قدرتی آفات انسان کو یہ یاد دلاتی ہیں کہ فطرت کے سامنے ہم سب برابر ہیں۔ وہ نہ مذہب دیکھتی ہیں، نہ خطہ، نہ سیاسی وابستگی۔ جموں و کشمیر میں حالیہ دنوں آنے والے شدید بارشوں اور سیلاب نے ایک بار پھر یہ حقیقت اجاگر کی ہے۔ دریا لبریز ہو گئے، پل اور سڑکیں ٹوٹ گئیں، بستیاں ڈوب گئیں، اور ہزاروں خاندان بے گھر ہو کر کھلے آسمان تلے آگئے۔ یہ ایک انسانی سانحہ ہے، اور اس کا جواب بھی انسانی ہمدردی اور قومی یکجہتی کے ساتھ دیا جانا چاہیے۔
ان مشکل حالات میں جموں و کشمیر کے عوام سب سے پہلے اپنی حکومت کی طرف دیکھتے ہیں۔ انہیں یقین ہے کہ مرکز اپنی ذمہ داری کو نبھائے گا اور اس آزمائش کی گھڑی میں انہیں تنہا نہیں چھوڑے گا۔ بھارت ایک جمہوری اور فلاحی ریاست ہے، اور اسی بنیاد پر توقع کی جاتی ہے کہ حکومت ہند تیز رفتاری کے ساتھ ریلیف اقدامات کرے گی تاکہ متاثرہ خاندانوں کے زخم بھر سکیں اور وہ دوبارہ معمول کی زندگی کی طرف لوٹ سکیں۔
لوگوں کو یاد ہے کہ ۲۰۱۴ میں جب کشمیر میں سیلاب آیا تھا تو ایک تو وزیرا عظم ‘ نریندرا مودی نے وادی سیلابی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے وادی کے متعدد دورے کئے تھے ‘دوئم باز آباد کاری اور بحالی کو ممکن بنانے کیلئے انہوں نے فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہو ئے ایک بڑے مالی پیکیج کا بھی اعلان کیا تھا ۔جموں کشمیر کے لو گ ایک بار پھر ان کی طرف امید بھریں نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں تاکہ سیلاب کی وجہ سے انہیں جن مشکلات اور نقصانات کا سامنا کرنا پڑے ‘ مرکز ایک بار پھر ان کا ہاتھ تھام کر ریلیف پیکیج کا اعلان کرے ۔
پہلا مرحلہ فوری ریلیف کا ہے۔ ‘کھانے پینے کے انتظام، ادویات اور صاف پانی کی فراہمی سب سے زیادہ ضروری ہیں۔ خواتین، بچے اور بزرگ سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، اور ان تک بروقت امداد پہنچانا حکومت کے اولین فرائض میں شامل ہے۔ اس وقت اگر مرکز اور ریاستی انتظامیہ باہمی تعاون سے کام کریں تو متاثرین کو جلد سہارا مل سکتا ہے اور بڑے انسانی بحران سے بچا جا سکتا ہے۔
دوسرا پہلو مالی معاونت کا ہے۔ کسانوں کی کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں، چھوٹے دکانداروں کا مال ضائع ہوگیا اور مزدور طبقہ روزگار سے محروم ہو گیا۔ حکومت اگر فراخ دلی سے معاوضہ اور بلاسود قرضے فراہم کرے تو یہ خاندان دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکتے ہیں۔ یہ معاونت محض ریلیف نہیں بلکہ ریاست اور شہریوں کے درمیان اعتماد کے رشتے کو بھی مضبوط کرے گی۔ جب لوگ دیکھیں گے کہ حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے تو ان کا یقین بڑھ جائے گا کہ یہ ملک واقعی سب کا ہے۔
تیسری ضرورت طویل المدتی منصوبہ بندی کی ہے۔ کشمیر بار بار آنے والے سیلابوں کا شکار ہے۔ یہ محض قدرتی حادثہ نہیں بلکہ کمزور ڈھانچے اور ناکافی تیاری کی بھی نشانی ہے۔ حکومت اگر اس موقع کو ایک سبق کے طور پر لے اور مضبوط بند، جدید فلڈ وارننگ سسٹم اور نکاسی آب کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کرے تو یہ خطہ آئندہ آفات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ ہو سکتا ہے۔ یہ اقدامات نہ صرف مقامی لوگوں کے لیے سکون کا باعث ہوں گے بلکہ قومی سطح پر یہ پیغام دیں گے کہ ریاست کسی خطے کو نظر انداز نہیں کرتی۔
یہاں ایک اور پہلو بھی اہم ہے…شفافیت۔ عوام چاہتے ہیں کہ جو امداد آئے وہ براہِ راست انہی تک پہنچے۔ حکومت اگر مقامی کمیونٹی تنظیموں اور معتبر سماجی اداروں کو عمل میں شریک کرے تو امداد زیادہ مؤثر اور تیز رفتار انداز میں پہنچ سکتی ہے۔ اس عمل سے حکومت پر اعتماد بھی بڑھے گا اور متاثرین کو اطمینان بھی ہوگا کہ ان کی آواز سنی جا رہی ہے۔
جموں و کشمیر کے عوام نے ہمیشہ مشکلات میں صبر اور ہمت کا مظاہرہ کیا ہے۔ لیکن ہر آفت ان کے وسائل اور حوصلے کو مزید کمزور کرتی ہے۔ اس وقت انہیں نہ صرف مالی امداد بلکہ اخلاقی سہارا بھی درکار ہے۔ حکومت اگر کھلے دل سے مدد کرے تو یہ صرف زخموں کا مرہم نہیں ہوگا بلکہ اتحاد اور اخوت کا پیغام بھی بنے گا۔
قدرتی آفات ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہیں کہ ہم سب ایک ہی دھرتی کے بیٹے ہیں۔ ایک خطے کا دکھ پورے ملک کا دکھ ہے۔ اگر ہم ایک دوسرے کا سہارا بنیں تو یہ ملک نہ صرف مضبوط ہوگا بلکہ اپنے شہریوں کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ بھی بنے گا۔
سیلاب کا پانی جلد یا بدیر اتر جائے گا، لیکن یہ حکومت پر ہے کہ وہ متاثرین کے زخم کتنی جلدی بھر سکتی ہے۔ اگر یہ موقع ضائع ہوا تو لوگوں کے دلوں میں شکوے بڑھیں گے، لیکن اگر مرکز ہمدردی اور عمل کا مظاہرہ کرے تو یہ لمحہ قومی یکجہتی کی ایک خوبصورت مثال بن سکتا ہے۔
مرکزی حکومت کے ایک وفد نے حالیہ دنوں میں جموں کا دورہ کیا تھا اور اب ایک اور وفد کشمیر آرہا ہے تاکہ نقصانات کا جائزہ لیا جا سکے ۔ امید کی جانی چاہیے کہ ان دوروں کے بعد مرکز ریلیف پیکیج کا اعلان کر ے گا تاکہ سیلاب سے متاثرہ لوگوں کی زندگی بحال ہو جائے اور وہ اپنے معمول کے کام کاج میں لگ جائیں ۔





