دو چار دن پہلے ہم نے اسی جگہ لکھا تھا کہ کتے بڑے خوش قسمت ہیں … اور آج ہم پھر دہرا رہے ہیں کہ یہ کتے کمینے سچ میں خوش قسمت ہیں کہ انہیں پیار مل رہاہے… انسان کا پیار مل رہا ہے… اس مادہ پرست اور خود غرض دنیا میں کوئی کسی سے بغیر کسی غرض اور مطلب کے پیار نہیں کرتا ہے… اجی پیار تو دور کی بات ہے… اسلام دعاتک نہیں کرتا ہے… کوئی کسی کا حال نہیںپوچھتا ہے… سب اپنی اپنی دنیا میں مست … کوئی جئے یا مرے ‘ کسی کو اس سے سروکار نہیں ہے‘ مطلب نہیں ہے… کسی نے خوب کہا ہے کہ …کہ’ ہر طرف ہرجگہ بے شمار آدمی…پھر بھی تنہائیوں کا شکار آدمی‘… اس مصروف دنیا میںآدمی نے آدمی کو تنہا رکھا‘اپنے سے جدا کیا ہوا رکھا ہے… لیکن … لیکن کتوں سے ایسا معاملہ نہیں ہے… بالکل بھی نہیں ہے… انسان/ آدمی صبح کی سیر کو کسی انسان ذات سے ساتھ نہیں جاتا ہے… کتے کے ساتھ جاتا ہے… دفتر سے آکر وہ بچوں بیوی کو گلے نہیں لگاتا ہے… انہیں پیار نہیں کرتا… کتے کو گلے لگاتا ہے…اسے پیا ر کرتا ہے‘ اسے چومتا ہے… کیا یہ خوش قسمتی نہیں ہے… اس کتے کی اور کتوں کی… یقینا ہے … لیکن ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے… بالکل بھی نہیں ہے… ہاں رشک ہے… اور ضرور ہے‘اس بات کارشک کہ… کہ سپریم کورٹ نے کتوں کو رہائشی علاقوں سے دور لے جانی کی کیا بات کی کہ… کہ محبان کتوں کے تن بدن میں آگ لگ گئی ‘ ان کی راتوں کی نیندیں حرام ہو گئیں … ان کے دن کا چین اور سکون نو دو گیارہ ہو گیا…ان میں سے کچھ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کیخلاف اپنی زبان بھی کھول دی … کچھ سڑکوں پر بھی نکل آئے … کچھ نے جنتر منتر پر پلے کارڈ لے کر احتجاج کیا… شور مچایا کہ … کہ بھلا یہ کیا بات ہو ئی کہ… کہ کتوں کو آبادی والے علاقوں سے ‘ رہائشی علاقوں سے بے دخل کیا جائیگا ۔… اسرائیل غزہ میں ۶۰ ہزار لوگوں کو… معصوم اور بے گناہ لوگوں کو ‘ بوڑھے ‘بچوں اور عورتوں کو ہلاک کر کے… ان کے آشیانوں کو ملیا میٹ کرکے ‘ انہیں زمین بوس کرکے اب غزہ کے لوگوں کو غزہ سے بے دخل کرنا چاہتا ہے… انہیں اپنے علاقوں سے دور بھگانا چاہتا ہے… اور… اور کوئی زبان تک نہیں ہلا رہا ہے… کسی کی نیندیں اُڑ رہی ہیں اور نہ سکون غارت ہو رہا ہے… ہمارا‘ آپ کا اور… اور نہ ان محبان کتوں کا ۔ہے نا؟




