وزیر دفاع راجناتھ سنگھ اور جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا اتوار کو ضلع کشتواڑ کے چاشوتی گاؤں کا دورہ کریں گے ، جہاں حالیہ بادل پھٹنے کے سبب تباہ کن سیلاب آیا تھا۔
ذرائع نے بتایا کہ وزیر دفاع اور لیفٹیننٹ گورنر مشترکہ طور پر جاری سرچ آپریشن کا جائزہ لیں گے جو پچھلے نو روز سے فوج، این ڈی آر ایف، ایس ڈی آر ایف اور مقامی پولیس کی جانب سے مسلسل جاری ہے ۔
اس کے ساتھ ساتھ وہ متاثرہ گاؤں کے لوگوں سے ملاقات کر کے ان کے مسائل اور ضروریات کو قریب سے جاننے کی کوشش کریں گے ۔
دریں اثناکشتواڑ کے چاشوتی گاؤں میں۱۴؍اگست کو بادل پھٹنے کے بعد آنے والے تباہ کن سیلاب میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر۶۵ہوگئی ہے جبکہ ۳۳؍افراد ابھی تک لاپتہ ہیں۔ حکام کو اندیشہ ہے کہ مزید لاشیں برآمد ہونے کے بعد یہ تعداد اور بڑھ سکتی ہے ۔
سرکاری ذرائع کے مطابق فلیش فلڈ کے ساتھ آنے والے بھاری پتھروں اور ملبے نے سب سے زیادہ تباہی مچائی۔ اُس وقت گاؤں میں موجود درجنوں یاتری کمیونٹی کچن کے قریب جمع تھے کہ اچانک بھاری پتھروں کا ریلا ان پر آپڑا۔ کئی لاشیں بری طرح مسخ حالت میں برآمد ہوئیں۔
ریسکیو آپریشن میں فوج، این ڈی آر ایف، ایس ڈی آر ایف اور دیگر ایجنسیاں مسلسل مصروف ہیں۔ ملبہ ہٹانے کے لیے جے سی بی مشینوں کی مدد لی جا رہی ہے جبکہ کئی مقامات پر شبہ ہے کہ لاشیں زمین کے اندر گہرائی میں دب گئی ہیں۔ کچھ لاشیں ندی کے بہاؤ کے ساتھ نیچے کی طرف سے ملی ہیں۔ ذرائع کے مطابق سونگھنے والے کتوں کو بھی استعمال میں لایا جا رہا ہے لیکن بھاری پتھروں اور گہرے کیچڑ کے باعث تلاش نہایت دشوار ثابت ہو رہی ہے ۔
پولیس نے لاپتہ افراد کے لواحقین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے عزیزوں کی تفصیلات فراہم کریں تاکہ ریکارڈ مرتب کیا جا سکے ۔ چونکہ کئی لاشیں ناقابلِ شناخت ہیں، اس لیے ڈی این اے ٹیسٹنگ کا عمل شروع کیا گیا ہے ۔ جو لاشیں شناخت ہو سکی ہیں انہیں لواحقین کے حوالے کر کے آخری رسومات ادا کرنے کی اجازت دی گئی ہے ۔
حکام نے۲۳سے۲۶؍اگست تک مزید بارشوں کی پیش گوئی کے پیش نظر سرچ آپریشن کو مزید تیز کر دیا ہے ۔ پہلے ہی علاقے میں حالیہ دنوں نئی طغیانی نے صورتِ حال کو مزید سنگین بنا دیا ہے







