امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے انکشاف کیا ہے کہ روس نے یوکرین کے ساتھ جاری جنگ کے خاتمے کے لیے پہلی بار اپنے اہم مطالبات پر لچک دکھائی ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مذاکرات میں مثبت رویہ اپنایا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے کے پروگرام “میٹ دی پریس” میں گفتگو کرتے ہوئے وینس نے کہا کہ ساڑھے تین سال سے جاری جنگ میں یہ پہلا موقع ہے کہ روس نے بعض شرائط پر بات چیت کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے۔ تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ روس اب بھی مکمل طور پر جنگ کے خاتمے پر تیار نہیں۔
وینس کے مطابق روس نے یوکرین کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کو تسلیم کیا ہے اور اس بات پر بھی رضامندی ظاہر کی ہے کہ وہ کیف میں کٹھ پتلی حکومت قائم نہیں کرے گا۔ مزید یہ کہ ماسکو نے یوکرین کے لیے سیکیورٹی ضمانتوں کی ضرورت کو بھی مان لیا ہے۔
امریکی نائب صدر نے عندیہ دیا کہ حالات کے مطابق روس پر مزید پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں۔
دوسری جانب، روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے امریکی الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ماسکو صدر ٹرمپ کا احترام کرتا ہے کیونکہ وہ “امریکی مفادات کے دفاع” میں ڈٹ کر کھڑے ہیں۔








