ہلاک شدگان تینوں پاکستانی شہری تھے ‘فورسز نے ایک اہم کامیابی حاصل کی ہے :ایل جی سنہا
سرینگر/ (ایجنسیز/مشرق خبر)
فوج کے خصوصی پیرا کمانڈوز نے پیر کے روز ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے پہلگام دہشت گرد حملے کے مبینہ ماسٹر مائنڈ کو اْس کے دو ساتھیوں سمیت ایک تصادم میں ہلاک کر دیا۔ یہ مقابلہ سرینگر کے مضافاتی جنگلاتی علاقے ہاروَن میں ہوا، جس کی تصدیق حکام نے کی ہے۔
پی ٹی آئی نے حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ سلیمان عرف آصف، جو ۲۲؍ اپریل کو پہلگام میں پیش آئے دہشت گردانہ حملے کا ماسٹر مائنڈ مانا جا رہا تھا، اس وقت مارا گیا جب سیکیورٹی فورسز نے اچانک کارروائی کرتے ہوئے ’آپریشن مہادیو‘ شروع کیا۔ کارروائی سیٹلائٹ فون کے سگنل کی تکنیکی نگرانی کے بعد شروع کی گئی، جو مبینہ طور پر پہلگام حملے میں استعمال ہوا تھا۔
مارے گئے دیگر دہشت گردوں کی شناخت جبران اور حمزہ افغانی کے طور پر ہوئی ہے۔جبران پچھلے سال سونمرگ ٹنل پروجیکٹ پر حملے میں ملوث تھا، جس میں ایک ڈاکٹر سمیت سات افراد ہلاک ہوئے تھے۔
۲۲؍اپریل کو پہلگام کے سیاحتی مقام بائسرن میں پیش آنے والے دہشت گرد حملے میں۲۵سیاح اور ایک مقامی شہری ہلاک ہوئے تھے ، جس کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان شدید کشیدگی پیدا ہو گئی تھی۔ اس حملے کے بعد جموں و کشمیر پولیس نے سلیمان شاہ اور اس کے دو ساتھیوں کی معلومات پر۲۰لاکھ روپے کے انعام کا اعلان بھی کیا تھا۔
اس واقعے کے بعد بھارت نے۷ مئی کو ’آپریشن سندور‘ کے تحت پاکستان اور اس کے زیر قبضہ کشمیر میں موجود دہشت گرد ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی مہم شروع کی تھی۔
حکام نے بتایا کہ علاقے میں مزید دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر فوج اور دیگر سیکیورٹی فورسز کی اضافی کمک بھیج دی گئی ہے۔
مقابلے کی جگہ سے ایک ایم ۴ کاربائن رائفل، دو اے کے رائفلیں اور دیگر اسلحہ و گولہ بارود برآمد کیا گیا ہے۔مارے گئے دہشت گردوں کی لاشیں شناخت اور قانونی کارروائی کیلئے مقامی پولیس کے حوالے کی گئیں۔
حکام نے بتایا کہ صبح تقریباً ۳۰:۱۱ بجے، ۲۴ راشٹریہ رائفلز اور ۴پیرا یونٹ پر مشتمل ٹیم نے تین دہشت گردوں کے گروپ کو جنگل میں تلاش کیا اور گھیرے میں لے کر کارروائی کی۔
انسپکٹر جنرل پولیس (کشمیر زون)، وی کے برڈی کے مطابق یہ ایک طویل اور شدید آپریشن تھا جو آخری اطلاعات موصول ہونے تک جاری تھا۔
اس سے قبل، سرینگر میں تعینات فوج کی چنار کور نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر تصدیق کی کہ ’’آپریشن مہادیو‘‘کے دوران تین دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔اس میں کہا گیا’’تین دہشت گردوں کو شدید جھڑپ کے بعد مار گرایا گیا۔ آپریشن جاری ہے‘‘۔
اس تصادم آرائی کے بارے میںایل جی منوج سنہا نے نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران کہا’’‘ہلاک شدگان تینوں پاکستانی شہری تھے اور فورسز نے ایک اہم کامیابی حاصل کی ہے ‘‘۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا یہ دہشت گرد پہلگام حملے میں ملوث تھے ، تو ایل جی سنہا نے کہا کہ اس بارے میں تفصیلات پولیس فراہم کرے گی۔
یہ آپریشن اُس روز انجام دیا گیا جب پارلیمنٹ میں’آپریشن سندور‘پر بحث کا آغاز ہوا۔ سیکیورٹی ماہرین کے مطابق سلیمان شاہ کی ہلاکت دہشت گردی کے خلاف جاری مہم میں ایک ’اسٹریٹیجک بریک تھرو‘ہے ، جس سے نہ صرف عوام کے حوصلے بلند ہوئے بلکہ سرحد پار سے دہشت گردی کی حوصلہ شکنی بھی ہوگی۔
ذرائع کے مطابق علاقے میں تاحال سرچ آپریشن جاری ہے تاکہ ممکنہ طور پر چھپے دیگر دہشت گردوں کی تلاش مکمل کی جا سکے ۔
اس سے پہلے انسپکٹر جنرل آف پولیس کشمیر رینج وی کے بردی کا کہنا ہے کہ سری نگر کے مضافاتی علاقے ملنار ہارون کے گھنے جنگلات میں جاری انسدادِ دہشت گردی آپریشن کے دوران تین شدت پسندوں کے مارے جانے کی ابتدائی اطلاع موصول ہوئی ہے ، تاہم شناخت کا عمل تاحال باقی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اضافی کمک کو علاقے کی اور روانہ کیا گیا ہے اور فی الحال آپریشن جاری ہے ۔ان باتوں کا اظہار آئی جی پی نے ہارون سری نگر میں نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران کیا۔
بردی نے کہا’’سرینگر کے ہارون علاقے میں آپریشن ابھی بھی جاری ہے ۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق تین لاشیں دیکھی گئی ہیں اور بظاہر وہ مہلوک دہشت گردوں کی ہیں۔ شناخت میں ابھی وقت لگے گا کیونکہ سلامتی عملے کے اہلکار علاقے میں ہی موجود ہیں‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ سیکورٹی فورسز انتہائی احتیاط کے ساتھ علاقے کو مکمل طور پر صاف کر رہی ہیں تاکہ کسی بھی طرح کے ممکنہ خطرے سے بچا جا سکے ۔
آئی جی کشمیر نے یقین دہانی کرائی ہے کہ آپریشن مکمل ہوتے ہی مزید تفصیلات عوام کے ساتھ شیئر کی جائیں گی۔
خیال رہے کہ ہارون علاقہ سری نگر کے مضافات میں واقع ہے ، جہاں حالیہ دنوں میں مشتبہ دہشت گردوں سرگرمیوں کی اطلاعات کے بعد سیکورٹی فورسز نے سرچ آپریشن شروع کیا تھا۔










