سرینگر/۱۵ستمبر
سپریم کورٹ نے مسلمانوں کی طرف سے ’اللہ کے نام پر‘وقف کی گئی جائیدادوں سے متعلق نئے ترمیمی قانون میں اس شق کو معطل کر دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ صرف وہی شخص اپنی املاک کو وقف کر سکتا ہے جو کم از کم پانچ برس سے ’پریکٹسنگ مسلمان‘ ہو۔
عدالت عظمی نے وقف ترمیمی قانون کے خلاف دائر کی گئی مختلف درخواستوں پر سماعت کے بعد اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ جب تک حکومت پریکٹسنگ مسلمان کے تعین کی تشریح نہیں کرتی تب تک اس شق کا اطلاق نہیں ہو گا۔ عدالت عظمی نے اپنے اس فیصلے میں وقف بورڈ میں غیر مسلم ارکان کی تعداد بھی محدود کر دی ہے۔
وقف ترمیمی قانون پارلیمنٹ پاس ہونے اور صدر مملکت کی منظوری کے بعد گذشتہ مئی میں نافذ کیا گیا تھا۔ اسے ملک کے سرکردہ مسلم اداروں اور رہنماؤں نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا اس قانون کی شقیں وقف کے انتظام کے حوالے سے مسلمانوں کے مذہبی حقوق کے مناقی ہیں اور اسے غیر آئینی قرار دیا جائے۔
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بی آر گوائی اور جسٹس اے بی مسیح پر مشتمل بینچ نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ عدالت نے ۱۹۲۳ میں بنائے گئے قانون سے موجودہ قانون تک کی تاریخ کا مطالعہ کیا ہے اور ہر اس شق پر غور کیا جسے چیلنج کیا گیا ہے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا ’’ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ عرضی گزاروں نے تمام وقف قانون کو چیلنج نہیں کیا ہے۔ تاہم بعض شقوں جنھیں چیلنج کیا گیا ہے، ان میں قانونی تحفظ کی ضرورت ہے‘‘۔
عدالت عظمی نے کہا کہ نئے وقف ترمیمی قانون کی مذکورہ شق اس وقت تک معطل رہے گی جب تک کہ حکومت اس سوال کے تعین کی تشریح کا کوئی ضابطہ اختیار نہیں کرتی کہ آیا کوئی شخص کم از کم پانچ برس سے اسلام کیطریقہ کار پر عمل کر رہا ہے یا نہیں۔
عدالت نے کہا ’اس طرح کے ضابطے کی عدم موجودگی میں اس قانون کا غلط استعمال کیا جا سکتا ہے‘‘۔
مرکزی حکومت نے ملک کے وقف قانون میں بڑے پیمانے پر ترمیم کرنے کے بعد ایک نیا قانون منظور کیا تھا جس میں نہ صرف جائدادیں وقف کرنے کو مشروط کر دیا گیا تھا بلکہ اس کا بیشتر انتظام اور اختیار بھی حکومت کے تابع کر دیا گیا تھا۔
وقف کے انتظامات دیکھنے والے مرکزی اور ریاستی اداروں میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ نامزد غیر مسلم ارکان کو بھی شامل کیا گیا تھا۔
مئی ۲۰۲۵میں جب یہ قانون نافذ کیا گیا تھا تو اس وقت حکومت نے کہا تھا کہ اس قانون کا مقصد وقف کی املاک کے لیے ایک بہتر اور شفاف نظام فراہم کرنا ہے۔
مسلم عرضی گزاروں نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ مرکزی اور ریاستی وقف بورڈز میں صرف مسلم ارکان شامل کیے جائیں۔ ان کی یہ دلیل تھی کہ وقف ایک خالص مذہبی عمل ہے اور دیگر مذاہب کی طرح مسلمانوں کے مذہبی امور کی ذمہ داری صرف مسلمانوں کو ہی دی جائے۔نئے ترمیمی قانون میں حکومت نے مسلمانوں کے ساتھ ساتھ غیر مسلم ارکان کی بھی شمولیت کا بھی انتظام کیا تھا۔
اب عدالت عظمی نے کہا ہے کہ اگرچہ وقف بورڈز میں غیر مسلموں کی شمولیت کی شق کو معطل نہیں کیا گیا لیکن ان کی تعداد محدود کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت عظمی نے کہا کہ مرکزی وقف کونسل کے۲۲؍ ارکان میں چار سے زیادہ غیر مسلم ارکان نہیں ہوں گے، اسی طرح ریاستی وقف بورڈز میں ۱۱میں سے۳سے زیادہ غیر مسلم ارکان نامزد نہیں کیے جا سکتے۔
عدالت نے عرضی گزاروں کی یہ درخواست تسلیم نہیں کی کہ ریاستی بورڈز کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر مسلم ہی ہوں گے۔ تاہم عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ جہاں تک ممکن ہو، اس عہدے کیلئے کسی مسلم افسر کو ہی مقرر کیا جائے۔
عدالت عظمی نے نئے قانون کی اس شق پر بھی روک لگا دی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ وقف کی زمین پر حکومت سے کسی تنازعے کی صورت میں کلیکٹر کی رپورٹ آنے تک وہ مخصوص جائداد وقف کی ملکیت نہیں رہے گی۔
اس فیصلے میں قانون کی اس شق کو بھی معطل کر دیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ’اگر مقررہ افسر متنازع جائیداد کو سرکاری ملکیت کی جائیداد پاتا ہے تو وہ ریکارڈ میں مطلوبہ ترمیم کرے گا اور اس کے بارے میں ایک رپورٹ ریاستی حکومت کو پیش کرے گا‘۔
عدالت عظمی نے کہا کلیکٹر کو ملکیت کا حق طے کرنے کا مجاز بنانا اختیارات کی تقسیم کے اصولوں کے منافی ہے۔ کیونکہ ایگزیکٹیو کو شہریوں کے حقوق کے تعین کی اجازت نہیں دی جا سکتی‘۔
عدالت نے کہا کہ جب تک کسی متنازع وقف ملکیت کا حتمی فیصلہ ٹریبیونل اور ہائی کورٹ سے نہیں آ جاتا تب تک نہ وقف بورڈ کو اس جائیداد سے بے دخل کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی رینیو ریکارڈ میں کوئی تبدیلی کی جا سکے گی۔
عدالت عظمی نے آثار قدیمہ اور دوسری تاریخی عمارتوں کو وقف کے دائرے میں لانے کے قانون کو ختم کیے جانے کی شق میں کوئی دخل نہیں دیا۔ مسلمانوں کا دعویٰ تھا کہ صرف مسلم ایسی عمارتوں کو وقف میں لینے کے مجاز ہیں۔ عدالت نے اس دلیل کو تسلیم نہیں کیا۔
اپوزیشن جماعتوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔
کانگریس پارٹی کے ترجمان جے رام رمیش نے ایک بیان میں کہا کہ ’سپریم کورٹ کا حکم اپوزیشن جماعتوں اور پارلیمانی کمیٹی کے ان ارکان کے لیے ایک بہت بڑی جیت ہے جنھوں نے اس قانون کے بارے میں اپنے تحفظات پیش کیے تھے‘۔انھوں نے کہا کہ عدالت کے اس فیصلے سے حکومت کی سازش اور ارادوں پر’روک لگ گئی ہے‘۔
دوسری جانب حکمراں بی جے پی نے کہا اس کے ذریعے بنایا گیا قانون جانچ کے عمل سے گزر رہا ہے۔ ’یہ ایک مثبت پیش قدمی ہے‘۔










