سرینگر///
کرائم برانچ کشمیر کی اقتصادی جرائم شاخ نے شواہد کی بنیاد پر مکمل چھان بین کے بعد بدعنوانی، دھوکہ دہی اور ریونیو ریکارڈ میں غلط اندراج کے کیس میں ملوث۷میں سے۴ملزموں کو گرفتار کیا ہے ۔
ایک ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا’’دو ریونیو افسروں سمیت ۷؍افراد کے خلاف بدعنوانی، دھوکہ دہی اور ریونیو ریکارڈ میں غلط اندراج میں ملوث ہونے پر متعلقہ دفعات کے تحت ایک کیس درج ہے ‘‘۔
انہوں نے کہا’’یہ۷؍افراد ایک منظم طریقے سے کام کرکے سری نگر اور بڈگام اضلاع کے لوگوں کو کافی مالی نقصان پہنچا رہے ہیں اور انہیں تکلیف دے رہے ہیں‘‘۔
بیان کے مطابق ان ملزموں میں سے جن کو اب تک گرفتار کیا گیا ہے ان میں ریاض احمد بٹ ولد غلام محمد بٹ ساکن نوگام سری نگر، محمد شفیع لون عرف شفی چینی ولد عبد الاحد لون ساکن پیر باغ سری نگر، سہنواز احمد راتھر ولد نور محمد راتھر ساکن پا دشاہی باغ سری نگر اور شبیر احمد وانی ولد محمد اسماعیل وانی سان باگندر لسجن شامل ہے ۔
بیان میں کہا گیا’’یہ بات قابل ذکر ہے کہ ملزم نصرت عزیز دختر عبدالعزیز لون ساکن گریز حال مہجور نگر سری نگر (تحصیلدار) نے’ضمانت‘کی درخواست دی تھی، تاہم اسے انسداد بدعنوانی کے جج سری نگر کی عدالت نے منسوخ کر دیا تھا‘‘۔
ترجمان نے کہا’’تب سے مذکورہ تحصیلدار فرار ہے اور اپنی گرفتاری سے بچ رہی ہے ۔ وہ چار دیگر مقدموں ( جن میں سے دو کرائم برانچ کشمیر میں اور دو اے سی بی کشمیر میں درج ہیں) میں بھی ملوث ہے ‘‘۔
بیان میں کہا گیا’’مزید برآں، دیگر دو ملزمیں عاشق علی ولد غلام رسول خان سکنہ پنر جاگیر حال حول سری نگر (اس وقت کے پٹواری، بلہامہ سری نگر) اور شمیمہ اختر ولد محمد شفیع لون ساکن گوری پورہ راولپورہ بھی فرار ہیں اور انہیں قانون کے مطابق گرفتار کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔‘‘










