نئی دہلی//ہندوستانی شہروں کی آبادی اگلے 25 سال میں دوگنا بڑھ کر 951 ملین ہو جائے گی اور سال 2070 تک یہ 1.1 بلین تک پہنچ جائے گی۔
عالمی بینک کے مطابق ان شہروں کی ماحول دوست ترقی کے لیے تقریباً 11 ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے ، جس کے لیے نجی شعبے کی شراکت میں اضافہ ضروری ہے ۔
عالمی بینک نے منگل کو ‘ہندوستان میں مضبوط اور خوشحال شہروں کی جانب’ کے عنوان سے ایک رپورٹ جاری کی ہے ۔ اس رپورٹ میں سیلاب اور بڑھتے ہوئے درجۂ حرارت سمیت آب و ہوا اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق مسائل کا جائزہ لیا گیا ہے اورحل تجویزکیے گئے ہیں۔
رپورٹ کے اجراء کے موقع پر منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں عالمی بینک کے ہندوستان میں ڈائریکٹر آگیستے کوامے نے کہا کہ شہروں میں سیلاب اور شدید گرمی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ ان موسمی حالات کے لیے شہروں کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں شہروں کو آب و ہوا کے موافق بنانے کے لیے بنیادی ڈھانچے میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری صرف پانچ فیصد ہے جس میں نمایاں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے ۔
عالمی بینک کا اندازہ ہے کہ ملک کوماحولیات کے لیے سازگارشہری ترقی کے لیے 2050 تک 2.4 ٹریلین ڈالر اور 2070 تک 10.9 ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے ۔
ملک کے 20 شہروں کے 1985 سے 2015 کے اعداد و شمار کی بنیاد پر تیار کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس عرصے کے دوران 10 بڑے شہروں میں درجۂ حرارت میں خطرناک حد تک اضافے کے معاملوںمیں 71 فیصد اضافہ ہوا۔عالمی سطح پر، گرمی سے ہونے والی اموات 2050 تک دوگنا سے بڑھ کر 328,500 ہو جائیں گی۔
رپورٹ میں موسم کے مطابق دفتری اوقات میں تبدیلی، شہروں میں ہریالی میں اضافہ کرنے ، ٹھنڈی چھتوں، چھتوں پر شمسی پینلز لگانے اور ٹھوس کچرے کے بندوبست کی سفارش کی گئی ہے ۔










