میرے بہت قریب کے کچھ لوگوں نے کہا ’اور مارنا تھا‘ لیکن کیا ہم جنگ جاری رکھ سکتے ہیں ؟ائیر چیف مارشل
(ندائے مشرق ڈیشک)
سرینگر//
بھارتی فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل اے پی سنگھ کا دعویٰ ہے کہ رواں سال مئی میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے دوران انڈیا نے پاکستان کے کم از کم چھ طیارے مار گرائے تھے۔
ایئر چیف مارشل سنیچر کے روز کرناٹک کے دارالحکومت بنگلور میںآپریشن سندور سے متعلق معلومات فراہم کر رہے تھے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ اس آپریشن میں پاکستان کے پانچ لڑاکا طیارے اور ایک بڑا طیارہ مار گرایا گیا۔
واضح رہے کہ ۲۲؍ اپریل کو کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام پر دہشت گردانہ حملے کے بعد بھارت نے کہا تھا کہ ۶/۷ مئی کی درمیانی شب کو اس نے پاکستان میں دہشت گردوںکے کیمپوں کو نشانہ بنایا۔ اس آپریشن کو آپریشن سندور کا نام دیا گیا، جس کے بعد انڈیا اور پاکستان کے درمیان فوجی تنازع شروع ہوا تھا۔
ایئر چیف مارشل سنگھ نے کہا کہ بھارت کی جانب سے مار گرایا جانے والا ’یہ بڑا طیارہ ای ایل آئی این ٹی یا اے ای ڈبلیو اینڈ سی ہو سکتا ہے۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’اس طیارے کو زمین سے ۳۰۰ کلومیٹر کے فاصلے پر نشانہ بنایا گیا اور ایک طرح سے یہ زمین سے فضا میں ہونے والا اب تک کا سب سے بڑا حملہ تھا۔‘
بھارتی فضائیہ کے سربراہ نے انڈیا اور پاکستان کے درمیان فوجی تنازع کو ’ہائی ٹیک جنگ‘ بھی قرار دیا۔ان کاکہنا تھا’’میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ یہ ایک ہائی ٹیک جنگ تھی جو ہم نے لڑی۔ یہ جنگ تقریباً ۸۰/۹۰ گھنٹے تک جاری رہی۔ اس میں ہم نے ان (پاکستان) کے فضائی دفاعی نظام کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا۔‘
سنگھ’نے کہا’’اس نقصان کو دیکھ کر ان پر واضح تھا کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو انھیں مزید نقصان اٹھانا پڑے گا۔ اسی لیے وہ آگے آئے اور ہمارے ڈی جی ایم او کو دوبارہ پیغام بھیجا کہ ہم بات کرنا چاہتے ہیں۔ اسے اعلیٰ سطح پر قبول کر لیا گیا۔‘‘
بھارتی فضائیہ کے سربراہ کا دعویٰ تھا کہ اکثر پاکستانی طیارے زمین سے فضا تک مار کرنے والے روسی ساختہ ایس ۴۰۰؍ایئر میزائل سسٹم کے ذریعے تباہ کیے گئے۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے جس بڑے پاکستانی طیارے کو مار گرایا وہ ممکنہ طور پر جاسوسی کرنے والا طیارہ تھا اور اسے ۳۰۰ کلو میٹر کی دوری سے مار گرایا گیا۔انھوں نے ایس ۴۰۰ کو ’گیم چینجر‘ قرار دیا اور کہا کہ حریف اس نظام کو ناکام نہیں بنا سکا۔
سنگھ کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس کامیابی کی وجہ ’واضح سیاسی ارادہ‘ تھا۔ ’’ہم پر کوئی (سیاسی) رکاوٹ نہیں تھی۔ بدقسمتی سے ہر کوئی اس بارے میں بات کر رہا ہے۔ فورسز نے فیصلہ کیا تھا کہ ہم نے کیسے تناؤ کو کم رکھنا ہے‘‘۔انہوں نے مزید کہا’’ہم پر کوئی (سیاسی) رکاوٹ نہیں تھی۔ ہمیں مکمل آزادی دی گئی تھی۔‘‘
آپریشن سندور کو روکنے کے حکومت کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے ، چیف آف ایئر اسٹاف نے کہا ’’لوگ اس جنگ میں اپنی انا پر اتر گئے…ایک بار جب ہم اپنے مقصد کو حاصل کر لیتے ہیں ، تو ہمیں اسے روکنے کیلئے مواقع کی تمام کھڑکیاں تلاش کرنی چاہئیں۔ میرے بہت قریب کے کچھ لوگوں نے کہا ’اور مارنا تھا‘۔ لیکن کیا ہم جنگ جاری رکھ سکتے ہیں ؟… قوم نے ایک اچھا فیصلہ کیا ہے‘‘۔
۲۰۱۹ میںبالاکوٹ حملے پر ، ایئر چیف مارشل سنگھ نے کہا ’’ بالاکوٹ میں ، ہمیں اندر سے کچھ نہیں مل سکا ، اور یہ ایک بڑا مسئلہ بن گیا جو بدقسمتی سے اپنے لوگوں کو یہ بتانے کی کوشش کر رہا تھا کہ ہم کیا حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں‘‘۔
فضائیہ کے سربراہ نے کہا کہ افواج کے پاس انٹیلی جنس تھی کہ اندر کیا ہوا تھا ، انسانی قسم کی انٹیلی جنس تھی جہاں فورسز کے پاس اندر کی بہت واضح تصویر تھی کہ وہاں بہت بڑا نقصان ہوا تھا۔
سنگھ نے کہا’’ایسے بہت سے دہشت گرد ہوئے ہیں جنہیں ختم کیا گیا‘ لیکن ہم اپنے لوگوں کو قائل نہیں کر سکے کہ ، دیکھو ، ہم نے یہ کامیابی حاصل کر لی ہے… لہذا میں بہت خوش ہوں کہ اس بار ہم بالاکوٹ کے اس بھوت کی دیکھ بھال کرنے میں کامیاب ہوئے کہ ہم دنیا کو بتانے میں کامیاب ہوئے کہ ہم نے کیا حاصل کیا ہے‘‘۔
خیال رہے کہ جون میں جکارتہ میں قائم انڈین سفارتخانے نے ایک وضاحت جاری کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ انڈونیشیا میں انڈیا کے ڈیفنس اتاشی کے ایک بیان کو میڈیا میں ’سیاق و سباق سے ہٹ‘ کر رپورٹ کیا جا رہا ہے۔
اپنی پریزینٹیشن میں انڈین ڈیفنس اتاشی شیو کمار نے کہا تھا کہ ’ہم نے چند طیارے ضرور کھوئے اور یہ صرف انڈیا کی سیاسی قیادت کی اس پابندی کی وجہ سے ہوا تھا۔‘










