جموں//
صوبائی کمشنر جموں رمیش کمار نے افسران کو ہدایت دی ہے کہ وہ۳جولائی سے شروع ہونے والی شری امرناتھ جی یاترا کے پیش نظر بھگوتی نگر یاتری نواس میں جاری تمام کاموں کو ۲۰جون تک مکمل کرلیں۔
امسال۳۸دنوں پر محیط سالانہ شری امرناتھ جی یاترا ۹؍اگست کو رکشا بندھن کے موقع پر اختتام پذیر ہوگی۔
صوبائی کمشنر جموں رمیش کمار اور انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) بھیم سین توتی نے یاتریوں کیلئے کی جارہی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لئے بھگوتی نگر یاتری نواس کا دورہ کیا۔
ایک سرکاری ترجمان نے بتایا کہ دونوں افسران نے جاری کاموں کی رفتار اور معیار کا جائزہ لیا اور یاتریوں کے قیام، سہولیات اور مجموعی سیکورٹی کے انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے متعلقہ محکموں کے ساتھ ایک میٹنگ کی۔
صوبائی کمشنر نے تمام لائن محکموں کے عملے کے ساتھ ایک کنٹرول روم کے قیام سمیت کاموں کو بروقت مکمل کرنے کے لئے کہا۔انہوں نے افسروں کو ہدایت دی کہ وہ یاتری نواس میں جاری تمام کاموں کو۲۰جون تک مکمل کرنے کرلیں۔
فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز ڈیپارٹمنٹ کو آگ بجھانے کی مشقیں کرنے اور خاص طور پر لنگر (کمیونٹی کچن) کی جگہوں کے آس پاس آگ بجھانے کے آلات اور سی سی ٹی وی کیمرے لگانے کی ہدایت دی گئیں۔
۳۸دنوں پر محیط یاترا۳؍جولائی کو ضلع اننت ناگ میں۴۸کلومیٹر کے روایتی ننون پہلگام راستے اور گاندربل ضلع میں۱۴کلومیٹر چھوٹے لیکن تیز بالتل راستے سے شروع ہوگی۔یاتریوں کا پہلا قافلہ۲جولائی کو جموں سے کشمیر کے لئے روانہ ہوگا۔
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے گذشتہ روز راج بھون سری نگر میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے امرناتھ یاترا۲۰۲۵کیلئے سیکیورٹی اور انتظامی تیاریوں کا جائزہ لیا۔
اجلاس میں یاترا کے دوران سیکورٹی انتظامات، لاجسٹک سہولیات، ٹریفک کنٹرول، طبی سہولیات اور دیگر متعلقہ امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے افسران کو ہدایت دی کہ یاترا شروع ہونے سے قبل تمام انتظامات مکمل کر لیے جائیں اور یاتریوں کی سہولت اور حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں۔
دریں اثنا ملک بھر سے سینکڑوں کی تعداد میں سادھو جموں، جو کہ مندروں کا شہر کہلاتا ہے ، پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔
گزشتہ سال تقریباً۱۰ء۵لاکھ یاتریوں نے۳۸۸۰میٹر کی بلندی پر واقع امرناتھ کے مقدس غار میں قدرتی طور پر بننے والے برفانی شیو لنگم کا درشن کیا تھا۔
قابل ذکر ہے کہ مرکزی وزارت داخلہ نے اس سال یاترا کیلئے۵۸۰نیم فوجی کمپنیوں پر مشتمل تقریباً ۴۲ہزاراہلکاروں کی تعیناتی کا فیصلہ کیا ہے ۔ ان میں سے ۴۲۴کمپنیاں جموں و کشمیر روانہ کی جا رہی ہیں، جب کہ باقی یونٹس، جن میں وہ ۸۰کمپنیاں بھی شامل ہیں جو ‘آپریشن سندور’ کے دوران پہلے ہی یو ٹی میں تعینات تھیں، کو یاترا کے راستے ، سری نگر سمیت حساس علاقوں میں دوبارہ تعینات کیا جائے گا۔










