جمعرات, ستمبر 10, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اہم ترین

متنازع شقیں معطل‘سپریم کورٹ کا عبوری فیصلے میں وقف ترمیمی قانون کو مکمل رد کرنے سے انکار

بورڈ میں غیر مسلم ارکان کی تعداد بھی محدود‘جب تک حکومت پریکٹسنگ مسلمان کے تعین کی تشریح نہیں کرتی تب تک اس شق کا اطلاق نہیں ہو گا

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2025-09-16
in اہم ترین
A A
متنازع شقیں معطل‘سپریم کورٹ کا عبوری فیصلے میں وقف ترمیمی قانون کو مکمل رد کرنے سے انکار
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

وندے ماترم پر این سی اور کانگریس آمنے سامنے

’کیا انجینئر رشید کو سخت شرائط کے ساتھ ضمانت دی جاسکتی ہے؟‘

سرینگر/۱۵ستمبر
سپریم کورٹ نے مسلمانوں کی طرف سے ’اللہ کے نام پر‘وقف کی گئی جائیدادوں سے متعلق نئے ترمیمی قانون میں اس شق کو معطل کر دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ صرف وہی شخص اپنی املاک کو وقف کر سکتا ہے جو کم از کم پانچ برس سے ’پریکٹسنگ مسلمان‘ ہو۔
عدالت عظمی نے وقف ترمیمی قانون کے خلاف دائر کی گئی مختلف درخواستوں پر سماعت کے بعد اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ جب تک حکومت پریکٹسنگ مسلمان کے تعین کی تشریح نہیں کرتی تب تک اس شق کا اطلاق نہیں ہو گا۔ عدالت عظمی نے اپنے اس فیصلے میں وقف بورڈ میں غیر مسلم ارکان کی تعداد بھی محدود کر دی ہے۔
وقف ترمیمی قانون پارلیمنٹ پاس ہونے اور صدر مملکت کی منظوری کے بعد گذشتہ مئی میں نافذ کیا گیا تھا۔ اسے ملک کے سرکردہ مسلم اداروں اور رہنماؤں نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا اس قانون کی شقیں وقف کے انتظام کے حوالے سے مسلمانوں کے مذہبی حقوق کے مناقی ہیں اور اسے غیر آئینی قرار دیا جائے۔
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بی آر گوائی اور جسٹس اے بی مسیح پر مشتمل بینچ نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ عدالت نے ۱۹۲۳ میں بنائے گئے قانون سے موجودہ قانون تک کی تاریخ کا مطالعہ کیا ہے اور ہر اس شق پر غور کیا جسے چیلنج کیا گیا ہے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا ’’ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ عرضی گزاروں نے تمام وقف قانون کو چیلنج نہیں کیا ہے۔ تاہم بعض شقوں جنھیں چیلنج کیا گیا ہے، ان میں قانونی تحفظ کی ضرورت ہے‘‘۔
عدالت عظمی نے کہا کہ نئے وقف ترمیمی قانون کی مذکورہ شق اس وقت تک معطل رہے گی جب تک کہ حکومت اس سوال کے تعین کی تشریح کا کوئی ضابطہ اختیار نہیں کرتی کہ آیا کوئی شخص کم از کم پانچ برس سے اسلام کیطریقہ کار پر عمل کر رہا ہے یا نہیں۔
عدالت نے کہا ’اس طرح کے ضابطے کی عدم موجودگی میں اس قانون کا غلط استعمال کیا جا سکتا ہے‘‘۔
مرکزی حکومت نے ملک کے وقف قانون میں بڑے پیمانے پر ترمیم کرنے کے بعد ایک نیا قانون منظور کیا تھا جس میں نہ صرف جائدادیں وقف کرنے کو مشروط کر دیا گیا تھا بلکہ اس کا بیشتر انتظام اور اختیار بھی حکومت کے تابع کر دیا گیا تھا۔
وقف کے انتظامات دیکھنے والے مرکزی اور ریاستی اداروں میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ نامزد غیر مسلم ارکان کو بھی شامل کیا گیا تھا۔
مئی ۲۰۲۵میں جب یہ قانون نافذ کیا گیا تھا تو اس وقت حکومت نے کہا تھا کہ اس قانون کا مقصد وقف کی املاک کے لیے ایک بہتر اور شفاف نظام فراہم کرنا ہے۔
مسلم عرضی گزاروں نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ مرکزی اور ریاستی وقف بورڈز میں صرف مسلم ارکان شامل کیے جائیں۔ ان کی یہ دلیل تھی کہ وقف ایک خالص مذہبی عمل ہے اور دیگر مذاہب کی طرح مسلمانوں کے مذہبی امور کی ذمہ داری صرف مسلمانوں کو ہی دی جائے۔نئے ترمیمی قانون میں حکومت نے مسلمانوں کے ساتھ ساتھ غیر مسلم ارکان کی بھی شمولیت کا بھی انتظام کیا تھا۔
اب عدالت عظمی نے کہا ہے کہ اگرچہ وقف بورڈز میں غیر مسلموں کی شمولیت کی شق کو معطل نہیں کیا گیا لیکن ان کی تعداد محدود کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت عظمی نے کہا کہ مرکزی وقف کونسل کے۲۲؍ ارکان میں چار سے زیادہ غیر مسلم ارکان نہیں ہوں گے، اسی طرح ریاستی وقف بورڈز میں ۱۱میں سے۳سے زیادہ غیر مسلم ارکان نامزد نہیں کیے جا سکتے۔
عدالت نے عرضی گزاروں کی یہ درخواست تسلیم نہیں کی کہ ریاستی بورڈز کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر مسلم ہی ہوں گے۔ تاہم عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ جہاں تک ممکن ہو، اس عہدے کیلئے کسی مسلم افسر کو ہی مقرر کیا جائے۔
عدالت عظمی نے نئے قانون کی اس شق پر بھی روک لگا دی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ وقف کی زمین پر حکومت سے کسی تنازعے کی صورت میں کلیکٹر کی رپورٹ آنے تک وہ مخصوص جائداد وقف کی ملکیت نہیں رہے گی۔
اس فیصلے میں قانون کی اس شق کو بھی معطل کر دیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ’اگر مقررہ افسر متنازع جائیداد کو سرکاری ملکیت کی جائیداد پاتا ہے تو وہ ریکارڈ میں مطلوبہ ترمیم کرے گا اور اس کے بارے میں ایک رپورٹ ریاستی حکومت کو پیش کرے گا‘۔
عدالت عظمی نے کہا کلیکٹر کو ملکیت کا حق طے کرنے کا مجاز بنانا اختیارات کی تقسیم کے اصولوں کے منافی ہے۔ کیونکہ ایگزیکٹیو کو شہریوں کے حقوق کے تعین کی اجازت نہیں دی جا سکتی‘۔
عدالت نے کہا کہ جب تک کسی متنازع وقف ملکیت کا حتمی فیصلہ ٹریبیونل اور ہائی کورٹ سے نہیں آ جاتا تب تک نہ وقف بورڈ کو اس جائیداد سے بے دخل کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی رینیو ریکارڈ میں کوئی تبدیلی کی جا سکے گی۔
عدالت عظمی نے آثار قدیمہ اور دوسری تاریخی عمارتوں کو وقف کے دائرے میں لانے کے قانون کو ختم کیے جانے کی شق میں کوئی دخل نہیں دیا۔ مسلمانوں کا دعویٰ تھا کہ صرف مسلم ایسی عمارتوں کو وقف میں لینے کے مجاز ہیں۔ عدالت نے اس دلیل کو تسلیم نہیں کیا۔
اپوزیشن جماعتوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔
کانگریس پارٹی کے ترجمان جے رام رمیش نے ایک بیان میں کہا کہ ’سپریم کورٹ کا حکم اپوزیشن جماعتوں اور پارلیمانی کمیٹی کے ان ارکان کے لیے ایک بہت بڑی جیت ہے جنھوں نے اس قانون کے بارے میں اپنے تحفظات پیش کیے تھے‘۔انھوں نے کہا کہ عدالت کے اس فیصلے سے حکومت کی سازش اور ارادوں پر’روک لگ گئی ہے‘۔
دوسری جانب حکمراں بی جے پی نے کہا اس کے ذریعے بنایا گیا قانون جانچ کے عمل سے گزر رہا ہے۔ ’یہ ایک مثبت پیش قدمی ہے‘۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

دفعات پر سپریم کورٹ کا اسٹے مسلم تنظیموں نے فیصلے کا خیرمقدم کیا

Next Post

اسرائیلی فوج کی غزہ میں خون کی ہولی، مزید 53 فلسطینی شہید

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

وندے ماترم پر این سی اور کانگریس آمنے سامنے
اہم ترین

وندے ماترم پر این سی اور کانگریس آمنے سامنے

2026-09-10
انجینئر رشید کا عبوری ضمانت میںترمیم  کے لیے دہلی ہائی کورٹ سے رجوع
اہم ترین

’کیا انجینئر رشید کو سخت شرائط کے ساتھ ضمانت دی جاسکتی ہے؟‘

2026-09-10
کانگریسی ضلع صدر سمیت تین لیڈروں کو پارٹی سے نکال گیا
اہم ترین

گزشتہ ۵؍اسمبلی انتخابات میں کس جماعت کو کتنی رقم ملی

2026-09-10
آئی ایف ایف جے کے: جموں و کشمیر میں فلمی بنیادی ڈھانچے کے قیام پر زور
اہم ترین

آئی ایف ایف جے کے: جموں و کشمیر میں فلمی بنیادی ڈھانچے کے قیام پر زور

2026-09-10
نشہ مکت بھارت:سماجی انصاف کی وزارت کا۴روحانی تنظیموں کے ساتھ مفاہمت پر دستخط
اہم ترین

نشہ مکت بھارت:سماجی انصاف کی وزارت کا۴روحانی تنظیموں کے ساتھ مفاہمت پر دستخط

2026-09-10
جموں کشمیر پولیس میں انسپکٹر سطح پر بڑے پیمانے پر رد و بدل
اہم ترین

حزب المجاہدین کا ہائی برڈ دہشت گرد ماڈیول بے نقاب:پولیس

2026-09-10
کپوارہ میں سرکاری ملازم منشیات فروش نکلا‘ گرفتار، براؤن شوگر بر آمد
اہم ترین

۲۰ہزار روپے رشوت طلب اور وصول کرنے پر اہلکار گرفتار

2026-09-10
جسٹس پشپیندر سنگھ بھاٹی نے   جموں و کشمیر و لداخ ہائی کورٹ   کے چیف جسٹس کاحلف اٹھا لیا
اہم ترین

جسٹس پشپیندر سنگھ بھاٹی نے  جموں و کشمیر و لداخ ہائی کورٹ  کے چیف جسٹس کاحلف اٹھا لیا

2026-09-10
Next Post
اسرائیلی فوج کی غزہ میں خون کی ہولی، مزید 53 فلسطینی شہید

اسرائیلی فوج کی غزہ میں خون کی ہولی، مزید 53 فلسطینی شہید

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.