اگر ہم ان عوامل کی نشاندہی کر سکیں تو لوگوں کیلئے کم از کم ممکنہ قبل از وقت وارننگ فراہم کر سکتے ہیں:جتندرا
جموں میں ایک مکمل آئی ایم ڈی ریجنل سینٹر قائم کرنے کا منصوبہ ہے‘مزید چار موسمی ریڈار نصب کیے جائیں گے
(ندائے مشرق ویب ڈیسک)
سرینگر/۱۲ ستمبر
مرکزی وزیر‘ڈاکٹر جتندر سنگھ نے جمعہ کو زلزلوں اور بادل پھٹنے (کلاؤڈ برسٹ) کی درست پیش گوئی سے جڑے چیلنجز پر روشنی ڈالی اور کہا کہ بادل پھٹنے کے پیچھے کارفرما عوامل کا مطالعہ کیا جا رہا ہے تاکہ قبل از وقت انتباہ فراہم کیا جا سکے۔
ڈاکٹر سنگھ نے کہا ’’ابھی تک زلزلوں اور بادل پھٹنے کے لیے کوئی درست پیش گوئی کرنے کی صلاحیت موجود نہیں ہے، لیکن ہم بادل پھٹنے کے پیچھے کارفرما عوامل کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ عام طور پر جب کسی مقام پر نمی اور گرمی ہوتی ہے تو یہ دھماکہ خیز شکل اختیار کر لیتا ہے (جو بادل پھٹنے کا سبب بنتا ہے)۔ اگر ہم ان عوامل کی نشاندہی کر سکیں تو کم از کم ممکنہ قبل از وقت وارننگ فراہم کر سکتے ہیں۔‘‘
مرکزی وزیرنے یہ بات جمعہ کو جموں میں پی آئی بی کے زیر اہتمام ورتالاپ پروگرام میں صحافیوں کو بتائی۔
ڈاکٹر سنگھ نے مزید کہا کہ محکمہ نے ہمالیائی ماحولیاتی مشن جیسے پروگرام بھی شروع کیے ہیں تاکہ ان مظاہر کو بہتر طریقے سے سمجھا جا سکے۔
موسم کی پیش گوئی کو بہتر بنانے پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ جموں میں ایک مکمل آئی ایم ڈی ریجنل سینٹر قائم کرنے کا منصوبہ ہے، اس کے علاوہ یونین ٹیریٹری میں مزید چار موسمی ریڈار نصب کیے جائیں گے۔ پروگرام میں سنگھ نے ضلع ریاسی میں لیتھیم کی تلاش پر بھی بات کی اور کہا کہ ابتدائی ٹینڈرنگ مرحلے میں کمزور ردعمل کے بعد یہ عمل دوبارہ شروع کیا جائے گا۔
ڈاکٹر سنگھ نے کہا ’’جب ایکسپلوریشن کیا جائے گا تو ہمیں موجود لیتھیم کی اصل مقدار کا پتہ چلے گا۔ ملک میں کئی خصوصی کمپنیاں موجود ہیں لیکن شاید اب تک کوئی آگے نہیں آئی۔ ہم اس عمل کو دوبارہ شروع کریں گے۔‘‘
مرکزی وزیر نے ملک میں اسٹارٹ اپس کی ترقی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ بھارت دنیا کا تیسرا سب سے بڑا اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم بن گیا ہے، جہاں اسٹارٹ اپس کی تعداد ۲۰۱۴ میں صرف ۳۵۰سے بڑھ کر ۲۰۲۵ میں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے۔
ڈاکٹر سنگھ نے جموں و کشمیر میں سی ایس آئی آر،اروما مشن کو اجاگر کیا، جس کے تحت پورے دیہی بھارت میں ۳ہزار سے زیادہ لیونڈر پر مبنی اسٹارٹ اپس قائم کیے گئے ہیں۔
مرکزی وزیر نے کہا، ’’یہ اسٹارٹ اپس نہ صرف خاطر خواہ آمدنی پیدا کر رہے ہیں بلکہ روزگار کے مواقع بھی فراہم کر رہے ہیں اور اس طرح ہزاروں خاندانوں کی زندگیوں کو بدل رہے ہیں۔‘‘
ڈاکٹر سنگھ نے مزید کہا کہ اگر ڈسٹلیشن سہولیات جموں میں قائم کی جائیں بجائے اس کے کہ باہر لگائی جائیں، تو جموں پرفیوم انڈسٹری کا مرکز بن سکتا ہے۔ ’’ہم اس کے لیے نجی صنعت کو ہمارے ساتھ شامل ہونے کی دعوت دیتے ہیں‘‘۔
بین الاقوامی تعاون پر بات کرتے ہوئے سنگھ نے کہا، ’’فرانس میں ایک پرفیوم ہب ہے جسے گراس کہتے ہیں، یہ ایک گاؤں ہے جو پرفیوم میں استعمال ہونے والے پھول اگانے کے لیے مشہور ہے۔ میں گراس گیا اور وہاں قونصل جنرل سے بات کی۔ ہمارا مقصد مقامی مصنوعات میں قدر میں اضافہ کرنا اور اس مشن میں نجی شعبے کو بہتر طور پر شامل کرنا ہے۔‘‘
ڈاکٹر سنگھ نے میڈیا کی بھی تعریف کی کہ وہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے منظرنامے کو تشکیل دینے اور ماحولیات سے متعلق مسائل کو اجاگر کرنے میں ایک تبدیلی لانے والا کردار ادا کر رہا ہے۔
یاد رہے کہ جموں و کشمیر کے مختلف اضلاع میں حالیہ دنوں بادل پھٹنے کے واقعات نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے جس کے نتیجے میں درجنوں افراد جاں بحق اور کئی زخمی ہوئے ہیں جبکہ املاک اور بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
سب سے ہولناک واقعہ ۱۴؍ اگست کو کشتواڑ کے پڈر-تشوتی علاقے میں ماچھل ماتا یاترا کے دوران پیش آیا، جہاں اچانک بادل پھٹنے سے طوفانی پانی اور مٹی کے تودے یاتریوں کے کیمپ اور مقامی آبادی پر ٹوٹ پڑے۔ اس سانحے میں تقریباً پینتالیس افراد جاں بحق ہوئے، سو سے زیادہ زخمی ہوئے اور کئی افراد ابھی تک لاپتہ ہیں۔ درجنوں مکانات، گاڑیاں، لنگر اور سکیورٹی پوسٹیں پانی اور ملبے میں بہہ گئیں، جس سے یاترا کو فوری طور پر روکنا پڑا اور بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا۔
اسی طرح ۱۷؍ اگست کو کٹھوعہ ضلع کے جوڑھ گھاٹی اور جنگلوٹے علاقوں میں بادل پھٹنے اور زمین کھسکنے کے نتیجے میں سات افراد کی جانیں گئیں اور پانچ دیگر زخمی ہوئے۔ شدید بارش اور طغیانی سے مکانات اور سڑکیں تباہ ہو گئیں اور کئی دیہات کا رابطہ ٹوٹ گیا۔ مقامی انتظامیہ کے ساتھ فوج اور ایس ڈی آر ایف کی ٹیموں نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے پھنسے ہوئے افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔
رامبن ضلع میں بھی اگست کے اواخر میں راجگڑھ تحصیل کے مختلف پنچایت علاقوں میں بادل پھٹنے کے بعد نالوں میں شدید طغیانی آئی جس سے متعدد مکانات زمین بوس ہو گئے۔ اس واقعے میں کئی افراد لاپتہ ہوئے جبکہ دو لاشیں برآمد ہوئیں۔ مسلسل بارش اور خراب موسم کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ پیش آئی لیکن مقامی لوگوں کے تعاون سے ریسکیو آپریشن جاری رہا۔
ادھر ڈوڈہ ضلع اور دیگر پہاڑی علاقوں میں بھی شدید بارشوں کے نتیجے میں بادل پھٹنے اور زمین کھسکنے کے واقعات سامنے آئے، جس کے باعث جموں-سرینگر ہائی وے کئی مقامات پر بند رہا اور وادی کے باقی حصوں سے رابطہ متاثر ہوا۔ ان قدرتی آفات نے مقامی آبادی کو شدید مشکلات میں ڈال دیا ہے، فصلوں اور کھیتوں کو نقصان پہنچا ہے اور متاثرہ خاندانوں کو فوری امداد کی ضرورت ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث بادل پھٹنے جیسے خطرناک واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جو نہ صرف انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بنتے ہیں بلکہ بنیادی ڈھانچے اور معیشت کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔ حکام نے عوام کو محتاط رہنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر متعلقہ محکموں کو اطلاع دینے کی اپیل کی ہے۔










