واشنگٹن، 10 ستمبر (یو این آئی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ قطر پر حملے کا فیصلہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا تھا میرا نہیں۔
خبررساں ایجنسی کے مطابق منگل کو اسرائیل نے قطر کے دارالحکومت دوحہ پر فضائی حملہ کرکے فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کی مرکزی قیادت کو نشانہ بنایا تھا۔ تاہم اس حملے کی مشرق وسطیٰ اور اس سے باہر وسیع پیمانے پر مذمت کی گئی کیونکہ یہ ایک ایسا عمل ہے جو پہلے سے کشیدہ خطے میں مزید تناؤ کو بڑھا سکتا ہے ۔
ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے امریکی ایلچی اسٹیو وٹکاف کو قطر کو حملے کی پیشگی اطلاع دینے کی ہدایت کی تھی، لیکن حملے کو روکنے کے لیے بہت دیر ہوچکی تھی۔ تاہم قطر نے وائٹ ہاؤس کے ان دعوؤں کی تردید کی اور کہا کہ حملے سے پہلے اطلاع ملنے کی رپورٹس غلط ہیں اور ایک امریکی عہدیدار کا فون اس وقت آیا جب قطری دارالحکومت دوحہ میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔
ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ قطر کے اندر یکطرفہ بمباری، جو ایک خودمختار قوم اور امریکہ کے قریبی اتحادی ہے ، جو ہمارے ساتھ مل کر امن کے لیے مذاکرات میں بہادری سے خطرات مول لے رہا ہے ، نہ تو اسرائیل اور نہ ہی امریکہ کے مقاصد کو آگے بڑھاتا ہے ۔
ٹرمپ نے کہا کہ مارکو روبیو کو قطر کے ساتھ دفاعی تعاون معاہدے کو حتمی شکل دینے کا کہا ہے ، حماس نے کہا کہ دوحہ میں اسرائیلی حملے میں اس کے پانچ ارکان شہید ہوئے ، جس میں سربراہ خلیل الحیا کے بیٹے بھی شامل ہیں۔
واضح رہے کہ واشنگٹن قطر کو خلیج میں ایک مضبوط اتحادی سمجھتا ہے ۔ قطر اسرائیل اور فلسطینی عسکریت پسند گروپ حماس کے درمیان جنگ بندی، حماس کے زیر حراست اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی اور تنازع کے بعد غزہ کے منصوبے کے لیے مذاکرات میں ثالث رہا ہے ۔
حملے کے بعد ٹرمپ نے نیتن یاہو اور قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی دونوں سے بات کی۔ انہوں نے قطر کے رہنما کو یقین دلایا کہ "ایسی چیز ان کے علاقے میں دوبارہ نہیں ہوگی،[؟] اور مزید کہا کہ انہیں حملے کے مقام کے بارے میں "بہت برالگا۔







