مبینہ ووٹ چوری کے سلسلے میں الیکشن کمیشن پر کئی الزامات عائد کرتے ہوئے مدھیہ پردیش کانگریس کے صدر جیتو پٹواری نے آج کہا کہ پارٹی اس معاملے پر 25 اگست سے 5 ستمبر تک ریاست میں زبردست احتجاج کرے گی۔
مسٹر پٹواری نے یہاں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن بھارتیہ جنتا پارٹی کے ‘ایجنٹ’ کی طرح کام کر رہا ہے ۔ کمیشن کا کردار اب غیرجانبدار نہیں رہا اور وہ جمہوریت کے نگران کی بجائے ‘چور’ کی طرح کام کر رہا ہے ۔
کانگریس صدر نے کہا کہ بی جے پی ایم پی جناردن مشرا نے ووٹ چوری کی حقیقت کو قبول کرلی ہے ۔ بی جے پی کے مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر نے بھی کھلے عام کہا ہے کہ رائے بریلی میں ووٹ بڑھے ہیں۔ یہ دونوں حقائق ثابت کرتے ہیں کہ بی جے پی خود انتخابی عمل میں ہورہی بے ضابطگیوں کو قبول کر رہی ہے ۔ ووٹ چوری کا جو معاملہ راہل گاندھی نے اٹھایا تھا، اب وہی باتیں بی جے پی لیڈران کہہ رہے ہیں اور الیکشن کمیشن بھی وہی دلیلیں دہرا رہا ہے ۔ یہ واضح ہے کہ یہ کوئی سیاسی معاملہ نہیں ہے بلکہ جمہوریت اور آئین کے تحفظ کا سوال ہے ۔
مسٹر پٹواری نے الزام لگایا کہ پورے واقعہ کے بعد مسٹر گاندھی کو ڈرانے اور دھمکانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔
انہوں نے اعلان کیا کہ کانگریس پارٹی ووٹ چوری کے معاملے پر 25 اگست سے 5 ستمبر تک ریاست بھر میں زبردست ایجی ٹیشن اور مظاہرے کا اہتمام کرے گی۔









