نائب صدر کے عہدے کیلئے منگل کو ووٹنگ ہوگی جس میں لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے ارکان حصہ لیں گے ۔
اس الیکشن میں لوک سبھا کے۵۴۲موجودہ ممبران اور راجیہ سبھا کے۲۳۹موجودہ ممبران ہی ووٹ ڈال سکیں گے ۔ اس طرح الیکٹورل کالج میں اس وقت۷۸۱ممبران ہیں اور کسی بھی امیدوار کو جیتنے کے لیے کم از کم۳۹۱ووٹ درکار ہوں گے ۔
نئے پارلیمنٹ ہاؤس میں صبح ۱۰بجے سے شام ۵بجے تک ووٹنگ ہوگی اور ووٹوں کی گنتی شام۶بجے سے شروع ہوگی۔
نائب صدر کے انتخاب کے لیے نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے ) نے مہاراشٹر کے گورنر سی پی رادھا کرشنن کو نامزد کیا ہے جبکہ انڈیا الائنس نے سپریم کورٹ کے سابق جج بی سدرشن ریڈی کو اپنا امیدوار نامزد کیا ہے ۔
لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں نمبروں کی بنیاد پر نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے ) کو واضح اکثریت حاصل ہے اور اس وجہ سے اس کے امیدوار کی برتری نظر آتی ہے ۔
پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے تمام اراکین پارلیمنٹ نائب صدر کے انتخاب کے لیے الیکٹورل کالج میں ووٹ ڈالتے ہیں۔ لوک سبھا میں ارکان کی کل تعداد۵۴۳ہے لیکن ایک نشست خالی ہونے کی وجہ سے۵۴۲ارکان ہی ووٹنگ میں حصہ لے سکیں گے ۔
راجیہ سبھا میں ارکان کی کل تعداد ۲۴۵ہے جبکہ چھ نشستیں خالی ہیں جس کی وجہ سے۲۳۹؍ارکان ووٹ ڈال سکتے ہیں۔ اس طرح ووٹ دینے کے اہل ارکان کی کل تعداد ۷۸۱ہے ۔ کسی بھی امیدوار کو الیکشن جیتنے کے لیے کم از کم ۳۹۱ووٹ درکار ہوں گے ۔
دونوں ایوانوں میں طاقت اور سیاسی مساوات کو دیکھتے ہوئے این ڈی اے کے پاس لوک سبھا میں۲۹۳ اور راجیہ سبھا میں کم از کم۱۳۴ممبران پارلیمنٹ ہیں۔ اس کی وجہ سے این ڈی اے کے پاس کم از کم۴۲۷ووٹوں کا ٹھوس اعداد و شمار ہے ، جو کہ اکثریت کے لیے درکار۳۹۱ووٹوں کے اعداد و شمار سے بہت زیادہ ہے ۔ اس طرح این ڈی اے کے امیدوار سی پی رادھا کرشنن کے جیتنے کا قوی امکان ہے ۔
انڈیا الائنس کے لوک سبھا میں۲۴۹؍اور راجیہ سبھا میں ۱۰۵ممبران پارلیمنٹ ہیں۔ اس طرح اس اتحاد کے پاس کل۳۵۴ووٹ ہیں جو کہ اکثریت کے لیے درکار۳۹۱ کے اعداد و شمار سے کم ہیں۔
یہاں تک کہ اگر انڈیا اتحاد وائی ایس آر کانگریس اور بیجو جنتا دل جیسی چھوٹی پارٹیوں کو اپنی جانب کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے ، تب بھی یہ جیت کے جادوئی نمبر سے دور ہوگا۔







