ڈائریکٹوریٹ آف اسکول ایجوکیشن کشمیر (ڈی ایس ای کے) نے ایک اہم ہدایت نامہ جاری کرتے ہوئے تمام ہائی اور ہائر سیکنڈری اسکولوں میں طلبہ‘خصوصاً نویں، دسویں، گیارہویں اور بارہویں جماعت کیلئے‘ کی باقاعدہ حاضری لازمی قرار دی ہے ۔
یہ اقدام نیشنل ایجوکیشن پالیسی ۲۰۲۰ (این ای پی۲۰۲۰) کے عین مطابق ہے۔ اس ہدایت کا مقصد طلبہ کی ہمہ جہتی نشوونما، عملی سیکھنے اور مجموعی تعلیمی ترقی کو فروغ دینا ہے۔
ڈائریکٹر اسکول ایجوکیشن کشمیر، ڈاکٹر جی این ایتو نے کہا’’کلاس روم میں طلبہ کی موجودگی ان کی فکری جستجو، تخلیقی صلاحیت، جذباتی ذہانت اور اخلاقی شعور کی تعمیر کے لیے بنیادی ہے۔ این ای پی۲۰۲۰ تعلیم کو ایک تبدیلی کے سفر کے طور پر دیکھتی ہے، اور باقاعدہ حاضری اس وڑن کو حقیقت بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے‘‘۔
ناظم تعلیمات نے مزید کہا’’اسکول میں ہر غیر حاضری ہنر سازی اور ذاتی نشوونما کا ضائع شدہ موقع ہے۔ یہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ کلاس روم ایسے مقامات بنیں جہاں طلبہ متحرک، دلچسپی لینے والے اور سیکھنے کے خواہشمند ہوں‘‘۔
اس سلسلے میں جاری ہونے والے سرکلر میں حاضری پر سختی سے عمل درآمد پر زور دیا گیا ہے، جس کے لیے جدید نظام جیسے وی ایس کے اٹینڈنس چیٹ بوٹ اور آدھار پر مبنی حاضری کا طریقہ استعمال کیا جائے گا۔ یہ نظام تمام سرکاری و نجی اسکولوں پر لاگو ہوگا۔
پرنسپلوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ عملی کلاسز، خاص طور پر سائنس مضامین میں، باقاعدگی سے منعقد کی جائیں تاکہ طلبہ کو ہاتھوں سے سیکھنے کا بہتر موقع مل سکے۔
مزید برآں، سرکلر میں زور دیا گیا ہے کہ پرنسپل اور اساتذہ کو ایسے فعال اقدامات کرنے چاہئیں جو طلبہ کے لیے ایک معاون اور پْرکشش ماحول پیدا کریں، تاکہ وہ باقاعدگی سے کلاسز میں شریک ہوں۔ اس میں انٹرایکٹو تعلیمی ماحول بنانا، ہم جماعتوں کے درمیان مثبت تعلقات کو فروغ دینا اور ایسی رہنمائی فراہم کرنا شامل ہے جو اعتماد اور شمولیت پیدا کرے۔
ڈاکٹر ایتو نے کہا’’اساتذہ رہنما اور محرک ہوتے ہیں۔ اگر ہم ایک مثبت ماحول قائم کریں جہاں طلبہ کو سہارا اور حوصلہ ملے، تو ہم انہیں باقاعدگی سے کلاسز میں شرکت کے لیے متاثر کر سکتے ہیں اور انہیں تعلیمی میدان سے آگے بھی کامیابی کے لیے تیار کر سکتے ہیں‘‘۔
تمام جوائنٹ ڈائریکٹرز، چیف ایجوکیشن آفیسرز، کلسٹر ہیڈز اور زونل ایجوکیشن آفیسرز کو ذاتی طور پر اس ہدایت پر عمل درآمد کی نگرانی کرنے اور مکمل تعمیل کو یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
سرکلر میں واضح تنبیہ بھی کی گئی ہے کہ اس ہدایت پر عمل نہ کرنے کو ایک سنگین معاملہ سمجھا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر تادیبی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔
اس دوران، ڈائریکٹوریٹ نے تمام اسٹیک ہولڈرز، بشمول اساتذہ، والدین اور وسیع تر کمیونٹی سے اپیل کی ہے کہ وہ مل جل کر این ای پی۲۰۲۰ کے اہداف کو حقیقت بنانے کے لیے کام کریں تاکہ خطے کے طلبہ ہمہ جہتی، عملی تعلیم سے فائدہ اٹھا سکیں۔







