سرینگر/۲۰ ستمبر
’’جموں کشمیر میں صنعتی ترقی کی رفتار تیز کرنا اور اس خطے کو باقی بھارت کے برابر لانا عزت مآب وزیراعظم شری نریندر مودی کی سب سے بڑی ترجیح ہے‘‘۔
یہ بات لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ہفتہ کو صنعتکاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا’’ملک کی بڑی کمپنیاں، کارپوریٹ ہاؤسز اورایم ایس ایم ایز یہ عہد کریں کہ جموں کشمیر کی صنعتی ترقی ان کی ذاتی ذمہ داری ہوگی۔ ملک کا صنعتی نظام آگے آئے اور یونین ٹیریٹری میں تیز صنعتی کاری کی حمایت کرے۔ آج ملک کے بڑے صنعتی ہاؤسز کو جموں و کشمیر میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے، اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ یہ ان کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ جموں و کشمیر کی مکمل شمولیتی ترقی اور انضمام کو یقینی بنایا جائے‘‘۔
سنہا نے کاروباری رہنماؤں کی وڑن اور رسائی کی تعریف کی اور کہا کہ وہ متحد ہو کر ترقی یافتہ بھارت کے خواب کو حقیقت میں بدلیں۔
ایل جی کاکہنا تھا’’دنیا نے بھارت پر بڑھتا ہوا اعتماد ظاہر کیا ہے۔ اب یہ صنعت کی ذمہ داری ہے کہ ہمارے ترقیاتی عمل کو تیز اور زیادہ مسابقتی بنائے‘‘۔
سنہا نے ایم ایس ایم ایز کی پیداوار اور برآمدات بڑھانے اور جدت پر مبنی معیشت قائم کرنے کیلئے مرکوز حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیا۔
ایل جی نے کہا’’جموں کشمیر کی مائیکرو اور چھوٹی صنعتوں نے عالمی سطح پر مسابقت کی صلاحیت دکھائی ہے، اور ہم نئے خیالات کیلئے کھلے ہیں کہ کس طرح پورے یونین ٹیریٹری میں صنعتی کاری کو پھیلایا جا سکے اور پنچایت سطح پر نئے کاروبار کو فروغ دیا جا سکے‘‘۔
ایل جی نے یہ بھی کہا کہایم ایس ایم ایز اور ہنر مند یونٹس کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوں گے اور خود مختار بھارت کے قیام میں مددگار ہوں گے۔
سنہا نے تحقیق و ترقی میں نجی سرمایہ کاری کی ضرورت پر بھی زور دیا، خاص طور پر دفاع، خلاء ، زراعت اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا’’ترقی یافتہ بھارت کے لیے ہمیں ایک جدت پر مبنی معیشت قائم کرنی ہوگی، جہاں ترقی اور دولت نئی ٹیکنالوجیز اور اختراعات سے حاصل ہو‘‘۔










