سرینگر/۱۳ ستمبر
۲۷۰کلومیٹر طویل جموں،سرینگر نیشنل ہائی وے، جو اس خطے کے لیے ایک اہم شہ رگ ہے، مسافروں کیلئے بدنظمی اور مایوسی کا منظر پیش کر رہا ہے۔ تین ہفتے پہلے تک جو سفر تقریباً پانچ گھنٹے میں مکمل ہوتا تھا، اب سڑک کے خراب ہونے اور ناقص انتظام کی وجہ سے بارہ گھنٹے سے زیادہ کھینچ رہا ہے۔
یہ ہائی وے، جو وادی کشمیر کو ملک کے باقی حصوں سے جوڑنے والی واحد ہمہ موسمی سڑک ہے، کئی جگہوں پر شدید نقصان کا شکار ہوئی، خاص طور پر ناشری اور ادھمپور کے درمیان کا حصہ، جو ۲۶؍ اور۲۷؍ اگست کی ریکارڈ بارش کے بعد بری طرح متاثر ہوا۔ تاہم، نقصان زدہ حصہ گاڑیوں کی روانی میں واحد رکاوٹ نہیں ہے۔
اگرچہ حکام نے تین روز پہلے شاہراہ دوبارہ کھلنے کے بعد یکطرفہ ٹریفک نظام نافذ کیا، لیکن ناقص انتظام نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا، جیسا کہ اس مرکزی سڑک کو استعمال کرنے والے مسافروں نے‘خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کو بتایا۔
ٹرک ڈرائیورز، جنہیں اس وقت سڑک پر چلنے کی سرکاری طور پر اجازت نہیں ہے، نے تقریباً پوری شاہراہ پر ایک طرف کو مکمل طور پر جام کر رکھا ہے، جبکہ نقصان زدہ حصوں پر مسلسل کام کی وجہ سے شدید ٹریفک جام ہو رہا ہے۔
صورتِ حال کو لین ڈسپلن کی مکمل خلاف ورزی، بے ہنگم اوورٹیکنگ اور ٹریفک کنٹرول کی تقریباً غیر موجودگی نے مزید خراب کر دیا ہے۔ تاہم، مسافروں نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا (این ایچ اے آئی) کی تعریف کی، جس نے ادھمپور ضلع کے تھریڈ علاقے میں بری طرح متاثرہ بلی نالہ اور تھرید کے درمیان ایک ڈائیورڑن بنایا ہے، جہاں شاہراہ دونوں طرف سے ایک کھسکتے ہوئے پہاڑ کے نیچے دب گئی تھی۔
این ایچ اے آئی کے ایک اہلکار، جو تھریڈ کے قریب کام کی نگرانی کر رہے تھے، نے پی ٹی آئی کو بتایا ’’سطح ابھی مکمل طور پر مستحکم نہیں ہے اور ہمیں ٹریفک کو چلتا رکھنے کے لیے اپنے عملے اور مشینری کو تیار رکھنا پڑتا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ناشری اور ادھمپور کے درمیان چار مقامات پر بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے، خاص طور پر سمرولی علاقے میں جہاں شاہراہ کے کچھ حصے بہہ گئے ہیں، اس کے علاوہ پیرہ کے قریب ایک بڑے لینڈ سلائیڈ کی وجہ سے ایک سرنگ کی ایک ٹیوب مکمل طور پر بند ہے۔ ’’شاہراہ کی مکمل بحالی میں کئی مہینے لگیں گے۔ جہاں سڑک بہہ گئی ہے وہاں بیڈ کو دوبارہ اٹھانے اور مستحکم کرنے کے لیے کم از کم تین مہینے درکار ہیں۔‘‘
ایک ٹریفک اہلکار نے کہا کہ فی الحال ہم شاہراہ پر یکطرفہ ہلکی گاڑیوں کو چلنے کی اجازت دے رہے ہیں۔ ’’۱۱ ستمبر کو ہلکی گاڑیوں کو آزمائشی بنیاد پر اجازت دی گئی تھی لیکن سڑک کی پھسلن کی وجہ سے گاڑیاں پھنس گئیں اور انہیں دن بھر کھدائی کرنے والی مشینوں اور لوڈرز سے دھکیلا گیا۔ تھریڈ کے اس حصے کے گیلا ہونے کی وجہ سے بھاری گاڑیوں کو اجازت نہیں دی جا سکتی جب تک کہ بیڈ خشک نہ ہو جائے۔‘‘
تاہم زمینی صورتحال بالکل مختلف ہے کیونکہ ٹرک بھی مسافر گاڑیوں، بشمول بسوں کے ساتھ چلتے دیکھے گئے۔ ٹول پلازہ کے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق تقریباً ڈھائی ہزار ٹرک، جن میں پھل سے لدے ٹرک بھی شامل تھے، جمعہ شام چار بجے سے ہفتہ صبح آٹھ بجے تک یعنی۱۶ گھنٹوں کے دوران شاہراہ پر چلے، باوجود اس کے کہ پابندیاں نافذ تھیں۔
سرینگر کے ڈاکٹر محمد الطاف، جو اپنے اہل خانہ کے ساتھ سفر کر رہے تھے، نے کہا: ’’جو سفر کبھی پانچ گھنٹوں کا ہوا کرتا تھا اب ایک ڈراؤنا خواب بن گیا ہے…ہم نے جمعہ صبح ساڑھے آٹھ بجے سرینگر سے جموں کے لیے روانگی کی، یہ جانتے ہوئے کہ ٹریفک ایڈوائزری کے مطابق مخالف سمت کا ٹریفک بند ہے۔ ہمیں قاضی گنڈ سیکٹر میں ایک ٹیوب میں درجنوں ٹرکوں نے روک دیا جس سے دوسری ٹیوب دونوں طرف سے جام ہو گئی۔ لین ڈسپلن نہ ہونے کی وجہ سے سڑک انتہائی خطرناک بن گئی ہے۔‘‘
الطاف نے کہا کہ انہیں بانہال،رامبن سیکٹر میں کئی کلومیٹر تک شاہراہ کے غلط رخ پر گاڑی چلانی پڑی کیونکہ ’’نہ تو کوئی ڈائیورڑن کا بورڈ تھا اور نہ ہی کوئی ٹریفک پولیس اہلکار رہنمائی کے لیے موجود تھا۔‘‘
چنڈی گڑھ جانے والے جسبیر سنگھ نے کہا کہ صبر کا اصل امتحان پیرہ سے ناشری تک شروع ہوتا ہے، جہاں سڑک کی مرمت کرنے والی ایجنسی بار بار ضروری کام کے لیے حصے کو بند کر دیتی ہے۔ سنگھ نے کہا کہ وہ صبح ساڑھے گیارہ بجے ناشری پہنچے اور محض تین کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے میں شام ساڑھے سات بجے تک کا وقت لگ گیا۔
جموں کے تاجر روی کمار شرما نے کہا’’مشکلیں ابھی ختم نہیں ہوئی تھیں کیونکہ ٹرکوں نے ادھمپور میں ایک ٹیوب کو بند کر دیا اور دوسری ٹیوب کی ایک لین پر بھی قبضہ جما لیا، جس کی وجہ سے مکمل بدنظمی پیدا ہو گئی۔ جھکانی میں آدھا کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے میں دو گھنٹے سے زیادہ لگ گئے، صرف اور صرف ناقص ٹریفک مینجمنٹ کی وجہ سے‘‘۔
شرما نے کہا کہ ٹریفک محکمے کو شاہراہ پر ڈسپلن قائم رکھنے کے لیے خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنی پڑی۔ ’’یہ ناقابلِ تصور تھا کہ ٹرک ڈرائیوروں کو ایک ٹیوب مکمل طور پر بند کرنے اور دوسری پر بھی قبضہ کرنے کی اجازت دی گئی۔ ادھمپور ایک اہم قصبہ ہے اور آپ ایمبولینسوں کو بھی ٹریفک جام میں پھنسا ہوا دیکھ سکتے تھے۔‘‘









