جموں کشمیر وقف بورڈ کی چیئرپرسن دراخشاں اندرابی نے جمعہ کو دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ درگاہ حضرت بل میں تزئین و آرائش کے بعد نصب کی گئی افتتاحی تختی پر قومی نشان (ایمبلم) لگانے کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی جانی چاہیے۔
درگاہ کے احاطے میں لگائی گئی افتتاحی تختی پر قومی نشان کندہ تھا۔
اندرابی نے اس واقعے کو بدقسمتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ اس معاملے پر سیاست کر رہے ہیں۔
موصوفہ نے حضرت بل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا’’یہ (واقعہ) پتھر پر دھبہ نہیں ہے، یہ میرے دل پر دھبہ ہے۔ یہ آئین پر دھبہ ہے، جسے یہاں کے منتخب لیڈر بلند کرتے ہیں۔ کیا یہاں کے لیڈر ایمبلم استعمال نہیں کرتے؟ کیا ہمارا منتخب وزیر اعلیٰ ایمبلم کو ساتھ نہیں لے کر چلتا‘‘؟
اندرابی نے کہا کہ جنہیں قومی نشان کے استعمال پر اعتراض ہے انہیں پھر نوٹ بھی نہیں رکھنے چاہئیں، کیونکہ ان پر بھی قومی نشان چھپا ہے، خاص طور پر جب وہ درگاہ پر آئیں۔
وقف بورڈ کی سربراہ نے کہا’’جس شخص نے ٹویٹ کیا (این سی کے تنویرصادق)، کیا یہ اسی کا کیا دھرا ہے؟ کیا وہ پھر سے سیاست کھیل رہے ہیں؟ یہ بدقسمتی ہے جو لیڈر نے کیا۔ وہ لیڈر کہلانے کے لائق نہیں‘‘۔
اندرابی نے مزید کہا کہ ان کی پارٹی (بی جے پی) وقف پر سیاست نہیں کرتی۔ان کاکہنا تھا’’ہم کام پر یقین رکھتے ہیں اور میں نے دن رات محنت کی ہے۔ آج انہوں نے اپنے غنڈے بھیج کر یہاں ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ میں نے پولیس کو پہلے ہی خبردار کیا تھا کیونکہ مجھے معلوم تھا یہ ہنگامہ کریں گے‘‘۔
غصے میں بھری وقف بورڈ چیئرپرسن نے کہا کہ دہشت گردصرف جموں کشمیر کے جنگلات میں نہیں ہیں اور جن لوگوں نے ایمبلم توڑا ہے انہیں بھی دہشت گرد قرار دیا۔
اندرابی نے کہا’’میں پولیس، سیکیورٹی فورسز، وزیر اعظم اور وزیر داخلہ سے کہنا چاہتی ہوں کہ دہشت گرد صرف جنگلوں تک محدود نہیں ہیں، وہ سرحد پار سے نہیں آ رہے، یہ غنڈے (ہی دہشت گرد ہیں) جنہوں نے پتھر مار کر ایمبلم توڑا۔ انہیں ڈھونڈ کر پی ایس اے کے تحت بند کیا جائے۔ یہ لوگ یہاں کا ماحول خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں‘‘۔
وقف بورڈ کی سربراہ نے درگاہ حضرت بل کی افتتاحی تختی کو نقصان پہنچانے والے افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا’’میں وزیر داخلہ، ایل جی اور ڈی جی پی سے اپیل کرتی ہوں کہ ان میں سے کسی کو بھی نہ چھوڑیں۔ یہ آزاد گھوم رہے ہیں جیسے پہلے گھوما کرتے تھے۔ انہوں نے ماحول خراب کر دیا ہے۔ وہ خوشی برداشت نہیں کر سکتے‘‘۔
ان کاکہنا تھا’’میں ڈی جی پی، آئی جی پی اور سیکیورٹی فورسز سے اپیل کرتی ہوں کہ ان سب کے خلاف ایف آئی آر درج کریں، انہیں پی ایس اے کے تحت بند کریں اور گرفتار کریں۔ ورنہ میں بھوک ہڑتال پر بیٹھوں گی‘‘۔
اندرابی نے یہ بھی کہا کہ صادق کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کی جائے۔انہوں نے کہا’’جس اسمبلی ممبر نے یہ ٹویٹ کیا ہے، اس کے خلاف ایف آئی آر درج ہونا ضروری ہے، کیونکہ لگتا ہے یہ (جو تختی توڑنے آئے) انہی کے غنڈے تھے‘‘۔
وقف بورڈ کی سربراہ نے پولیس اور وقف اہلکاروں سے کہا کہ اگر وہ ایم ایل اے درگاہ پر آئیں تو ان کی جامہ تلاشی لی جائے تاکہ ان کی جیب میں کوئی نوٹ نہ ہو۔ اگر ہوگا تو پھر یہ نوٹ درگاہ میں لے جانا مکروہ ہوگا‘‘۔
موصوفہ نے کہا’’اگر اس تختی پر (جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ) عمر عبداللہ کا نام ہوتا تو کیا یہ لوگ ایسا ہی کرتے؟ یہ لوگ برداشت نہیں کر سکتے کہ ان کے علاوہ کوئی اور کام کرے ‘ ایسا کام جو پورے ملک میں سراہا جائے‘‘۔
اندرابی نے سوال اٹھایا کہ ایک وزیر اپنی پہچان کے طور پر قومی نشان کے علاوہ اور کیا استعمال کرے گا؟انہوں نے صادق پر تنقید کرتے ہوئے کہا’’کیا آپ (صادق) بھارت کے آئین کو نہیں مانتے؟ جسے آپ ٹویٹ میں بت کہہ رہے ہیں، کیا کبھی آپ نے اپنے وزیر اعلیٰ سے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ کیا آپ نے (این سی صدر) فاروق عبداللہ سے پوچھا؟‘‘
اندرابی کاکہنا تھا’’یہ ایسے لگا جیسے مجھ پر بادل پھٹ گیا ہو۔ میں نے تین سال سے ان کا زہر برداشت کیا ہے۔ یہ لوگ دین کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ یہ غنڈہ گردی پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنے گھروں میں دہشت گردوں کو پالا اور آج وہی درہشت گردیہاں آئے‘‘۔
اندرابی نے مزید کہا کہ اس واقعے نے ان کا دل ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے۔
اس سے پہلے حکمران نیشنل کانفرنس (این سی) کے چیف ترجمان اور زڈی بل کے ایم ایل اے تنویر صادق نے کہا کہ مقدس درگاہ پر تراشی ہوئی علامت لگانا اسلام کے خلاف ہے، کیونکہ اسلام میں بت پرستی سختی سے ممنوع ہے۔
صادق نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہاتھا’’میں کوئی مذہبی عالم نہیں ہوں لیکن اسلام میں بت پرستی سختی سے ممنوع ہے ‘ یہ سب سے بڑا گناہ ہے۔ ہمارے ایمان کی بنیاد توحید ہے۔ مقدس حضرت بل درگاہ پر تراشی ہوئی علامت رکھنا اس عقیدے کے خلاف ہے۔ مقدس مقامات کو صرف اور صرف توحید کی پاکیزگی کی عکاسی کرنی چاہیے، اور کچھ نہیں‘‘۔
تاہم بعد ازاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے صادق نے کہا کہ اگر کسی نے تشدد کیا ہے تو وہ اس کی سخت مذمت کرتے ہیں، مگر ساتھ ہی انتظامیہ سے اپیل کی کہ وہ عوامی مذہبی جذبات کا بھی خیال رکھے۔
ان کاکہنا تھا’’تشدد ہرگز قابلِ قبول نہیں، مگر یہ مسئلہ ایف آئی آر کے بجائے بات چیت سے حل ہونا چاہئے۔ ‘‘










