نئی دہلی//
وزارت خارجہ نے ہندوستانی مصنوعات پر درآمدی محصولات میں اضافے کے امریکہ کے فیصلے کو ایک بار پھر’غیر منصفانہ اور غیر دانشمندانہ‘قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستان اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے ہندوستانی مصنوعات پر اضافی ۲۵فیصد محصولات عائد کرنے کے اعلان کے بعد، بدھ کے روز وزارت خارجہ کے ترجمان نے ہندوستان کا مؤقف واضح کیا۔
وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ نے حالیہ دنوں میں روس سے تیل کی درآمد کے معاملے پر ہندوستان کو نشانہ بنایا ہے ۔ حکومت ان امور پر پہلے ہی اپنا موقف واضح کر چکی ہے ، جس میں یہ حقیقت بھی شامل ہے کہ ہندوستان کی درآمدات کا فیصلہ مارکیٹ کے عوامل کی بنیاد پر ہوتا ہے اور یہ ملک کے۴ء۱؍ارب عوام کی توانائی کی سلامتی کو یقینی بنانے کے مجموعی مقصد کے تحت کیا جاتا ہے ۔
ترجمان نے امریکہ کے اضافی محصولات کے فیصلے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا’’یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ امریکہ نے ہندوستان پر ان اقدامات کے لیے اضافی محصولات عائد کرنے کا راستہ اپنایا ہے ، جو کئی دیگر ممالک بھی اپنے قومی مفاد میں اختیار کر رہے ہیں‘‘۔
انہوں نے ہندوستان کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا’’ہم دہراتے ہیں کہ یہ اقدامات غیر منصفانہ اور غیر دانشمندانہ ہیں۔ ہندوستان اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا‘‘۔
واضح ر ہے کہ ٹرمپ نے ہندوستانی مصنوعات پر پہلے سے عائد۲۵فیصد اضافی درآمدی محصولات کے علاوہ آج مزید ۲۵فیصد محصولات عائد کرنے سے متعلق ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے ، جو ۲۷؍اگست سے نافذ العمل ہوگا۔ اس سے قبل امریکہ نے یکم اگست سے ہندوستان پر ۲۵فیصد اضافی درآمدی محصولات عائد کیے تھے ۔










