’سرینگر/۲۰ ستمبر
وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ نے آج زور دیا کہ جموں و کشمیر کی سیاحت کی کامیابی کو مساوی طور پر مضبوط صنعتی ترقی کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ضروری ہے ۔عمرعبداللہ نے صنعتکاروں سے اپیل کی کہ وہ جموںکشمیر کو ایک قابلِ سرمایہ کاری اور امید افزا مقام کے طور پر دیکھیں۔
سری نگر میں منعقدہ کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری (سی آئی آئی) نارتھرن ریجنل کونسل۲۰۲۵۔۲۶ کے چوتھے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے تسلیم کیا کہ حالیہ مہینوں میں توجہ زیادہ تر سیاحت پر رہی، مگر صنعتی ترقی کو اتنا موقع نہیں ملا۔
عمرعبد اللہ نے اسٹیک ہولڈرز کو یقین دلایا کہ حکومت اس عدم توازن کو درست کرنے اور جموں و کشمیر میں سرمایہ کاری کے ماحول کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’سیاحت ہماری ترقی کی کہانی کا ایک حصہ ہے، لیکن دوسرا حصہ جو برابر توجہ کا مستحق ہے وہ صنعتی کاری ہے۔ جموں کشمیر چیلنجوں کے باوجود سرمایہ کاری کیلئے پرکشش مقام ہے، اور ہم صنعت کے لیے یہاں کام کرنا آسان اور فائدہ مند بنانے کے لیے پرعزم ہیں‘‘۔
عمرعبداللہ نے جاری سرمایہ کاری اور مراعات کا جائزہ پیش کیا اور کہا کہ صنعتی مراکز جیسے کٹھوا، سامبا، باری برہمانہ (جموں) اور لاسی پورہ (کشمیر) سب سے زیادہ سرمایہ کاری کو متوجہ کر رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے حالیہ حکومت کے اقدامات کو اجاگر کیا تاکہ پروسیجرز آسان ہوں، جبکہ سچائی سے تسلیم کیا کہ سنگل ونڈو کلیئرنس سسٹم میں اب بھی خامیاں ہیں۔ان کاکہنا تھا’’ہمیں یقینی بنانا ہوگا کہ ہمارا ’سنگل ونڈو‘ واقعی سنگل ونڈو ہو، نہ کہ وہ وینٹیلیٹر، پھر ایک ایگزاسٹ فین، اور آخرکار کہیں نہ لے جانے والا راستہ ہو۔ میں نے انڈسٹریز ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت دی ہے کہ وہ حالیہ سرمایہ کاروں سے براہِ راست رابطہ کریں اور ان کے تجربات سے سیکھ کر اس نظام کو مستقل طور پر درست کریں‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے جموں کشمیر کے تقابلی فوائد کو اجاگر کیا: زمین اور بجلی کی کم قیمت، جی ایس ٹی کی واپسی کے فوائد، اور ماہر افرادی قوت کی دستیابی۔ انہوں نے صنعتکاروں کو مشورہ دیا کہ وہ سرمایہ کار دوست شعبوں میں سرمایہ کاری کریں جہاں مقابلتی فائدہ موجود ہو اور نئے جی ایس ٹی ریٹ سلیبز کے پیشِ نظر اپنے اختیارات کا جائزہ لیں۔
امن و امان کے بارے میں تاثر اور حقیقت کے فرق پر عمر عبد اللہ نے کہا’’جموں و کشمیر آج پرسکون، پرامن اور کاروبار کے لیے کھلا ہے۔ ہاں، مشکل وقت بھی آئے، لیکن وہ پیچھے رہ گئے ہیں۔ پہلگام میں جیسا سانحہ ہوا وہ استثنائی ہے، معمول نہیں، اور اس کے دوبارہ ہونے سے بچنے کے لیے ہر قدم اٹھایا جا رہا ہے‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے سرمایہ کاروں پر زور دیا کہ سبسڈی پر مبنی ماڈلز سے آگے دیکھیں اور ایسے شعبوں میں سرمایہ کاری کریں جہاں جموںکشمیر کی اندرونی طاقت موجود ہو۔ انہوں نے زرعی، باغبانی اور ڈیری پروڈکشن کی مثالیں دی، اور کہا کہ کشمیر میں صرف ۴فیصددودھ پروسیس ہوتا ہے جبکہ گجرات میں اس کی شرح ۸۰ ہے۔
عمرعبداللہ نے کہا ’’یہ قدر بڑھانے کے لیے تیار موقع ہے۔ ہم خام مال پیدا کرتے ہیں، مارکیٹ ہمارے پاس ہے، پھر بھی ہم اپنی صلاحیت کم استعمال کرتے ہیں۔ یہی بات دیگر شعبوں پر بھی لاگو ہوتی ہے جہاں جموںکشمیر خام مال اور ماہر افرادی قوت دونوں فراہم کر سکتا ہے‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے بے روزگاری کو اہم چیلنج قرار دیا اور کہا کہ ریاست صرف سرکاری ملازمتوں پر منحصر نہیں رہ سکتی۔’صنعت کاری اور سیاحت دونوں مل کر نوجوانوں کے لیے نئے روزگار کے مواقع پیدا کریں‘۔
وزیر اعلیٰ نے سی آئی آئی کے اراکین سے ایماندارانہ رائے دینے کی بھی ترغیب دی تاکہ حکومت خامیوں پر کام کرے’’جو لوگ جموںکشمیر میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں، بتائیں کیا ٹھیک ہوا اور کیا نہیں۔ جو لوگ ہچکچا رہے ہیں، بتائیں کیوں نہیں…اگر یہ ہمارے اختیار میں ہے، تو ہم اسے حل کریں گے۔ آپ کی رائے یہاں کے کاروباری ماحول کی شکل دینے میں اہم ہے‘‘۔مشرق خبر/ ڈی پی آئی آر










