لوک سبھا نے آئینی ترمیمی بل، جس میں وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ یا کسی بھی وزیر کو سنگین جرم میں گرفتار ہونے اور۳۰دن کیلئے عدالتی حراست میں رکھنے کی صورت میں عہدے سے ہٹانے اور دو دیگر بلوں کو حزب اختلاف کی شدید مخالفت اور ہنگامہ آرائی کے درمیان مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی)کو بھیج دیا۔
وزیر داخلہ امیت شاہ نے اپوزیشن کی شدید مخالفت کے درمیان آئین کی۱۳۰ ویں ترمیمی بل ۲۰۲۵، یونین ٹیریٹریز (ترمیمی) بل۲۰۲۵؍اور جموں کشمیر تنظیم نو (ترمیمی) بل۲۰۲۵کو پارلیمنٹ میں پیش کیا۔
اپوزیشن جماعتوں نے ان بلوں کو اپوزیشن جماعتوں کی حکومتوں کو نشانہ بنانے کے لیے بنائے گئے بل قرار دیتے ہوئے ان کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
بل میں یہ شرط رکھی گئی ہے کہ اگر وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ یا کسی دوسرے وزیر کو سنگین جرائم میں۳۰دن تک حراست میں رکھا جاتا ہے جس کی سزا پانچ سال یا اس سے زیادہ کی ہو گی، تو اسے اگلے ہی دن ان کے عہدے سے فارغ کر دیا جائے گا۔ تاہم حراست سے رہائی کے بعد ایسے شخص کو دوبارہ عہدہ دیا جا سکتا ہے ۔
شاہ نے بل کو پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی کو بھیجنے کی تجویز پیش کی جسے صوتی ووٹ سے قبول کر لیا گیا۔
اسپیکر اوم برلا نے کہا کہ بل کو پارلیمنٹ کی جوائنٹ کمیٹی کو بھیجنے کی تجویز پاس ہو گئی ہے اور اب اس کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی جس میں لوک سبھا کے۲۱؍اور راجیہ سبھا کے۱۰ممبران شامل ہوں گے ۔ کمیٹی سے کہا گیا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے اگلے اجلاس کے پہلے دن اپنی رپورٹ ایوان میں پیش کرے ۔
قبل ازیں اس بل کو پیش کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے اسد الدین اویسی نے کہا کہ یہ بل منتخب حکومتوں کے حقوق کی خلاف ورزی ہے اور نوکر شاہی کے حوصلے بلند کرنے والا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل آرٹیکل۸کی خلاف ورزی ہے ، اسی طرح کا قانون جرمنی میں بھی بنایا گیا تھا جس میں تمام اختیارات پولیس کو دیے گئے تھے ۔ انہوں نے اسے منتخب حکومت کو کمزور کرنے والا بل قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اسے واپس لے ۔
کانگریس کے منیش تیواری نے بھی رول۷۲کے تحت بل کی سخت مخالفت کی اور کہا کہ یہ بل جمہوریت کے لیے مہلک ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کا آئین قانون کی حکمرانی کی اجازت دیتا ہے لیکن یہ بل صوابدیدی کارروائی اور جرم ثابت کیے بغیر عہدے سے ہٹانے کی سہولت فراہم کرتا ہے ۔ یہ ایک انتہائی حساس موضوع ہے اور آرٹیکل۳۰کی خلاف ورزی ہے ۔انہوں نے کہا کہ جب تک چارج شیٹ داخل نہیں ہوتی اور ایف آئی آر درج نہیں ہوتی گرفتاری کیسے ہوسکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بل کا غلط سیاسی استعمال ممکن ہے اور سراسر ناانصافی ہے ، اس لیے تینوں بل واپس لیے جائیں۔
آر ایس پی کے این کے پریم چندرن نے کہا کہ سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ بل اراکین پارلیمنٹ کو نہیں بھیجا گیا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ حکومت کو یہ بل لانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ انہوں نے کہا کہ یہ بل عجلت میں لایا گیا ہے اور اسے اپوزیشن کی حکومتوں کو غیر مستحکم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے ۔
وزیر داخلہ نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل جلد بازی میں نہیں لایا گیا ہے اور اس کا مقصد کسی خاص پارٹی کی حکومت کو غیر مستحکم کرنا ہرگز نہیں ہے ۔
کانگریس کے کے سی وینوگوپال نے کہا کہ یہ بل ملک کے بنیادی اصول کو نقصان پہنچانے والا ہے ۔ یہ بل اخلاقیات کا گلا گھونٹنے والا ہے اور اس میں منتخب نمائندوں کو ہٹانے کی شق رکھی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل اپوزیشن حکومتوں کو نشانہ بنانے کے لیے لایا گیا ہے ۔
بل کو پارلیمانی کمیٹی میں بھیجنے کی تجویز منظور ہونے سے قبل ہی اپوزیشن ارکان نے زبردست ہنگامہ آرائی کی اور کاغذات پھاڑ کر پھینک دیے ۔
اسی دوران اراکین پارلیمنٹ وزیر داخلہ کے سامنے آگئے اور کاغذات پھاڑ کر ہنگامہ آرائی شروع کردی، جسے دیکھ کر پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو وزیر داخلہ کے پاس پہنچے اور اپوزیشن ارکان کو پیچھے دھکیلنے کی کوشش کی۔ ایوان میں بہت زیادہ ہنگامہ آرائی کے باعث اسپیکر اوم برلا نے ایوان کی کارروائی ملتوی کردی۔
ایوان کی کارروائی دوبارہ شروع ہونے کے بعد بل پیش کیا گیا اور پھر ہنگامہ آرائی کے درمیان اسے پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی کو بھیجنے کی تجویز بھی منظور کر لی گئی۔
برلا نے اپوزیشن ارکان کے ہنگامے پر شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج کرنا ارکان کا حق ہے ۔ انہوں نے ارکان کو مشورہ دیا کہ وہ ایوان میں شائستگی سے پیش آئیں اور مناسب انداز میں مخالفت کا اظہار کریں اور ایوان کی کارروائی۵بجے تک ملتوی کر دی۔










