نئی دہلی// اپوزیشن جماعتوں نے جمعرات کو راجیہ سبھا میں بہار میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی سمیت مختلف مسائل پر ہنگامہ کیا جس کی وجہ سے ایوان کی کارروائی تین بار ملتوی کرنے کے بعد دن بھر کے لئے ملتوی کردی گئی۔
تیسرے التوا کے بعد شام ساڑھے چار بجے جب ایوان دوبارہ شروع ہوا تو ڈپٹی چیئرمین ہری ونش نے وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل کا نام لے کر ہندوستانی مصنوعات پر امریکہ کی طرف سے عائد درآمدی ڈیوٹی اور روس سے ہتھیار اور تیل خریدنے پر عائد تعزیری ڈیوٹی کے بارے میں بیان دینے کوکہا ۔ گوئل جیسے ہی کھڑے ہوئے ، اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں سے اٹھ کر کرسی کے قریب آکر نعرے بازی کرنے لگے ۔ ہنگامہ آرائی کے درمیان مرکزی وزیر نے ایوان میں اپنا بیان دیا۔ ان کا بیان ختم ہونے کے بعد بھی اپوزیشن ارکان نے نعرے بازی جاری رکھی جسے دیکھ کر ڈپٹی چیئرمین نے ایوان کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی کردی۔
قبل ازیں صبح اپوزیشن جماعتوں نے رول 267 کے تحت تحریک التواء کا نوٹس دیا تھا جس میں اوڈیشہ میں خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم، دیگر ریاستوں میں بنگالی مہاجر کارکنوں کے ساتھ امتیازی سلوک، چھتیس گڑھ میں دو راہباؤں کی گرفتاری اور امریکہ کی طرف سے ہندوستان پر عائد ڈیوٹی اور جرمانے کے مسائل پر بحث کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ ڈپٹی چیئرمین نے یہ کہہ کر قبول نہیں کیا کہ یہ رول کے خلاف ہیں۔ اپوزیشن اپنے مطالبے پر ڈٹی رہی، انہوں نے ایوان کی کارروائی دوپہر 12 بجے تک ملتوی کر دی۔
اس کے بعد 2 بجے ایوان کی کارروائی شروع ہوئی تو اپوزیشن ارکان نے پھر مطالبہ کرنا شروع کر دیا جس کو دیکھتے ہوئے ڈپٹی اسپیکر نے ایوان کی کارروائی ساڑھے 4 بجے تک ملتوی کر دی۔
اپوزیشن کے ہنگامے کی وجہ سے مانسون اجلاس کے آخری نو دنوں میں بمشکل تین دن میں قانون سازی کا کام ہو سکا۔ اس میں سے ایک دن حکومت نے ہنگامہ آرائی کے درمیان بل پاس کیا جب کہ دو دن آپریشن سندور پر بحث ہوئی۔ اپوزیشن اور حکمران جماعت کے درمیان ڈیڈ لاک کے باعث باقی دنوں میں قانون سازی کا کام نہیں ہو سکا۔
صبح کارروائی شروع کرنے سے پہلے ڈپٹی چیئرمین ہری ونش نے ارکان سے ایوان میں امن برقرار رکھنے کی درخواست کی تھی اور کہا تھا کہ مانسون اجلاس میں اب تک 30 گھنٹے ضائع ہوچکے ہیں اور یہ ارکان کا وقت تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکومت کے قانون سازی کے کام کا وقت نہیں ہے اور اس دوران ایوان میں عوامی اہمیت کے بہت سے سوالات اور مسائل اٹھائے جا سکتے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے جو مینڈیٹ دیا ہے وہ ایوان میں پورا نہیں ہو رہا۔ انہوں نے کہا کہ سب کو خود کا جائزہ لینا چاہیے کہ ہم اپنی قرارداد پوری کرنے کے قابل نہیں ہیں۔










