سرکاری ذرائع نے جمعرات کو بتایا کہ مرکز نے انسداد دہشت گردی سیکورٹی گرڈ کو مضبوط بنانے کے لیے جموں خطے میں تین سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) بٹالینوں کی تعیناتی کا حکم دیا ہے۔
یہ یونٹ ادھم پور اور کٹھوعہ اضلاع میں تعینات راشٹریہ رائفلز (آرمی) یونٹوں سے چارج سنبھالیں گے۔ ذرائع نے بتایا کہ فوجی یونٹوں کو نئے کام دوبارہ تفویض کیے جائیں گے۔
ذرائع نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ جموں خطے میں سی آر پی ایف یونٹوں کی تعیناتی ایک نئی حفاظتی حکمت عملی کا حصہ ہے ، جہاں اندرونی علاقوں کو مرکزی وزارت داخلہ کے تحت فورسز کے حوالے کرنے کی تجویز ہے ، جبکہ فوج کے یونٹوں کو لائن آف کنٹرول (ایل او سی) اور چین کے ساتھ لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کے ساتھ سکیورٹی کو مضبوط کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
ذرائع نے بتایا کہ اس کام کے لیے سی آر پی ایف کی تین بٹالین بھیجی جا رہی ہیں ، جن میں سے ہر ایک میں تقریباً۸۰۰؍ اہلکاروں کی آپریشنل طاقت ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ ایک بار جب دو منتخب اضلاع میں سی آر پی ایف کی تعیناتی مکمل ہو جائے گی تو وادی کشمیر کے کچھ علاقوں سمیت ایسے مزید علاقوں کو نیم فوجی دستے کے حوالے کر دیا جائے گا۔
ذرائع نے کہا کہ مرکزی حکومت اگست ۲۰۱۹ میں سابقہ ریاست جموں و کشمیر سے آرٹیکل ۳۷۰ کی منسوخی کے بعد صورتحال میں ’بہتری‘ کے بعد تقریبا دو سال سے اس نئے حفاظتی خاکے پر کام کر رہی ہے۔
اس کام کے لیے سی آر پی ایف کی تین بٹالینوں کو ان اہلکاروں اور جوانوں کے ساتھ بڑھایا گیا ہے جنہوں نے ’امتیاز‘کے ساتھ انسداد دہشت گردی اور انسداد شورش کی کارروائیاں کی ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ ان یونٹوں کو جدید ہتھیار ، مواصلاتی آلات اور بکتر بند گاڑیاں بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ یونٹ موجودہ فوجی یونٹوں کے بنیادی ڈھانچے اور اثاثوں کا استعمال کریں گے۔
جموں کے علاقے اور اس کے جنگلاتی علاقوں میں سیکورٹی نے گزشتہ چند سالوں میں وہاں سے متعدد دہشت گردانہ حملوں اور نقل و حرکت کی اطلاعات کے بعد اہمیت حاصل کی ہے۔
۲۸۹۲ کلومیٹر طویل ہندوستان،پاکستان بین الاقوامی سرحد (آئی بی) میں سے تقریبا ً۴۸۵ کلومیٹر ایل او سی کے ایک چھوٹے سے حصے کے علاوہ جموں کے علاقے میں آتی ہے۔










