اس شکل میں تیار ہوا ہے۔ صرف باغ کی سینچائی کے نظام پر ہی تقریباً سات لاکھ روپے خرچ ہوئے۔ باقی لاگت کا اندازہ آپ خود لگا سکتے ہیں‘‘۔
خان اب اس رسی راہ کو مزید مضبوط اور پائیدار بنانے کا خواب دیکھ رہے ہیں تاکہ دیگر کسان بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔ان کاکہنا تھا’’میرا روایتی باغ اب جدت کے ساتھ جڑا ہے۔ یہ صرف آغاز ہے‘‘ انہوں نے پرامید لہجے میں کہا۔یو این آئی










