سیتامڑھی// مرکزی وزیر داخلہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سابق قومی صدر امیت شاہ نے آج کہا کہ بہار میں جاری ووٹر لسٹ کی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) فہرست سے دراندازی کرنے والوں کے نام ہٹانے کی مشق ہے ، کیونکہ کسی بھی حالت میں انہیں انتخابات میں ووٹ دینے کا حق نہیں دیا جا سکتا۔
سیتامڑھی ضلع کے پنورا دھام کی مقدس اورافسانوی سرزمین پر ایک عظیم الشان ماتا جانکی مندر کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد یہاں منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن بہار میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظر ثانی کر رہا ہے ، جس پر اپوزیشن پارٹیاں کافی شور مچا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے سینئر لیڈر راہل گاندھی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے قائدین بشمول راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے قائدین بھی ایس آئی آر کے بارے میں مسلسل بے بنیاد الزامات لگا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایس آئی آر پر سوال اٹھانا آئین کی شق کے خلاف بات کرنے کے مترادف ہے ۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ مسٹر گاندھی ہر جگہ آئین کی کاپی لے کر گھومتے رہتے ہیں، اگر وہ اسے ایک بار پڑھ لیں تو اچھا ہوگا۔ انہوں نے مسٹر گاندھی کو یاد دلایا کہ ایس آئی آر کا کام ملک کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کے دور سے مسلسل جاری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سال 2003 میں بھی ووٹر لسٹ کی خصوصی نظر ثانی کی گئی تھی۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ ایس آئی آر کا بنیادی مقصد ووٹر لسٹ سے دراندازی کرنے والوں کو نکالنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر گاندھی کو آئین پڑھنا چاہئے اور سمجھنا چاہئے کہ دراندازوں کو کسی بھی حالت میں ووٹ کا حق نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ سچائی یہ ہے کہ بہار میں کانگریس اور آر جے ڈی کے لئے درانداز ایک بڑا ووٹ بینک ہیں اور اسی وجہ سے یہ پارٹیاں ایس آئی آر کی مخالفت کر رہی ہیں۔ بہار کے نوجوانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ دراندازوں کی آمد سے انہیں ان کے روزگار کے حق سے محروم کردیا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ درانداز بہار کے نوجوانوں کی نوکریاںکھاجا رہے ہیں اور اسے کسی بھی حالت میں برداشت نہیں کیا جا سکتا۔










