وزیر دفاع ‘راج ناتھ سنگھ نے پیر کو زور دے کر کہا کہ بھارتی افواج نے آپریشن سندور کے دوران پاکستان کو’منہ توڑ جواب‘ دیا اور ’ہمارے فوجیوں نے دہشت گردوں کو ان کے مذہب کی بنیاد پر نہیں ، بلکہ ان کے اعمال کی وجہ سے مارا‘۔
یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سنگھ نے پہلگام دہشت گردانہ حملے کا بدلہ لینے کے لیے فوجی کارروائی کے دوران انتظامیہ اور مسلح افواج کی حمایت کرنے پر سرحدی علاقوں کے لوگوں کی بھی تعریف کی۔
وزیر دفاع نے کہا کہ واقعے کے بعد انہوں نے افواج کے سربراہوں کو بلایا اور پوچھا کہ کیا وہ آپریشن کے لیے تیار ہیں۔تینوں مسلح افواج کے سربراہوں نے متفقہ طور پر جواب دیا’’ہم کسی بھی کارروائی کیلئے تیار ہیں۔یہ ہندوستان ہے۔ وزیر اعظم نے ضروری ہدایات دیں۔جس ہدف کا فیصلہ کیا گیا تھا اسے بالکل اسی طرح نشانہ بنایا گیا جیسا کہ منصوبہ بنایا گیا تھا۔ آپریشن سندور کے دوران ، ہماری افواج کو تمام سرحدی علاقوں سے مکمل حمایت حاصل ہوئی۔ ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جو نہ صرف اپنی سرحدوں کے اندر رہنے والے لوگوں کو رکن سمجھتا ہے بلکہ دنیا بھر کے لوگوں کو اپنے خاندان کا حصہ بھی مانتا ہے ، جو واسودھیو کٹمبکم کا پیغام پھیلاتا ہے‘‘۔
سنگھ کاکہنا تھا’’ہندوستان ذات پات یا مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک نہیں کرتا ہے۔ تاہم ، دہشت گردوں نے لوگوں کو ان کے مذہب کی شناخت کرنے کے بعد قتل کر دیا۔ ہمارے فوجیوں نے دہشت گردوں کو مذہب کی بنیاد پر نہیں بلکہ ان کے اعمال کی وجہ سے مارا‘‘۔
مئی میں آپریشن سندور کے تحت ، پاکستان اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں دہشت گرد گروہوں سے منسلک متعدد اہداف پر عین مطابق حملے کیے گئے۔ اس کارروائی کا مقصد دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنا اور ۲۲؍ اپریل کے پہلگام حملے کے بعد کلیدی کارکنوں کو ختم کرنا تھا۔
تعلیم کے شعبے میں وزیر اعظم نریندر مودی کی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں ایک اہم تبدیلی آئی ہے جس سے ملک کو نئی بلندیاں حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا ’’ہمارے دور کی تعلیم اور آج کی تعلیم میں کافی فرق ہے۔میں نے گاؤں کے ایک پرائمری اسکول میں بھی تعلیم حاصل کی تھی۔ جب میں پرنسپل کی میز پر موجود گلوب کو دیکھتا تو ایسا لگتا جیسے کوئی جادوئی گیند ہو‘‘۔
سنگھ نے ان تبدیلیوں کو دہائیوں کی محنت سے منسوب کرتے ہوئے کہا ’’حالیہ برسوں میں تعلیم میں نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں۔ آج ہمارے بچے انٹرنیٹ پر معلومات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ اتنی بڑی تبدیلی واقع ہوئی ہے‘‘۔
وزیر دفاع نے وزیر اعظم مودی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا’’میں تعلیمی شعبے کو بہتر بنانے کیلئے مضبوط عزم ظاہر کرنے پر مودی کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ تعلیم میں اصلاحات لانا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ کئی کمیشن بنائے گئے اور سفارشات دی گئیں لیکن جس طرح کی اصلاحات کی ضرورت تھی وہ نہیں ہوئی‘‘۔
انہوں نے کہا کہ آج کے بچے ایک ایپ سے پوری دنیا کے بارے میں معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا’’ہمارے زمانے میں سائنس کا مطلب صرف بلیک بورڈ تھا‘‘۔
سنگھ نے کہا کہ تعلیمی شعبے میں نظر آنے والا فرق ہی ہندوستان کی اصل طاقت ہے۔ ’’یہی اصل تبدیلی ہے اور یہی ہندوستان کا مستقبل ہے۔ یہ ہمارے ملک کو اور بھی بلندیوں پر لے جائے گا‘‘۔
ہندوستان کی تاریخ کے بارے میں تفصیل بتاتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ جب دنیا کے دوسرے حصوں میں لوگ غاروں میں رہ رہے تھے تو ہندوستانی سنت ناٹیہ شاستر لکھ رہے تھے۔’’جب دنیا بیماریوں کی وجوہات کو نہیں سمجھتی تھی ، تب ہندوستان میں سشروتا جیسے ڈاکٹر تھے۔ ہلدی ، نیم اور اشواگندھا جیسے ادویاتی پودوں کا علم موجود تھا ، جسے اب سائنس دان تسلیم کرتے ہیں‘‘۔
سنگھ نے روحانی ترقی کے تصور کو بھی چھوتے ہوئے کہا کہ بچوں کی تعلیم میں جسمانی اور روحانی ترقی میں توازن کی اہمیت اہم ہے۔انہوں نے کہا کہ بچوں کی نشوونما نہ صرف جسمانی بلکہ روحانی بھی ہونی چاہیے۔ان کاکہنا تھا’’روحانی ترقی صرف تعلیمی اداروں کے ذریعے ہی ہو سکتی ہے۔ بچوں کو ایسی تعلیم دیں جو ان کے ذہنوں کو وسعت دے‘‘۔
وزیر دفاع نے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا’’کوئی بھی چھوٹے دماغ سے عظیم نہیں بنتا۔ کوئی بھی ٹوٹے دل کے ساتھ کھڑا نہیں ہوتا‘‘۔انہوں نے کہا کہ ہندوستانی سنتوں کے ذہن اتنے وسیع تھے کہ وہ دنیا میں ہر ایک کو اپنے خاندان کا حصہ سمجھتے تھے اور واسودھیو کٹمبکم کے پیغام کو پھیلاتے تھے۔
وزیر دفاع نے کہا’’ذہن کو ایک دائرے کے طور پر تصور کریں۔ جیسے جیسے آپ اس کا دائرہ بڑھاتے جائیں گے ، آپ کی خوشی کا تجربہ تناسب میں بڑھتا جائے گا۔ آخر میں آپ سب سے زیادہ خوشی حاصل کریں گے










