سرینگر کے سٹی جج کورٹ کے جج عبدالباری نے ایک شخص کو چیک فراڈ کے معاملے میں مجرم قرار دیتے ہوئے ایک سال کی سادہ قید اور ۴۰ لاکھ روپے سے زائد جرمانے کی سزا سنائی ہے۔
مجرم کی شناخت حکیم ظفر احمد ولد گل محمد حکیم ساکن گلبرگ کالونی بْژھ سرینگر کے طور پر ہوئی ہے۔ عدالت نے انہیں رتن سنگھ ولد سادھو سنگھ ساکن لال پورہ ترال پلوامہ سے۳۰لاکھ روپے قرض لینے کے بعد جعلی چیک جاری کرنے کا مجرم پایا۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق‘ظفر نے۳۰ لاکھ روپے کا قرض لیا تھا اور اس کے عوض ایک تحریری اقرار نامہ، ہْندی اور رسید وغیرہ رتن سنگھ کے حق میں تیار کی تھی۔ قرض کی ادائیگی کے لیے اس نے تین چیک جاری کیے لیکن تمام چیک فنڈز کی کمی کے باعث باؤنس ہو گئے۔
قانونی نوٹس موصول ہونے کے باوجود ادائیگی نہ کرنے پر رتن سنگھ نے ۲۰۱۹ میں عدالت سے رجوع کیا اور نیگوشی ایبل انسٹرومنٹس ایکٹ کی دفعہ ۱۳۹ کے تحت شکایت درج کی، جو چیک باؤنس کے معاملات سے متعلق ہے۔
مقدمے کی سماعت کے دوران کئی گواہوں کے بیانات قلمبند اور جرح کی گئی۔
۶۷ صفحات پر مشتمل اپنے تفصیلی فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ شکایت کنندہ نے یہ بات ثابت کی کہ چیک ایک قانونی قرض کی ادائیگی کے لیے جاری کیے گئے تھے اور فنڈز کی کمی کے باعث باؤنس ہوئے۔
جج عبدالباری نے ریمارکس دیے کہ ملزم نہ صرف قرض کی ادائیگی میں ناکام رہا بلکہ واضح دستاویزی شواہد اور قانونی نوٹس کے باوجود ذمہ داری سے بچنے کی کوشش بھی کی۔
عدالت نے ظفر احمد کو ایک سال کی سادہ قید اور ۴۰ لاکھ ۳۵ ہزار روپے جرمانہ عائد کیا، جس میں۳۰لاکھ روپے اصل قرض اور بقایا رقم ۶ فیصد سود کے طور پر شامل ہے، جو چیک کے اجرا کی تاریخ سے فیصلے کی تاریخ تک شمار کیا گیا۔ عدالت نے ہدایت دی کہ یہ جرمانہ ایک ماہ کے اندر شکایت کنندہ کو ادا کیا جائے۔
واضح رہے کہ نیگوشی ایبل انسٹرومنٹس ایکٹ کی دفعہ۱۳۸ ؍ایک سخت دفعہ ہے جس کا مقصد مالی لین دین میں شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔ اس دفعہ کے تحت سزا میں قید اور جرمانہ دونوں شامل ہو سکتے ہیں، جو چیک فراڈ کے خلاف ایک مؤثر باز ڈیٹررنٹ سمجھا جاتا ہے۔
مبصرین کے مطابق یہ فیصلہ ایک سخت پیغام دیتا ہے کہ مالی فراڈ کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور چیک باؤنس کے معاملات کو قانون کے تحت سختی سے نمٹا جائے گا۔








