کہتے ہیں …ہم نہیں کہتے ہیں ‘لوگ کہتے ہیں… وہ بھی آج کے زمانے کے لوگ نہیں بلکہ ہم سے پرانے اور بہت پرانے زمانے کے لوگ کہتے ہیں کہ… جب روم جل رہا تھا تو اس کا بادشاہ ‘نیرو دور کہیں بانسری بجا رہا تھا …تماشا دیکھ رہا تھا … آگ کا تماشا۔ہمیں بھی کچھ ایسا ہی لگا جب یہ خبر ہم تک اڑتی آئی کہ اپنے وزیر اعلیٰ ‘ عمرعبداللہ صاحب اگلے ہفتے روم… معاف کیجئے روم نہیں پیرس جا رہے ہیں‘ کسی سیاحتی میلے میں شرکت کیلئے جا رہے ہیں… اب صاحب ہم ٹھہریں عام لوگ ‘ ہم میں اتنی طاقت کہاں تھی کہ ہم وزیر اعلیٰ صاحب کو روکتے اور پھر ٹوکتے بھی کہ جناب یہ کیا غضب کررہے ہیں… آپ کررہے ہیںکہ پیرس کو آپ کی ضرورت نہیں بلکہ کشمیر کو ہے‘یہاں کے فروٹ گروروں کو ہے ‘ جن کا کروڑوں روپے کا مال سڑ رہا ہے… خراب ہو رہا ہے… سال بھر کی محنت ضائع ہو رہی ہے… وہ بے بس ہیں … وہ کچھ نہیں کررپا رہے ہیں… سوائے اپنی بربادی کا تماشا دیکھنے کے… ہم یہ سب وزیر اعلیٰ کو کہاں کہہ پاتے تاکہ انہیں پیرس جانے سے روکتے… لیکن… لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ہم جیسے ڈرپوک سبھی تو نہیں ہیں… کسی نے ان کے کچے کانوں تک یہ بات پہنچا ہی دی کہ جناب ایسا بالکل بھی نہ کیجئے … شہر چھوڑ کر کہیں نہ جائیے کہ اگر آپ جائیں گے تو… تو جتنے منہ اتنی باتیں اور… اور آپ توجانتے ہیں کہ کشمیر میں لوگ زیادہ نہیں ہیں… لیکن منہ زیادہ ہیں ،سو باتیں بھی زیاد ہ ہو تی ہیں اور… اور اللہ میاں کی قسم باتیں ہو رہی تھیں… وزیرا علیٰ کے اس ممکنہ دورے کے بارے میں ہو رہی تھیں اور… اور کیا معلوم وزیر اعلیٰ صاحب کے کسی اپنے نے بھی یہ باتیں سنی ہوں اور… اور سن کر عمر عبداللہ تک پہنچائیں ہو ں اور… اوردیکھئے کہ وزیر اعلیٰ نے قربانی … عظیم قربانی دیتے ہو ئے … پیرس میں شام… ایک دو شامیں گزارنے کے بجائے … سرینگر میں ہی شامیں گزارنے کا فیصلہ کیا اور… اور اللہ میاں کی قسم صحیح فیصلہ کیا کہ…کہ ہم نہیں چاہتے تھے… بالکل بھی نہیں چاہتے تھے کہ وزیر اعلیٰ صاحب کشمیر کے نیرو بن جاتے یاا نہیں کشمیر کا نیرو تصور کیا جاتا۔ لوگ اپنا بڑا سا منہ کھول کر ان کے بارے میں کچھ بول کر… کچھ بھی بول کر انہیں سچ میں کشمیر کا نیرو قرار دیتے … ہم ایسا نہیں چاہتے تھے … بالکل بھی نہیں چاہتے تھے ۔ ہے نا؟




