اشیائے صرف اور خدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) میں اصلاحات ‘جس سے توقع ہے کہ یہ متوسط طبقے کی جیب میں پیسہ ڈالے گا کیونکہ متعدد اشیاء پر ٹیکس میں کمی کی گئی ہے اور کچھ اہم اشیاء جیسے ڈبل روٹی اور جان بچانے والی ادویات پر ٹیکس بالکل ختم کر دیا گیا ہے‘ کو وزیر اعظم نریندر مودی نے آج ’آزادی کے بعد کی سب سے بڑی اصلاح‘ قرار دیا۔
دو ٹیکس اسلیب، جو موجودہ چار کی جگہ لیں گے‘۲۲ ستمبر سے نافذ ہوں گے ‘ جو نوراتری کا پہلا دن ہے۔
وزیر اعظم مودی نے کہا’’لوگوں کو نوراتری کے پہلے دن سے فائدہ ہونا شروع ہو جائے گا۔ اس بار دھن تیرس اور زیادہ پررونق ہوگی۔ یہ آزاد ہندوستان کی سب سے بڑی اصلاح ہے‘‘۔
قومی اساتذہ ایوارڈز کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ انہوں نے لال قلعے کی فصیلوں سے دیوالی اور چھٹھ سے پہلے اگلی نسل کی جی ایس ٹی اصلاحات کا ’ڈبل دھماکہ‘وعدہ کیا تھا۔
مودی نے کہا’’بغیر بروقت تبدیلیوں کے ہم اپنے ملک کو آج کے عالمی تناظر میں اس کی جائز جگہ نہیں دلا سکتے۔ میں نے اس بار ۱۵؍ اگست کو لال قلعے سے کہا تھا کہ بھارت کو خود انحصار بنانے کے لئے اگلی نسل کی اصلاحات کرنا ضروری ہیں۔ میں نے اپنے ہم وطنوں سے یہ بھی وعدہ کیا تھا کہ اس دیوالی اور چھٹھ پوجا سے پہلے خوشی کا ڈبل دھماکہ ہوگا‘‘۔
وزیر اعظم نے کہا کہ جی ایس ٹی اصلاحات میں معیشت کیلئے ’پانچ رتن‘ شامل ہیں… آسان ٹیکس نظام، شہریوں کے لئے بہتر معیار زندگی، کھپت اور ترقی میں اضافہ، کاروبار میں آسانی کے ذریعے سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع کو فروغ دینا، اور ترقی یافتہ بھارت کیلئے تعاونی وفاقیت کو مضبوط کرنا۔
مودی نے اپوزیشن کانگریس پر بھی حملہ بولا اور کہا کہ جب وہ مرکز میں اقتدار میں تھے تو انہوں نے روزمرہ کی اشیاء خوراک اور دوائیوں سمیت ہر چیز پر ٹیکس لگایا۔
’مودی ہے تو ممکن ہے‘ ۔ اس بات کو حقیقت کا روپ دیتے ہوئے اس بارہندوستان کے متوسط گھرانوں میں دیوالی کی خوشیوں نے پہلے ہی دستک دے دی ہے کیونکہ گڈز اینڈ سروسیز ٹیکس (جی ایس ٹی )کونسل نے عام آدمی کو بڑی راحت دیتے ہوئے ٹیکس سلیب کم کرکے صرف۵فیصد اور۱۸فیصد کر دیے ہیں۔ جن میں کھانے پینے کی اشیاء، روز مرہ استعمال ہونے والی ضروری چیزیں اور پائیدار سامان سستا ہو گیا ہے ۔ذاتی نگہداشت کی اشیاء اور چھوٹی گاڑیوں پر بھی ٹیکس میں کمی کی گئی ہے ۔
نئی شرحیں۲۲ستمبر۲۰۲۵سے نافذ العمل ہوں گی۔
ہندستان نے یکم جولائی۲۰۱۷کو جی ایس ٹی نافذ کرکے اقتصادی اصلاحات کا سب سے بڑا قدم اٹھایا تھا۔ تب سے اب تک یہ نظام ملک کے ٹیکس ڈھانچے کو آسان بنانے اور معیشت کو رسمی شکل دینے میں سنگِ میل ثابت ہوا ہے ۔ آٹھ سال پورے ہونے کے موقع پر مرکزی حکومت اب جی ایس ٹی کی شرحوں میں بڑے بدلاؤ یعنی ریٹ ریشنلائزیشن کی تیاری کر رہی ہے ، جس سے نہ صرف تاجروں بلکہ عام صارفین کو بھی راحت ملے گی۔
جی ایس ٹی کونسل نے ٹیکس ڈھانچے میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے چار ٹیکس سلیبوں کو گھٹا کر صرف دو کر دیا ہے ۔
اب صرف۵فیصد اور۱۸فیصد کے دو ٹیکس سلیب ہی ہوں گے ۔ حکومت نے کھانے پینے کی چیزوں اور روز مرہ کی زندگی میں استعمال ہونے والی ضروری اشیاء کے ساتھ ساتھ گاڑیاں،ٹیلی ویژن، ریفریجریٹر اور ایئر کنڈیشنر جیسی چیزوں پر جی ایس ٹی کم کر دیا ہے ۔
نئی دہلی میں۳ستمبر کو منعقدہ جی ایس ٹی کونسل میٹنگ میں اس بڑے فیصلے کو منظوری دی گئی۔ وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کی قیادت میں جی ایس ٹی کونسل کے فیصلے نے۲۰۱۷میں جی ایس ٹی نافذ ہونے کے بعد سے بالواسطہ ٹیکسوں میں سب سے بڑی تبدیلی کرتے ہوئے صارفین کو بڑا تحفہ دیا ہے ۔مودی حکومت کے اس فیصلے سے عام آدمی کے ماہانہ بجٹ میں بڑی بچت کی امید ہے ۔
جی ایس ٹی۰ء۲میں کھانے پینے اور روز مرہ کی ضروری اشیاء پر ٹیکس کا بوجھ کافی حد تک کم کیا گیا ہے ۔ پیکٹ والے سامانوں پر ٹیکس گھٹایا گیا ہے ۔جیسے بسکٹ، کیک، نوڈلز، جیم، ساس، کارن فلیکس، چاکلیٹ، گھی اور خشک میوہ جات ان میں شامل ہیں، جن پر اس سے قبل۱۲فیصد یا۱۸فیصد جی ایس ٹی لگتا تھا، اب صرف ۵فیصد ہی ٹیکس لگے گا۔
اس کے علاوہ ایئر کنڈیشنر، بڑی اسکرین والے ٹی وی، ریفریجریٹر اور واشنگ مشین جیسی چیزیں، جن پر پہلے سب سے زیادہ۲۸فیصد ٹیکس لگاکرتا تھا، ان پر اب ۱۸فیصد ٹیکس وصول کیا جائے گا۔
آٹوموبائل انشورنس، چھوٹی گاڑیوں، ایمبولینس‘۳۵۰سی سی تک کی دو پہیہ گاڑیوں اور ٹائروں پر جی ایس ٹی ۲۸فیصد سے گھٹا کر ۱۸فیصد کر دیا گیا ہے ۔ حالانکہ ہیلتھ انشورنس کو جی ایس ٹی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے ۔ جی ایس ٹی کونسل کو امید ہے کہ اس قدم سے ہیلتھ انشورنس کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے میں مدد ملے گی۔
جہاں کئی سامان سستے ہو جائیں گے وہیں پان مسالا اور شراب جیسی مصنوعات مہنگی ہو جائیں گی۔ جبکہ اب ۲۵۰۰روپے تک کے جوتے اور کپڑوں کی خریداری پر صرف ۵فیصد جی ایس ٹی لگے گا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان فیصلوں سے مڈل کلاس خاندانوں کو راحت ملے گی اور فیسٹیول سیزن میں خریداری آسان ہوگی۔










